پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے جمعرات کو ایک بار پھر سعودی عرب سے مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے مملکت کی سلامتی کے لیے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا گیا۔ ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار نیوز میں کہا کہ پاکستان یمن کی وحدت، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی مکمل حمایت اور پائیدار امن و استحکام کے قیام کی کوششوں کے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔ ’پاکستان یمن میں امن و استحکام برقرار رکھنے کے لیے کشیدگی میں کمی کی علاقائی کوششوں کا خیرمقدم کرتا ہے۔ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور مملکت کی سلامتی کے لیے اپنے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتا ہے۔‘ سعودی عرب نے منگل کو یمن کے بندرگاہی شہر المکلا پر ایک محدود فضائی حملہ کیا تھا جس کا ہدف ہتھیاروں کی وہ کھیپ تھی جو متحدہ عرب امارات سے یہاں پہنچائی گئی تھی۔ سعودی عرب نے متحدہ عرب امارات پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ یمنی علیحدگی پسند گروہ سدرن ٹرانزیشنل کونسل (STC) پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ مملکت کی سرحدوں کی طرف پیش قدمی کرے، جسے سعودی عرب نے اپنی قومی سلامتی کے لیے ’سرخ لکیر‘ قرار دیا۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ پاکستان یمن کے مسئلے کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری پر مبنی عمل کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے اور امید کرتا ہے کہ یمن کے عوام اور علاقائی طاقتیں مل کر ایک جامع اور دیرپا حل کی جانب پیش رفت کریں گی، تاکہ علاقائی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے بدھ کو سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان سے ٹیلی فون پر گفتگو کی تھی جس میں دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا، اس گفتگو کے دوران موجودہ علاقائی صورتحال اور تازہ پیش رفت پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ’وزیراعظم نے موجودہ چیلنجز کے تناظر میں امتِ مسلمہ کے درمیان اتحاد اور ہم آہنگی کی ضرورت پر زور دیا۔ سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ علاقائی امن و استحکام کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری ناگزیر ہیں۔‘ اس سے قبل نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان سے بھی ٹیلی فون پر گفتگو میں موجودہ علاقائی صورت حال اور حالیہ پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ اسی دوران پاکستان اور متحدہ عرب امارات کی اعلیٰ قیادت بھی رواں ہفتے قریبی رابطے میں رہی۔ متحدہ عرب امارات کے صدر اور ابو ظہبی کے حکمران شیخ محمد بن زاید النہیان نے وزیراعظم کی دعوت پر پاکستان کا سرکاری دورہ کیا تھا۔ ’دونوں رہنماؤں نے اسلام آباد اور بعد ازاں رحیم یار خان میں ملاقاتیں کیں، جن میں دوطرفہ تعاون اور مختلف اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔‘ یو اے ای کی وزارت نے منگل کو ایک بیان میں کہا تھا کہ نشانہ بننے والی کھیپ میں کوئی ہتھیار نہیں تھا اور یہ کہ جو گاڑیاں اتاری گئیں وہ کسی یمنی فریق کے لیے نہیں، بلکہ یمن میں کام کرنے والی متحدہ عرب امارات کی افواج کے استعمال کے لیے بھیجی گئی تھیں۔ متحدہ عرب امارات نے بعد ازاں اعلان کیا کہ وہ یمن سے اپنی فورسز واپس بلا لے گا۔ سعودی عرب کے پاکستان میں سفیر نواف بن سعید المالکی نے بدھ کی شام وزیراعظم شہبازشریف سے اسلام آباد میں ملاقات کی تھی۔ سرکاری بیان کے مطابق اس ملاقات میں بھی ’حالیہ علاقائی اور عالمی پیش رفت پر بھی تبادلہء خیال کیا گیا۔ وزیراعظم نے مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے امن و استحکام کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔‘ یمن یمن جنگ پاکستان دفتر خارجہ سعودی عرب اسلام آباد دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہپاکستان یمن میں امن و استحکام برقرار رکھنے کے لیے کشیدگی میں کمی کی علاقائی کوششوں کا خیرمقدم کرتا ہے۔ انڈپینڈنٹ اردو جمعرات, جنوری 1, 2026 - 14:45 Main image:
(دفتر خارجہ)
پاکستان jw id: Au25QPfp type: video related nodes: یمن میں کشیدگی: پاکستان کا ڈائیلاگ پر زور، سعودی عرب سے اظہار یکجہتی سعودی عرب اور یو اے ای کی یمن میں امن کوششیں قابل تعریف: پاکستان ڈونلڈ ٹرمپ کا یمنی حوثیوں پر بڑی فوجی کارروائی کا آغاز، کم از کم 24 اموات ’پاکستان چلے جائیں‘: انڈین عدالت کا یمنی پناہ گزین کو مشورہ SEO Title: یمن پر سعودی عرب سے مکمل یکجہتی اور مملکت کی سکیورٹی کے عزم کا اعادہ: پاکستان copyright: show related homepage: Show on Homepage