2026: نکھرنے یا بکھرنے کا سال؟

سال 2025  نے پاکستان کو یوں تو چند لمحوں کے لیے سکون کی سانسیں ضرور دیں، جس کی وجہ معاشی اشاروں میں ہلکی سی امید اور غیر یقینی کے گھنے بادلوں میں کچھ روشنی تھی، مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ بڑے، بنیادی اور دیرینہ چیلنج جنہوں نے برسوں سے اس قوم کے قدموں کو آگے بڑھنے سے روک رکھا ہے، آج بھی اپنی پوری شدت کے ساتھ ہمارے سامنے کھڑے ہیں۔ اسی لیے 2026 ایک ایسا سال محسوس ہوتا ہے جس کے دامن میں آزمائش گہرے بادل بھی ہیں اور امکانات کی چمکتی ہوئی کرن بھی۔ دہشت گردی کی عفریت، جو کبھی پیچھے ہٹتی یا معدوم ہوتی دکھائی دیتی تھی، گذشتہ برس پھر سے سر اٹھانے لگی اور ملک کے طول و عرض میں، یہاں تک کہ اسلام آباد میں بھی ایک مہلک حملہ ہوا۔ عسکریت پسندوں نے یہ واضح پیغام دیا کہ وہ اب بھی حملے کی قوت رکھتے ہیں اور امن کا سفر ابھی مکمل نہیں ہوا۔ اگرچہ ریاست اپنی پوری طاقت کے ساتھ ان کے خلاف کارروائی کر رہی ہے، لیکن اندرونی تقسیم اور سیاسی پیچیدگیوں کی وجہ سے مکمل کامیابی کا حصول آسان نہیں۔ 2025   میں جاری سیاسی کشیدگی، معاشی اضطراب اور خطے کی بدلتی ہوا نے عوام کے حوصلوں کو جھنجھوڑ دیا ہے اور یہ طوفان ابھی پوری طرح تھما نہیں۔ اصل سوال یہ نہیں کہ مشکلات موجود ہیں یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم اس سفر کو کتنی حکمت، کتنی برداشت اور کتنی بصیرت سے طے کرتے ہیں۔ 2026 محض ایک عام سال نہیں، یہ ایک آئینہ ہے جس میں ہم خود کو بھی دیکھ سکتے ہیں اور اپنے مستقبل کو بھی۔ اگر گہرے معاشی چیلنجز میں روشنی کی کرن ہاتھ آ جائے، سیاسی کشمکش کا درجہ حرارت کچھ کم ہو سکے اور عسکریت پسندی کا جن قومی یکجہتی کے زور سے دوبارہ قابو میں لایا جا سکے تو یہ سال ایک نئے موڑ کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔ ورنہ سفر لمحہ بہ لمحہ کٹھن تر ہوتا چلا جائے گا۔ معیشت کے میدان میں 2026 شاید سب سے کڑا امتحان ہوگا۔ عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ نئے پروگرام، ٹیکس اصلاحات کے بھاری بوجھ سے عوام کو بچانے کی کوششیں، توانائی کے نرخوں میں ردوبدل اور درآمدات میں کمی جیسے فیصلے حکومت کے لیے آسان نہیں ہوں گے۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) مہنگائی کی شرح اگرچہ کچھ حد تک سست ہو سکتی ہے، مگر عام آدمی کے لیے زندگی کی قیمت اب بھی بلند اور مشکل ہے۔ روزگار کی راہیں اب بھی کسی بڑے پالیسی فیصلے کے منتظر ہیں۔ یہ معاشی چیلنج محض اعداد و شمار یا گراف کی اتار چڑھاؤ تک محدود نہیں، بلکہ یہ وہ فیصلے ہیں جو روزمرہ زندگی پر براہِ راست اثر ڈال رہے ہیں۔ یہ مسائل صرف اعداد و شمار تک محدود نہیں ہیں بلکہ عام لوگوں کی روزمرہ زندگی پر اثر انداز ہو رہے ہیں ان کا حل صرف نئی پالیسیوں یا اصلاحات میں نہیں، بلکہ سیاسی استحکام، مضبوط ادارے، اور توانائی و برآمدات میں طویل مدتی حکمت عملی میں چھپا ہوا ہے۔ سیاسی منظرنامہ بھی یہ سال کم پیچیدہ نہیں۔ ملک کی سب سے بڑی ضرورت استحکام ہے، مگر 2026 میں بھی محاذ آرائی کے ختم ہونے کے کوئی پختہ آثار نظر نہیں آتے۔ سیاسی جماعتوں کے اندرونی اختلافات، قیادتوں کی چپقلش اور بیانیوں کی تلخی نے قوم کی سمت طے کرنا مشکل بنا دیا ہے۔ عوام ایک ایسے دوراہے پر کھڑے ہیں جہاں ہر راستہ دھندلا ہے اور ہر فیصلہ غیر یقینی کے سائے میں ہے۔ اگر مکالمے اور برداشت کے در بند ہی رہیں تو سیاسی عدم استحکام آنے والے دنوں کی روشنی کو بھی مدھم کر دے گا، مگر اگر بالغ نظری کے چراغ جل اٹھیں تو سیاسی سکون کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے اور اسی بنیاد پر معیشت اور ریاست مضبوط ہو سکتی ہے۔ تمام تر مشکلات کے باوجود پاکستان کے پاس مواقع کی کمی نہیں۔ نوجوان آبادی، ڈیجیٹل معیشت، فری لانسنگ کی تیز رفتار دنیا، زرعی اصلاحات، توانائی کے نئے ذرائع، خطے میں بڑھتی تجارتی راہیں اور بیرونی سرمایہ کاری کے وعدے، یہ سب مستقبل کے نقشے میں امید کی کرنیں ہیں۔ اگر سیاسی درجہ حرارت کم کیا جائے اور فیصلوں میں تسلسل قائم رہے، تو 2026 صرف ایک مشکل سال نہیں بلکہ ایک نئی سمت کی ابتدا بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ 2026   یقیناً آسان نہیں۔ مگر یہ وہ سال ضرور ہو سکتا ہے جو ہمیں مجبور کرے کہ ہم اپنی ترجیحات واضح کریں، اپنا راستہ نئے سرے سے دیکھیں اور امکانات کے دروازوں پر دوبارہ دستک دیں۔ شاید یہی سال کی اصل امید ہے یہ لمحہ جو ہمیں بکھرنے کے بجائے نکھرنے کا موقع دے۔ نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ پاکستان 2026 2025 نقطہ نظر 2026 محض ایک عام سال نہیں، یہ ایک آئینہ ہے جس میں ہم خود کو بھی دیکھ سکتے ہیں اور اپنے مستقبل کو بھی۔ محمد اشتیاق جمعرات, جنوری 1, 2026 - 06:30 Main image:

وزیر اعظم شہباز شریف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو 22 میی 2025 کو ایوان صدر اسلام آباد میں نئے عہدے کا بیٹن دیتے ہوئے دیکھے جاسکتے ہیں۔ صدر مملکت آصف علی زرداری بھی موجود ہیں (پی آئی ڈی)

نقطۂ نظر type: news related nodes: 2025 اور پاکستانی عدلیہ: جب سپریم کورٹ سپریم نہ رہی خیبر پختونخوا 2025: دہشت گردی کے 1588 واقعات، 54 ڈرون حملے، پولیس قتل، تنہائی اور آفات: 2025 کی وہ خبریں جن پر پورا ملک گونج اٹھا گوگل کے بجائے ٹک ٹاک: 2025 میں پاکستانیوں نے کیا تلاش کیا؟ SEO Title: 2026: نکھرنے یا بکھرنے کا سال؟ copyright: show related homepage: Hide from Homepage