سنہ 90 کی مسلح تحریک کا حاصل ایک لاکھ سے زائد قبریں، 95 ہزار یتیم، 10 ہزار سے زائد نیم بیوہ خواتین، 40 کی عمر سے زائد تقریباً 80 ہزار بن بیاہی دوشیزائیں، دو لاکھ سے زائد خاندانوں کی ہجرت، دنیا بھر میں بکھرے پریشان حال کشمیری تارکین وطن، علاوہ ازیں اربوں کی مالیت کا نقصان، برباد معیشت، اندرونی خودمختاری سے محروم اور عوام کی غیر اختیاری عروج پر۔ یہ سزا ہے کہ جزا، یہ فیصلہ مؤرخوں پر چھوڑتے ہیں مگر جس کی جواب دہی اس وقت مطلوب ہے وہ یہ ہے کہ تحریک کی سیاسی اور مسلح قیادت کے پاس اگر کوئی لائحہ عمل نہیں تھا یا کوئی سمت نہیں تھی تو کیا وہ اپنی اس غلطی پر قوم سے معافی مانگے گی یا پھر سب کچھ راکھ کر کے اپنی ہی دہائی دیتی رہے گی؟ اب اس کی کیا اہمیت ہے کہ کل جماعتی حریت کانفرنس کا کاغذی ٹائٹل تاریخ سے بھی غائب کرنا ہے۔ کیا یہ 30 برسوں پر محیط بربادی کی تلافی کر سکتا ہے؟ پھر سوال یہ بھی کہ جب 30 سال کی اس تحریک کو اب کچل دیا گیا ہے تو ٹائٹل سے اتنا خوف کیوں کہ میر واعظ عمر فاروق اس کو ہٹانے پر مجبور ہو جاتے ہیں اور وہ اپنی بےبسی کو سوشل میڈیا پر ظاہر کرنے لگتے ہیں۔ عوامی ایکشن کمیٹی سمیت حریت کانفرنس میں شامل تقریباً سبھی جماعتوں پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ ان کے سربراہوں کو جیلوں میں اسیر رکھا گیا ہے یا ان کا قلع قمع کر دیا گیا ہے۔ اس قافلے میں شاید میر واعظ مولوی عمر فاروق ہی واحد شخص ہیں جن کے ساتھ حریت کا ٹیگ اب تک لگا ہوا تھا لیکن گذشتہ ہفتے انہوں نے اپنے ایکس اکاؤنٹ سے ’چیئرمین آل پارٹیز حریت کانفرنس‘ کی شناخت ہٹا دی۔ ویسے اس ٹیگ کا رکھنا یا چھوڑنا کوئی معنی نہیں رکھتا مگر اس اقدام سے ان آزادی پسندوں کو شدید مایوسی ہو گئی ہے جن کے گھر بار اجڑ چکے ہیں، ان کے نہ نام اور نہ شناخت باقی رہی ہے۔ بیشتر جیلوں میں سالہا سال سے اذیتیں سہہ رہے ہیں یا ان کے خاندانوں پر سرکار کی تلوار 24 گھنٹے لٹکتی رہتی ہے۔ کئی کشمیریوں نے سوالات اٹھائے کہ اگر میر واعظ صاحب نے خود کو صرف مذہبی امور تک محدود رکھا ہوتا تو آج یہ نوبت نہ آتی کہ عوام تک پہنچنے کے لیے وہ ایکس پر اپنی موجودگی قائم رکھنے کا جواز تلاش کرتے اور اس نظریہ کو ختم کرنے پر مجبور ہو جاتے جس کی تاریخ بے شمار قبرستانوں کی صورت میں ہمیں تاڑ رہی ہے۔ جموں و کشمیر کا میر واعظ خاندان کبھی سیاست سے الگ نہیں رہا ہے وہ چاہے مولوی یوسف شاہ ہوں یا مولوی فاروق یا اب مولوی عمر۔ مولوی یوسف شاہ نے الحاق پاکستان کی خاطر اپنے وطن، گھر اور اپنی زندگی کی قربانی دی، میرواعظ مولوی فاروق نے گو کہ انڈیا کے ساتھ اتنی دوری اختیار نہیں کی تھی جو وادی میں ممکن بھی نہیں مگر ان کی پراسرار ہلاکت یا اس میں ملوث بندوق برداروں یا ان کی میت پر گولیاں چلانے والوں کو سزائیں دینے میں سرکار نے سنجیدگی نہیں دکھائی۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) میرواعظ عمر فاروق نے بحالت مجبوری حریت میں شمولیت اختیار کی ہو گی جیسا کہ ان کے پیروکار آج کل میڈیا پر اس کا جواز بتاتے ہیں لیکن وہ محض مذہبی امور تک خود کو محدود رکھنے کا شاید آپشن بھی رکھتے تھے۔ میر واعظ کو بعض عوامی اور سیاسی جماعتوں کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا ہے۔ ایک طرف پی ڈی پی کے رکن اسمبلی وحید پرہ نے ان کے اس اقدام کو ’معاہدہ حدیبیہ‘ سے جوڑا تو دوسری جانب نیشنل کانفرنس کی کچھ ارکان نے اس کی شدید تنقید بھی کی۔ بعض تجزیوں میں یہاں تک بتایا گیا کہ اگر یہ مین سٹریم میں داخل ہونے کی جانب میر واعظ کا پہلا قدم ہے تو اس سے نیشنل کانفرنس سمیت کئی سیاسی جماعتوں کا اپنا وجود متزلزل دکھائی دینے لگا ہے۔ میر واعظ کا سرینگر کے ڈاؤن ٹاؤن میں خاصا اثر رسوخ ہے اور ان کے مین سٹریم میں آنے کی صورت میں نہ صرف دو بڑی سیاسی پارٹیوں کا ووٹ بینک کم ہو جائے گا بلکہ متبادل جماعت کی تلاش میں مرکزی سرکار کے لیے اس سے بڑی لاٹری نہیں نکل سکتی۔ میر واعظ عمر فاروق نے مین سٹریم میں آنے کا کوئی عندیہ نہیں دیا البتہ بقول مبصرین ان کو مائل کرنے میں انڈیا کی سول سوسائٹیز سے لے کر مرکزی سرکار کے بیشتر کارندے اس پر مامور نظر آ رہے ہیں۔ واضح رہے میر واعظ کی کل جماعتی حریت کانفرنس کو سخت گیر موقف کے حامل مرحوم سید علی شاہ گیلانی کی حریت سے اعتدال پسند تصور کیا جاتا رہا ہے جس نے بارہا انڈیا کے سربراہوں سمیت کئی مرکزی وزرا سے مسئلہ کشمیر پر بات چیت کے کئی ادوار میں شرکت کی ہے۔ ایک انڈین فوجی 30 ستمبر، 2016 کو جموں کے جنوب مغرب میں واقع عبدلیاں کے مقام پر پاکستانی سرحد کے قریب بنکر سے پہرہ دے رہا ہے (روئٹرز) مرحوم گیلانی نے میرواعظ کی حریت سے اسی لیے ناطہ توڑا تھا کیونکہ وہ انڈیا کے بات چیت کے عمل کو سنجیدہ نہیں مانتے تھے بلکہ اکثر کہا کرتے تھے کہ انڈین قیادت وقت کا زیاں کر کے کشمیریوں کا مذاق اڑا رہی ہے۔ میر واعظ کی حریت میں مرحوم مولانا عباس انصاری، مرحوم پروفیسر عبد الغنی بٹ اور مین سٹریم پارٹی پیپلز کانفرنس کے رہنما سجاد لون کے برادر بلال لون شامل تھے۔ بلال لون کے بارے میں بھی یہ خبریں آئی تھیں کہ وہ آزادی کے نظریے کو تیاگ کر مینسٹریم میں داخل ہو رہے ہیں جیسا کہ ان کے بھائی سجاد لون نے ماضی میں کیا۔ کچھ تو پاکستان نے حریت قیادت سے منھ موڑا، پھر انڈیا نے وادی میں حریت میں شامل رہنماؤں پر کریک ڈاؤن کیا اور اس کا آخری سرا اس وقت خود حالات کی تھپیڑوں کی نذر ہو گیا جب میرواعظ نے اس اتحاد کے ٹائٹل سے بھی خلاصی اختیار کر دی۔ کشمیریوں نے ماضی کے مقابلے میں انڈیا کے جمہوری عمل کو اپنایا، ووٹ ڈال کر یا سب کچھ تیاگ کر انڈین بننے کا بھرپور اظہار بھی کیا مگر ستم یہ کہ اب انڈیا کشمیریوں کو انڈین ماننے میں لیت و لعل کر رہا ہے جس کی مثالیں وادی سے باہر کشمیریوں پر بڑھنے والے حملوں اور ان پر سرکاروں کی پراسرار خاموشی کی دی جا رہی ہیں۔ نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میر واعظ عمر فاروق کل جماعتی حریت کانفرنس سید علی گیلانی میر واعظ مولوی عمر فاروق نے گذشتہ ہفتے اپنے ایکس اکاؤنٹ سے ’چیئرمین آل پارٹیز حریت کانفرنس‘ کی شناخت ہٹا دی۔ نعیمہ احمد مہجور جمعہ, جنوری 2, 2026 - 07:15 Main image:
میر واعظ عمر فاروق 15 مارچ، 2019 کو سری نگر کی جامع مسجد میں جمعے کا خطبہ دے رہے ہیں (اے ایف پی)
نقطۂ نظر type: news related nodes: کشمیری رہنما میر واعظ عمر فاروق چار برس نظربندی کے بعد رہا کشمیریت عروج پر جموں و کشمیر انڈیا کا حصہ ہے، نہ کبھی ہو گا: پاکستان خاتون کا نقاب، کیا نتیش کمار ذہنی مفلوج ہیں؟ SEO Title: میرواعظ اب حریت پسند نہیں رہے copyright: show related homepage: Hide from Homepage