نائن الیون سے چیٹ جی پی ٹی تک: 25 سال میں دنیا کتنی بدلی؟

تیسرے ہزاریے کی پہلی چوتھائی صدی ایسے فیصلہ کن واقعات سے بھری ہوئی ہے جنہوں نے انسانی تاریخ پر گہرے نقوش چھوڑے اور کئی حوالوں سے اس کا رخ موڑ دیا۔ وقت کے اس سفر میں ہم ایک ساتھ 25 سال پیچھے جا رہے ہیں تاکہ 2000 اور 2025 کے درمیان دنیا میں پیش آنے والے 25 اہم ترین واقعات کو دوبارہ یاد کر سکیں۔ 1 ڈاٹ کام ببل 90 کی دہائی کے آخر میں انٹرنیٹ کے استعمال میں اضافے کے ساتھ ہی انٹرنیٹ کے شعبے میں کام کرنے والی کمپنیوں میں سرمایہ کاری کا سیلاب امڈ آیا، یہاں تک کہ ان کمپنیوں میں بھی سرمایہ کاری کی گئی جن کے پاس نہ کوئی منافع تھا اور نہ ہی کوئی حقیقی منصوبہ۔ ٹیکنالوجی کمپنیوں کے حصص کی قیمتیں مبالغہ آرائی اور سٹے بازی کی وجہ سے بے تحاشا بڑھ گئیں اور مارچ 2000 میں اپنی انتہا کو پہنچ گئیں۔ تب حقیقت کھلنا شروع ہوئی کہ ان میں سے زیادہ تر کمپنیاں منافع کما ہی نہیں رہی تھیں۔ اس کے نتیجے میں مارکیٹ گر گئی جس سے کھربوں ڈالر کا نقصان ہوا اور بہت سی نئی کمپنیاں دیوالیہ ہو گئیں جسے ’ڈاٹ کام ببل‘ کے نام سے جانا گیا۔ تاہم ’ایمیزون‘ اور ’گوگل‘ جیسی بڑی کمپنیاں بچ گئیں اور بعد میں ٹیکنالوجی کی مارکیٹ پر غلبہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئیں۔ یہ بلبلہ غیر دانشمندانہ سرمایہ کاری میں ایک سبق کی حیثیت رکھتا ہے اور اس نے کمزور کمپنیوں کو ختم کر کے اور منافع بخش دیو ہیکل کمپنیوں کے ابھرنے کی راہ ہموار کر کے آج کی ٹیکنالوجی کی صنعت کو تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ 2 ولادی میر پوتن کی انٹری سال 2000 میں ولادی میر پوتن نے پہلی بار روس کی صدارت سنبھالی جب بورس یلسن نے انہیں اپنا جانشین بنانے کے لیے حمایت دی۔ پوتن مختلف عوامی عہدوں پر فائز رہے یہاں تک کہ 1998 میں روسی فیڈرل سکیورٹی سروس (FSB) کے سربراہ بنے، پھر 1999 میں یلسن نے انہیں وزیر اعظم مقرر کیا۔ 26 اکتوبر 2025 کو روسی صدارتی پریس آفس کی جانب سے جاری کردہ ویڈیو سے لی گئی اس تصویر میں روس کے صدر ولادی میر پوتن مشترکہ افواج کے ایک کمانڈ پوسٹ کے دورے کے دوران گفتگو کر رہے ہیں (روسی صدارتی پریس آفس) 31 دسمبر 1999 کو یلسن کے استعفے کے بعد پوتن قائم مقام صدر بن گئے اور مئی 2000 کے صدارتی انتخابات میں باضابطہ طور پر اس عہدے پر فائز ہو گئے۔ انہوں نے نوے کی دہائی کی شدید افراتفری کے بعد طاقت کے مظاہرے اور استحکام کے وعدے کی بدولت اپنی تیزی سے بڑھتی ہوئی مقبولیت کا فائدہ اٹھایا۔ 3 نائن الیون 11 ستمبر 2001 کی صبح امریکی اور پوری دنیا ایک ایسے واقعے پر بیدار ہوئی جس نے 21 ویں صدی کا رخ بدل دیا۔ اس دن تنظیم ’القاعدہ‘ نے امریکہ کی سرزمین پر چار مسافر بردار طیاروں کے ذریعے مربوط دہشت گردانہ حملوں کا سلسلہ شروع کیا، جنہیں اس کے 19 ارکان نے ہائی جیک کیا تھا۔ ہائی جیکرز دو طیارے لے کر نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے ٹاورز کی طرف گئے اور ٹکرانے سے وہ گر گئے۔ تیسرا طیارہ پینٹاگون کی عمارت سے ٹکرایا جبکہ چوتھا طیارہ پنسلوانیا میں گر کر تباہ ہو گیا جب مسافروں نے ہائی جیکرز کو اپنا منصوبہ مکمل کرنے سے روکنے کی کوشش کی۔ ان چاروں حملوں میں تقریباً 3 ہزار افراد جان سے گئے۔ یہ امریکی خارجہ پالیسی اور نتیجتاً بین الاقوامی سیاست میں ایک اہم موڑ ثابت ہوا، جس نے واشنگٹن کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کا اعلان کرنے پر مجبور کیا۔ 4 افغانستان پر امریکی حملہ 11 ستمبر کے حملوں کے ایک ماہ سے بھی کم عرصے بعد 7 اکتوبر 2001 کو امریکہ نے ایک بین الاقوامی اتحاد کی سربراہی کرتے ہوئے افغانستان پر ’آپریشن اینڈیورنگ فریڈم‘ کے نام سے فوجی مہم شروع کی۔ اس کا مقصد ’القاعدہ‘ کا خاتمہ اور ’طالبان‘ کی حکومت کا تختہ الٹنا تھا جس نے دہشت گرد تنظیم اور اس کے رہنما اسامہ بن لادن کو پناہ اور سرپرستی فراہم کی تھی۔ دسمبر تک طالبان حکومت گر گئی لیکن تنازع جاری رہا کیونکہ تحریک اور القاعدہ کے جنگجو ملک کے اندر محفوظ پناہ گاہوں کی طرف فرار ہو گئے اور افغانستان میں امریکی افواج اور اس کے اتحادیوں کے خلاف مسلح بغاوت شروع کر دی۔ یہ تصادم بیرون ملک امریکہ کی سب سے طویل جنگ بن گئی جو 20 سال تک جاری رہی اور اگست 2021 میں امریکی افواج کے انخلا کے بعد طالبان کی اقتدار میں واپسی پر ختم ہوئی۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) 5 عراق پر امریکی حملہ سال 2003 مشرق وسطیٰ اور دنیا کی تاریخ میں ایک اہم موڑ ثابت ہوا۔ ستمبر 2001 کے دھماکوں کے بعد دہشت گردی کے خلاف شروع کی گئی جنگ کے تناظر میں امریکہ نے برطانیہ کے ساتھ اتحاد کر کے 20 مارچ 2003 کو عراق پر مکمل حملہ کر دیا۔ اس کا اعلانیہ مقصد تباہ کن ہتھیاروں (WMDs) کا خاتمہ اور صدام حسین کی حکومت کا خاتمہ بتایا گیا۔ فوجی مہم نے حکومت کو تیزی سے گرا دیا لیکن مبینہ ہتھیار تلاش کرنے میں بالکل ناکام رہی۔ اس حملے کے نتیجے میں برسوں تک عدم استحکام، فرقہ وارانہ تشدد اور بغاوت کا سلسلہ جاری رہا جس نے عراق کے سیاسی منظرنامے کو بدل دیا اور امریکی خارجہ پالیسی اور مشرق وسطیٰ کے واقعات کے رخ پر گہرا اثر چھوڑا۔ 6 سونامی 26 دسمبر 2004 کو دنیا نے جدید انسانی تاریخ کی سب سے مہلک قدرتی آفات میں سے ایک کا مشاہدہ کیا۔ اس دن بحر ہند میں ایک زبردست زلزلے کے نتیجے میں سونامی کی لہریں اٹھیں جس کی شدت ریکٹر سکیل پر 9.1 سے 9.3 کے درمیان تھی۔ (اے ایف پی) یہ زلزلہ انڈونیشیا کے ساحل سماٹرا کے قریب سمندر کے نیچے آیا اور اس نے 30 میٹر تک بلند سونامی کی لہریں پیدا کیں جنہوں نے انڈونیشیا، سری لنکا، انڈیا، تھائی لینڈ اور دیگر ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس کے نتیجے میں 14 ممالک میں 2 لاکھ 20 ہزار افراد جان سے گئے، لاکھوں بے گھر ہوئے اور ساحلی آبادیاں مکمل طور پر تباہ ہو گئیں۔ اس آفت نے دنیا بھر میں امدادی کوششوں کو متحرک کیا اور ممالک کو بحر ہند میں سونامی کے لیے ارلی وارننگ سسٹم قائم کرنے پر مجبور کیا۔ 7 پہلا آئی فون 2007 میں امریکی کمپنی ’ایپل‘ نے پہلا ’آئی فون‘ متعارف کرایا جس سے جدید سمارٹ فونز کے دور کا آغاز ہوا۔ گھر سے کام کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کسی سے رابطہ نہ رکھیں۔ (پکسابے) آئی فون نے ایک بڑی ملٹی ٹچ سکرین، مکمل انٹرنیٹ براؤزنگ کا تجربہ اور قلم کی ضرورت کے بغیر سادہ یوزر انٹرفیس پیش کر کے فون کی دنیا میں انقلاب برپا کر دیا۔ آئی فون کا اجرا فون ٹیکنالوجی میں ایک اہم موڑ تھا جس نے حریف کمپنیوں کو متاثر کیا اور ان ایپلیکیشنز اور ٹچ سکرین ماڈلز کی راہ ہموار کی جو آج دنیا بھر میں استعمال ہو رہے ہیں۔ 8 عالمی مالی بحران 2008 میں دنیا کے ممالک نے ایک ایسے مالی بحران کا سامنا کیا جو ’گریٹ ڈپریشن‘ کے بعد سب سے شدید اقتصادی بحران تھا۔ اس کا آغاز امریکہ میں ہاؤسنگ مارکیٹ کے خاتمے اور ہائی رسک مارگیج (رہن) کی ناکامی کے نتیجے میں ہوا جس سے بڑے مالیاتی ادارے دیوالیہ ہو گئے یا انہیں حکومتی بیل آؤٹ لینے پر مجبور ہونا پڑا۔ یہ بحران تیزی سے دنیا بھر میں پھیل گیا جس سے ملازمتوں کا بڑے پیمانے پر نقصان ہوا، بین الاقوامی تجارت میں شدید گراوٹ آئی اور بہت سے ممالک میں گہری معاشی مندی پیدا ہوئی۔ اس نے بہت سے مالیاتی قوانین کو تبدیل کر دیا اور عالمی اقتصادی نظام میں بڑی کمزوریوں کو بے نقاب کیا۔ 9 سوشل میڈیا 2004 میں فیس بک کی لانچ کے ساتھ سوشل میڈیا کا باضابطہ آغاز ہوا اور ایک ایسا دور شروع ہوا جس میں لوگ اپنی تصویریں، اپنے مشغلے اور مصروفیات سب کے ساتھ شیئر کرنے لگے۔ اس سے قبل لوگ اپنی تصویریں تو دور کی بات، اصل نام تک شیئر کرنے سے کتراتے تھے۔ اب دنیا کی تین ارب آبادی، یعنی کل آبادی کا تقریباً 40 فیصد فیس بک استعمال کرتا ہے۔ فیس بک کے ساتھ اس کی دوسری پراڈکٹس انسٹا گرام اور وٹس ایپ نے بھی دنیا پر گہرے اثرات چھوڑے ہیں۔ 10 عرب سپرنگ دسمبر 2010 میں تیونس کے ایک ٹھیلے والے محمد البوعزیزی نے پولیس کی زیادتیوں اور مشکل معاشی حالات کے خلاف احتجاجاً خود کو آگ لگا لی۔ اس واقعے نے تیونس میں غم و غصے اور وسیع مظاہروں کی لہر کو ہوا دی جو صدر زین العابدین بن علی کی حکومت کے خاتمے پر منتج ہوئی جنہوں نے تقریباً 24 سال ملک پر حکومت کی۔ احتجاج کی یہ چنگاری جلد ہی دوسرے عرب ممالک میں بھی پھیل گئی جہاں سیاسی تبدیلی، سماجی انصاف اور بدعنوانی کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا جسے ’عرب بہار‘ (Arab Spring) کے نام سے جانا گیا۔ یہ جدید مشرق وسطیٰ کی تاریخ میں سب سے نمایاں سیاسی تبدیلیوں میں سے ایک ہے۔ 11 وٹس ایپ مئی 2009 میں ایک سروس شروع ہوئی جس میں آن لائن فون کالز کی جا سکتی تھیں۔ اس سے پہلے دوسرے ملک فون کرنا انتہائی مہنگا ہوتا تھا مگر وٹس ایپ نے یہ سب کچھ بدل دیا۔ اس کے بعد سے وٹس ایپ روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ بن گیا ہے اور سمجھ نہیں آتی کہ لوگ اس کے بغیر زندگی کیسے گزارتے تھے۔ چاہے وہ گھریلو گروپس ہوں یا دفتری گروپ، معلومات، تصاویر اور ویڈیوز کی فوری ترسیل کے لیے وٹس ایپ سے بہتر کوئی ذریعہ نہیں۔ 12 اسامہ بن لادن کا قتل 11 ستمبر 2001 کے حملوں کے 10 سال بعد امریکی افواج بالآخر ’القاعدہ‘ کے رہنما اسامہ بن لادن تک پہنچنے اور انہیں 2 مئی 2011 کو مارنے میں کامیاب ہو گئیں۔ اسامہ بن لادن 26 مئی 1998 کو افغانستان میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کر رہے ہیں (روئٹرز/فائل فوٹو) OsamabinLaden.JPG, by Reuters یہ کارروائی امریکی نیوی سیلز نے پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں کی۔ ان کی موت دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں ایک اہم لمحہ تھی اور اسے بڑے پیمانے پر ’القاعدہ‘ کے خلاف جنگ میں امریکہ کی ایک بڑی کامیابی سمجھا گیا۔ 13 ہگز بوزون کی دریافت چار جولائی 2012 کو یورپی نیوکلیئر ریسرچ سینٹر (CERN) کے سائنسدانوں نے ’ہگز بوزون‘ نامی ایک نئے ذرے کی دریافت کا اعلان کیا جسے ایک عظیم دریافت قرار دیا گیا۔ یہ ذرہ وضاحت کرتا ہے کہ دوسرے ذرات اپنا ماس (کمیت) کیسے حاصل کرتے ہیں جو پارٹیکل فزکس کے سٹینڈرڈ ماڈل کے ایک بنیادی حصے کی تصدیق کرتا ہے۔ یہ کائنات کے بنیادی اجزاء کو سمجھنے کے لیے ایک بڑا سائنسی قدم تھا۔ 14 داعش کی ابتدا 2013 میں دنیا ایک ایسی نئی انتہا پسند تنظیم سے متعارف ہوئی جس نے اپنے انتہائی وحشیانہ طریقوں سے دہشت پھیلا دی جس میں دشمنوں کو زندہ ذبح کرنا اور جلانا شامل تھا۔ تنظیم ’داعش‘ (ISIS) شام اور عراق کی جنگ میں ایک بڑی طاقت کے طور پر ابھری۔ یہ اصل میں عراق میں ’القاعدہ‘ کی ایک شاخ تھی لیکن اس نے تیزی سے توسیع کی اور شام کے شہروں پر بھی قبضہ کر لیا اور 2014 میں ’خلافت‘ کے قیام کا اعلان کیا۔ یہ تنظیم اپنے پرتشدد طریقوں اور جرائم کے لیے مشہور ہوئی جن میں اجتماعی پھانسیاں، دہشت گردی اور اقلیتوں کا ظلم و ستم شامل ہے۔ 15 سنوڈن کے انکشافات اسی سال امریکی نیشنل سکیورٹی ایجنسی کے سابق ملازم ایڈورڈ سنوڈن نے خفیہ دستاویزات افشا کیں جن سے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے استعمال کیے جانے والے وسیع پیمانے پر عالمی نگرانی کے پروگراموں کا انکشاف ہوا۔ لیکس سے پتہ چلا کہ حکومتیں شہریوں کے نجی مواصلاتی ڈیٹا کی بڑی مقدار جمع کر رہی تھیں جس نے رازداری، سکیورٹی اور حکومتی شفافیت کے بارے میں عالمی بحث چھیڑ دی۔ سنوڈن کی لیکس نے ٹیکنالوجی، قانون اور بین الاقوامی تعلقات پر گہرا اثر ڈالا جس کی وجہ سے انہیں فرار ہو کر روس میں پناہ لینی پڑی جہاں 2022 میں صدر ولادیمیر پوتن کے حکم سے انہیں شہریت دی گئی۔ 16 روس کا کرائمیا کا الحاق یوکرین کے انقلاب اور ماسکو نواز صدر وکٹر یانوکووچ کی برطرفی کے بعد روس نے مارچ 2014 میں ایک متنازع ریفرنڈم کے بعد یوکرین کے جزیرہ نما کرائمیا کا الحاق کر لیا جسے عالمی برادری نے غیر قانونی قرار دیا۔ اس اقدام سے روس اور مغرب کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا اور مشرقی یوکرین میں تنازع چھڑ گیا جس کے نتیجے میں روس پر مغربی پابندیاں عائد کی گئیں۔ 17 پیرس معاہدہ دسمبر 2015 میں دنیا کے ممالک بالآخر ایک ماحولیاتی معاہدے پر پہنچے جسے ’پیرس موسمیاتی معاہدہ‘ کہا جاتا ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک تاریخی قدم تھا۔ معاہدے کا مقصد زمین کے درجہ حرارت میں اضافے کو 2 ڈگری سینٹی گریڈ سے کم تک محدود کرنا اور اسے 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک محدود کرنے کی کوشش کرنا تھا۔ ممالک نے اخراج (Emissions) کو کم کرنے، موسمیاتی تبدیلیوں کے مطابق ڈھلنے کی کوششوں کو بڑھانے اور پیش رفت کی باقاعدہ رپورٹس پیش کرنے کا عہد کیا۔ یہ معاہدہ ماحولیاتی مسائل پر بین الاقوامی تعاون میں ایک اہم قدم تھا۔ 18 بریگزٹ جون 2016 میں برطانیہ نے یورپی یونین میں رہنے یا نکلنے کے بارے میں ایک تاریخی ریفرنڈم منعقد کیا جس کا نتیجہ نکلنے والے کیمپ کی جیت کی صورت میں نکلا جسے 52 فیصد ووٹ ملے۔ اس ووٹ نے برطانیہ کے اندر سیاسی ہلچل مچا دی اور وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کو استعفیٰ دینا پڑا۔ اس کے بعد ایک پیچیدہ مذاکراتی عمل شروع ہوا جو کئی سال تک جاری رہا اور جنوری 2020 میں یورپی یونین سے برطانیہ کے باضابطہ انخلا (Brexit) پر ختم ہوا۔ 19 ٹرمپ کی فتح ایک بڑی سیاسی حیرت میں نومبر 2016 میں ڈونلڈ ٹرمپ نے ڈیموکریٹک امیدوار ہیلری کلنٹن کو شکست دے کر امریکی صدارتی انتخاب جیت لیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 17 دسمبر 2025 کو ڈیلاویئر میں ڈوور ایئر فورس بیس سے واپسی پر جوائنٹ بیس اینڈریوز پر ایئر فورس ون سے اترنے کے بعد صحافیوں سے بات کر رہے ہیں (اینڈریو کیبلیرو۔رینولڈز / اے ایف پی) اگرچہ ہیلری کلنٹن نے زیادہ عوامی ووٹ حاصل کیے تھے لیکن ٹرمپ نے سوئنگ سٹیٹس کے ووٹ حاصل کر کے اور الیکٹورل کالج میں اکثریت حاصل کر کے صدارت جیتی۔ ان کی جیت امریکی سیاست میں ایک اہم تبدیلی تھی کیونکہ وہ ایک پاپولسٹ (عوامی مقبولیت پسند) بیانیے اور تجارتی و امیگریشن پالیسیوں کو تبدیل کرنے کے وعدوں کے ساتھ آئے تھے جس نے روایتی سیاسی اشرافیہ سے ووٹرز کی ناراضگی کا اظہار کیا۔ 20 می ٹو تحریک 2017 میں ’می ٹو‘ (MeToo) تحریک نے عالمی زور پکڑا جب بہت سی خواتین نے ہالی ووڈ پروڈیوسر ہاروی وائنسٹین پر ہراسانی اور جنسی زیادتی کا الزام لگایا۔ سماجی کارکن ترانہ برک کی طرف سے سالوں پہلے بنایا گیا ہیش ٹیگ ’#MeToo‘ سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر پھیل گیا اور لاکھوں خواتین اور مردوں نے ہراسانی اور جنسی زیادتی کے ساتھ اپنے تجربات شیئر کیے۔ اس تحریک نے کام کی جگہوں پر نامناسب رویے کے بارے میں عالمی بحث چھیڑ دی، متاثرین کو بولنے کی طاقت دی اور بہت سے شعبوں میں بڑی سماجی اور قانونی تبدیلیوں کا باعث بنی۔ 21 کووڈ 19 2019 کے آخر میں چین کے شہر ووہان میں پہلی بار ’کووڈ-19‘ وائرس کا پتہ چلا جو سانس کی شدید بیماریوں کا سبب بن رہا تھا۔ یہ جلد ہی عالمی سطح پر پھیل گیا اور صحت کی دیکھ بھال کے نظام کو تھکا دیا۔ 11 مارچ 2020 کو عالمی ادارہ صحت نے باضابطہ طور پر ’کووڈ-19‘ کو عالمی وبا قرار دیا۔ اس کے بعد دنیا بھر کی حکومتوں نے غیر معمولی اقدامات کیے جن میں قرنطینہ، لاک ڈاؤن، سفری پابندیاں اور سماجی دوری شامل ہیں جس نے عالمی سطح پر معیشتوں، معاشروں اور روزمرہ کی زندگی پر گہرا اثر چھوڑا۔ 22 طالبان کی واپسی اگست 2021 میں تقریبا 20 سال کی فوجی موجودگی کے بعد امریکی اور نیٹو افواج کے انخلا کے ساتھ ہی طالبان نے افغانستان کا کنٹرول دوبارہ حاصل کر لیا۔ طالبان کے تیزی سے اقتدار پر قبضے کے نتیجے میں افغان حکومت گر گئی اور انخلا کا عمل افراتفری کا شکار ہو گیا جس سے انسانی حقوق، خاص طور پر خواتین اور اقلیتوں کے حقوق کے بارے میں عالمی تشویش پیدا ہوئی۔ یہ واقعہ علاقائی سلامتی میں ایک بڑی تبدیلی اور افغانستان کے مستقبل کے بارے میں سوالات کا باعث بنا۔ 23 روس کا یوکرین پر حملہ 24 فروری 2022 کو روس نے یوکرین پر مکمل حملہ کر دیا جس سے 2014 میں کریمیا اور مشرقی یوکرین کے حوالے سے شروع ہونے والا تنازع شدت اختیار کر گیا۔ 18 اگست 2025 کو یوکرین کی صدارتی پریس سروس کی طرف سے جاری کی گئی اس ہینڈ آؤٹ تصویر میں یوکرین کے صدر وولودی میر زیلنسکی کو واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ملاقات کے دوران دکھایا گیا ہے۔ (اے ایف پی) حملے میں کئی محاذوں پر حملے شامل تھے اور روسی افواج کیف کے مضافات تک پہنچ گئیں لیکن یوکرین کی مزاحمت کے تحت انہیں پیچھے ہٹنا پڑا۔ اب تک جاری رہنے والے اس تنازع کے نتیجے میں ہزاروں شہری اور فوجی جان سے گئے، بڑے پیمانے پر نقل مکانی ہوئی ہے اور یوکرین میں انفراسٹرکچر کی بڑی تباہی ہوئی ہے۔ اس نے عالمی معاشی ہلچل پیدا کی جس نے مغربی ممالک کو روس پر پابندیاں عائد کرنے پر مجبور کیا اور یورپی ممالک کو دوبارہ مسلح ہونے پر اکسایا جبکہ فن لینڈ اور سویڈن نیٹو میں شامل ہو گئے۔ 24 چیٹ جی پی ٹی کی آمد جس ٹول نے دنیا کو سب سے زیادہ بدلا، وہ مصنوعی ذہانت ہے، جو اب  سب سے زیادہ 2023 میں جنریٹو آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے ٹولز میں غیر معمولی تیزی دیکھی گئی جس نے دفتروں، تعلیمی اداروں اور روزمرہ کی زندگی کو بدل دیا۔ صارفین کی سادہ پرامپٹس پر متن، تصاویر اور ویڈیو بنانے والے ٹولز بڑے پیمانے پر دستیاب ہو گئے اور کمپنیاں اور افراد انہیں استعمال کرنے لگے۔ اس سے جدت اور سرمایہ کاری کی ایک بے مثال لہر پیدا ہوئی۔ اے آئی کی تیزی سے ترقی نے اخلاقیات، ملازمتوں اور ضابطہ کاری کے بارے میں فوری سوالات اٹھائے جس سے اس پر عالمی بحث شروع ہوئی کیونکہ یہ تجرباتی لیبارٹریوں سے عام معاشرے میں مصنوعی ذہانت کی منتقلی کا ایک اہم موڑ تھا۔ 25 حماس کا اسرائیل پر حملہ سات اکتوبر 2023 فلسطینی اسرائیلی تنازع کی تاریخ میں ایک غیر معمولی دن تھا۔ اس دن صبح سویرے اسرائیلی ’حماس‘ کے ایک بڑے اور غیر معمولی حملے پر بیدار ہوئے جس نے غزہ کی سرحد پر اسرائیلی جانب سرحدی بستیوں، فوجی اڈوں اور ایک میوزک فیسٹیول کو نشانہ بنایا۔ حملے کے دوران تحریک نے ہزاروں راکٹ فائر کیے اور اس کے ارکان سرحد پار کر کے داخل ہوئے جس کے نتیجے میں 1200 افراد جان سے گئے ہوئے جن میں اکثریت عام شہریوں کی تھی جبکہ 240 سے زائد کو یرغمال بنا لیا گیا۔ اسرائیل نے جواب میں غزہ کی پٹی پر مکمل جنگ کا اعلان کر دیا جس کے نتیجے میں فلسطینی حکام کے مطابق 70 ہزار افراد جان سے گئے، ہزاروں زخمی ہوئے اور لاکھوں بے گھر ہوئے۔ جنگ نے غزہ کی پٹی میں عمارتوں، عوامی سہولیات اور انفراسٹرکچر کو بڑے پیمانے پر تباہ کر دیا۔ (بشکریہ انڈپینڈنٹ اردو) 2025 نائن الیون بریگزٹ اسامہ بن لادن کووڈ 19 غزہ پر اسرائیلی حملہ چیٹ جی پی ٹی آئی فون ولادی میر پوتن 2025 کے اختتام کے ساتھ ہی 21ویں صدی کی ایک چوتھائی حصہ مکمل ہو گیا۔ اس دوران 25 ایسے کون سے واقعات پیش آئے جنہوں نے دنیا کو بدل کر رکھ دیا؟ انڈپینڈنٹ اردو جمعرات, جنوری 1, 2026 - 07:45 Main image:

فائل فوٹو میں یونائیٹڈ ایئرلائنز کی پرواز 175 کو 11 ستمبر 2001 کو نیویارک کے لوئر مین ہیٹن میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے جنوبی ٹاور کی جانب بڑھتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جبکہ شمالی ٹاور سے دھواں اٹھ رہا ہے (سیٹھ میکالسٹر / اے ایف پی)

دنیا type: news related nodes: قتل، تنہائی اور آفات: 2025 کی وہ خبریں جن پر پورا ملک گونج اٹھا موسمیاتی آفات سے 2025 میں دنیا کو 120 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان 2025: پاکستانی فلمیں دوبارہ عروج پانے میں ناکام گوگل کے بجائے ٹک ٹاک: 2025 میں پاکستانیوں نے کیا تلاش کیا؟ SEO Title: نائن الیون سے چیٹ جی پی ٹی تک: 25 سال میں دنیا کتنی بدلی؟ copyright: Display mode: meta header middle show related homepage: Hide from Homepage