اسلام آباد: 26 ویں اور 27 ویں آئینی ترامیم کی منظوری کے بعد سال 2025 عدلیہ کی آزادی کے لیے بدتر سال کے طور پر یاد کیا جا رہا ہے۔ پورے سال کے دوران انتظامیہ اعلیٰ عدلیہ پر حاوی رہی ہے۔ 26ویں آئینی ترمیم نے پارلیمانی کمیٹی کو یہ اختیار دیا تھا کہ وہ تین سینئر ترین ججوں میں سے کسی ایک کو چیف جسٹس آف پاکستان منتخب کر سکے۔ تاہم حکومت تین سینئر ججوں کو نظر انداز کرنے میں کامیاب رہی اور جسٹس امین الدین خان کو آئینی بنچوں کے... Read more