نیا سال نئے سوالات کا بوجھ اپنے ساتھ لاتا ہے۔ ہندی فلم انڈسٹری گذشتہ چند برس سے وطن پرستی کا کچا پکا شوربہ ابال کر ناظرین کے پیالوں میں انڈیل رہی ہے۔ کہیں کہیں رومانس کا ایک آدھ آلو نظر تیرتا نظر آتا ہے۔ سنا ہے انڈیا میں آلو کافی سستے ہو گئے ہیں، آئندہ برس آلو کی بھجیا بنے گی یا ہندوتوا کا شوربہ مزید پتلا ہو جائے گا؟ سال 2025 میں ایک طرف بڑے بجٹ کی ایکشن فلمیں باکس آفس اور سوشل میڈیا پر دھوم مچاتی رہیں تو دوسری طرف جذباتی کہانیاں سٹار پاور کو تھوڑا بہت چیلنج کرتی نظر آئیں۔ دھورندھر جیسی فلموں نے ثابت کیا کہ بالی وڈ اب ماس اپیل ایکشن میں پہلے سے زیادہ پراعتماد ہے اور ساؤتھ کے انداز سے ہٹ کر اچھی انٹرٹینگ ایکشن فلم بنا سکتا ہے۔ گذشتہ برس شاید ہی کوئی فلم دھورندھر سے زیادہ ڈسکس ہوئی ہو۔ آپ اسے شعلے سٹائل فلموں کے نئے رجحان کی نمائندہ فلم بھی کہہ سکتے ہیں۔ خیر کہنے کو تو کچھ بھی کہہ سکتے ہیں۔ رومانویت سے بھرپور جذباتی کہانیوں کی بات ہو تو موہت سوری کی سیارہ گردش میں رہی۔ کیا نوجوان نسل میں رومانس دیکھنے کی بھوک کم ہو رہی ہے؟ ایک خیال ہے کہ رومانوی فلم میں جس طرح محبت کے روایتی دھاگے سے کہانی کی جو شال بنی جاتی چولا ہے، نئی نسل اسے آؤٹ آف فیشن کہتے ہوئے اوڑھنے سے انکار کر دیتی ہے۔ نرم گرم سین دیکھنے کے لیے ٹک ٹاک بھری پڑی ہے، روز کا پوٹریٹ دیکھنے کے لیے آج کون ڈیڑھ گھنٹے کی ٹائٹینک دیکھے گا؟ سیارہ نے ایسے تصورات کو غلط ثابت کیا۔ محبت کے بارے میں نوجوان نسل کی حقیقت پسندی اپنی جگہ لیکن صدیوں سے بنتے آئے روایتی آئینے اتنے بھی دھندلے نہیں پڑے کہ جنریشن زی ان میں اپنا عکس نہ دیکھ سکے۔ اگر ایسا ہوتا تو موسیقی سننے والوں کی اتنی بڑی تعداد نہ ہوتی اور نوجوانوں میں وہی گیت پاپولر ہوتا ہے جس میں چھلکتے ہوئے رومانس کی مدھر خوشبو شامل ہو۔ سیارہ کی کہانی اور گیت بہت ہٹ رہے۔ خاص طور پر ٹائٹل سونگ تو رواں برس کے مقبول ترین گیتوں میں سے ایک ہے۔ ایکشن تھرلر اور رومانس سے زیادہ ثقافتی یاداشت کا مخصوص پراہن رواں برس بھی بالی وڈ میں چھایا رہا۔ ایسی فلموں کی نمائندگی ’چھاوا‘ کرتی ہے۔ ایسی فلموں سے جہاں تاریخی و سماجی مواد پراپیگنڈا بنتا ہے وہیں ریاست اور سینما کے گٹھ جوڑ کی بھی خبر ملتی ہے۔ 2025 میں بالی وڈ کے لیے خیر کی سب سے بڑی خبر یہی تھی کہ سلمان خان کی ’’سکندر‘ دلوں کو فتح نہ کر سکی۔ ’سردار ٹو‘ سمیت کئی ایسی فلمیں باکس آفس پر الٹی ہو گئیں جن سے بڑی توقعات وابستہ کی جا رہی تھیں۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ، ’بالی وڈ میں اب صرف سٹار پاور کافی نہیں رہی۔ خاص طور پر نوجوان ناظرین زیادہ چنندہ، زیادہ شعور رکھنے والے اور کمزور سکرپٹس کے معاملے میں کم برداشت والے ہو چکے ہیں۔‘ ستیہ جیت رے نے بالی وڈ ناظرین کے لیے ’سطحی‘ کا لفظ استعمال کیا تھا۔ نئی نسل انہی ناظرین کا تسلسل ہے اور اتنی ہی سطحی ہے۔ دنیا کے دیگر زبانوں کے سینما کی طرح یا ان سے کہیں زیادہ شعوری کوشش کے ساتھ بالی وڈ انڈسٹری اب ہائبرڈ سٹوری ٹیلنگ کے ماڈلز اپنا رہی ہے۔ پہلے فلمیں سینما میں ریلیز ہوتی ہیں، بعد میں او ٹی ٹی پلیٹ فارمز پر پہنچتی ہیں۔ اس میں ایک واضح رجحان یہ ہے کہ فلمیں پین انڈیا اور عالمی مارکیٹس کے لیے تیار کی جا رہی ہیں، تاکہ وہ متعدد زبانوں اور ثقافتوں کے ناظرین کو بھی اپنی طرف کھینچ سکیں۔ بہتر وی ایف ایکس، ورچوئل پروڈکشن اور بین الاقوامی تعاون ہندی سنیما کو عالمی معیار کی تیسرے درجے کی فلموں کے قریب لا رہا ہے۔ بالی وڈ کا زیادہ انحصار سیکوئلز اور سٹار پاور پر ہے۔ نئے تخلیقی دماغوں اور حقیقی کہانیوں کو فروغ نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس پس منظر میں 2026 کی فلمیں معمولی اہمیت اختیار کر جاتی ہیں۔ یکم جنوری کو ریلیز ہونے والی ’اکیس‘ سے بالی وڈ کے نئے سال کی ناکامیوں کا آغاز ہو گا۔ سری رام راگھون کی ہدایات کاری میں بننے والی یہ فلم 1971 کی جنگ میں ہلاک ہونے والے سیکنڈ لیفٹیننٹ ارون کھیتارپال کی زندگی پر مبنی ہے۔ یہ فلم جنگی مظاہرے سے زیادہ ذاتی بہادری اور انسانی جذبے پر فوکس کرتی ہے۔ فلم نوجوان سپاہیوں کے تجربے کو اجاگر کرتی ہے، ایک 21 سالہ سپاہی ناقابل تصور حد تک مشکل حالات کا سامنا کرتا ہے۔ ایسے وقت میں جب جنگی فلمیں اکثر نعرہ بازی اور دھماکوں کی طرف مائل ہو جاتی ہیں، کیا اکیس کچھ مختلف کرے گی؟ بالکل بھی نہیں۔ یقین نہ آئے تو فلم دیکھ لیجیے گا۔ بالی وڈ میں جیسے ہی کوئی فلم کامیابی کے پہلے پائیدان پر قدم رکھے پروڈیوسر سیکوئل بنانے کے لیے لائٹس آن کروا دیتا ہے۔ دھورندھر ٹو آج کل خبروں میں ہے جو ممکنہ طور پر رواں برس کے آخر میں ناظرین کے لیے پیش کی جائے گی۔ بالی وڈ ناظرین کے اندر جدید جاسوسی اور سیاسی تھرلرز کی بھوک موجود ہے۔ سیکوئل اسی دنیا کو وسیع کرنے، کرداروں کی زندگی کے مزید خفیہ گوشے سامنے لانے اور حب الوطنی کا شوربہ پتلا کرنے کے نیا قدم ہے۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) ’بیٹل آف گلوان‘ آج کل میڈیا کی توجہ کا مرکز ہے۔ سلمان خان کے مستقل کے حوالے سے یہ نہایت اہم فلم ہے جو سیاسی اور جذباتی دونوں حوالوں سے ناظرین کی ہمدردی سمیٹنے کی کوشش کرے گی۔ یہ فلم 2020 کے بھارت چین تصادم پر مبنی ہے، اور اس کا اصل مقصد ناظرین کو اس واقعے کی مخصوص تصویر دکھا کر آلوؤں کے امکانات مزید کم کرنا ہے۔ بالی وڈ میں ایک خوش آئند تبدیلی خواتین کا ایکشن فلموں میں مرکزی کردار ادا کرنا ہے۔ یش راج فلمز کی پہلی خاتون مرکز جاسوسی فلم ’الفا‘ میں مرکزی کردار عالیہ بھٹ کا ہے۔ سنجے لیلا بھنسالی کی ’لو اینڈ وار‘ وہ آلو ہے جس کی ہم نے بات کی۔ کیونکہ یہ فلم جنگ کے پس منظر میں ہے اس لیے دیکھنا ہو گا کہ آلو کس قدر شعبے کے وطن پرستانہ مرچ مسالے سے خود کو بچا کر اپنا الگ ذائقہ دے سکتا ہے۔ کیا جذبات کی شدت بھی سنیما میں اتنے ہی بڑا دھماکا کر سکتی ہے جتنا کوئی ایکشن تھرلر، یہ فلم اس حوالے سے کافی دلچسپ ہو گی۔ 2026 کا سب سے جرات مندانہ منصوبہ شاید ’رامائن‘ پارٹ ون ہے۔ ایک قدیم کہانی کو دوبارہ پیش کرنا، جس کا تعلق ثقافتی شعور سے ہو، ہمیشہ چیلنجنگ ہوتا ہے۔ امید ہے یہ فلم روایت اور ٹیکنالوجی کے درمیان ایک پل بنانے کی سنجیدہ اور کامیاب کوشش ہو گی۔ نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ بالی وڈ 2026 فلم سال 2025 میں ایک طرف بڑے بجٹ کی ایکشن فلمیں باکس آفس اور سوشل میڈیا پر دھوم مچاتی رہیں تو دوسری طرف جذباتی کہانیاں سٹار پاور کو تھوڑا بہت چیلنج کرتی نظر آئیں۔ فاروق اعظم جمعرات, جنوری 1, 2026 - 06:30 Main image:
انڈین فلمی اداکار ورون دھون (دائیں)، اہان شیٹی (درمیانی دائیں) اور سنی دیول (بائیں سے تیسرے) 16 دسمبر 2025 کو ممبئی میں اپنی ہندی جنگی فلم ’بارڈر 2‘ کے ٹیزر کی تقریب میں شریک ہیں (سجیت جیسوال / اے ایف پی)
ایشیا type: news related nodes: 2026: نکھرنے یا بکھرنے کا سال؟ لاہور میں بسنت 2026: تین روزہ پتنگ بازی کے قواعد جاری تحریک انصاف 2026 میں کوئی سیاسی راستہ نکال پائے گی؟ ’سنکاراز‘ 2026 میں ٹینس پر غلبے کے لیے تیار SEO Title: سال 2026: بالی وڈ کی ہنڈیا میں کیا کچھ پک رہا ہے؟ copyright: show related homepage: Hide from Homepage