ایک ارب روپےکا تو پی آئی اے کا ملتان آفس ہے:خالد مسعود

پی آئی اے کو مزید حکومتِ پاکستان کی ملکیت میں رکھنا ایسا ہی تھا جیسا کسی پھنڈر بھینس کو دروازے پر باندھے رکھنا۔ ایسی بھینس جو نہ صرف دودھ دینے اور بچے پیدا کرنے سے فارغ ہو چکی ہو بلکہ روزانہ دو من چارہ بھی کھاتی ہو۔ آپ نے اس کے چارے کی مد میں مارکیٹ کے ڈیڑھ دو لاکھ روپے بھی دینے ہوں اور بھینس سے کل آمدنی محض اس کے گوبر کی صورت میں روزانہ چار چھ روپے اور صرف چارے اور نوکر کی مد میں روزانہ کا خرچہ ہزار روپے بن رہا ہو تو بھلا ایسی بھینس کو دروازے پر باندھے رکھنا کہاں کی عقلمندی ہے؟... ​ Read more