نیویارک کے بارے میں سابق امریکی صدر جان ایف کینیڈی نے کہا تھا کہ زیادہ تر شہر اسم ہیں لیکن یہ شہر ایک فعل ہے۔ اسی شہر میں یکم فروری 2010 کی ایک یخ بستہ صبح ہے۔ آج یہاں کے فاکس نیوز سٹوڈیوز میں بالی وڈ کی نئی فلم ’مائی نیم از خان‘ کی افتتاحی تقریب ہو رہی ہے۔ شاہ رخ خان اور کاجول خصوصی طور پر تشریف لانے والے ہیں۔ لمبے دھڑنگے پرائیویٹ سکیورٹی گارڈز ایسے مستعد کھڑے ہیں جیسے کسی سربراہ مملکت کی جلوہ نمائی ہونے والی ہے۔ جب میں وہاں پہنچتا ہوں تو فاکس نیوز سٹوڈیو کھچا کھچ بھر چکا ہوتا ہے۔ دنیا بھر کا میڈیا یہاں موجود ہے جن میں اکثریت انڈین میڈیا کی ہے۔ مجھے ہال کی آخری قطار میں جگہ ملتی ہے۔ کاجول اور کنگ خان کے آنے کے بعد ہال دیر تک تالیوں سے گونجتا رہتا ہے۔ دونوں اس فلم کی امریکہ میں شوٹنگ کے دوران کے اہم واقعات اور فلم کی کہانی کو بیان کرتے ہیں۔ شاہ رخ خان بتاتے ہیں کہ 11 ستمبر کے بعد ان کے ساتھ دو مرتبہ امریکہ کے ایئر پورٹس پر کیا رویہ اختیار کیا گیا۔ ایسے ہی سچے واقعات کے گرد فلم کا مرکزی خیال گھومتا ہے۔ پھر سوال و جواب کا سیشن ہوتا ہے۔ ہر ایک صحافی چاہتا ہے کہ اسے سوال کا موقع ملے۔ جیسا کہ عموماً ہوتا ہے کہ اگلی صفوں والوں کو زیادہ موقع ملتا ہے۔ ایک تو یہ کہ ان کی آواز جلد پہنچ جاتی ہے اور دوسری یہ کہ وہ تقریب کے منتظمین کے منظورِ نظر ہوتے ہیں۔ میں ان دنوں نیویارک سے پاکستانی کمیونٹی کے ایک اخبار ’اردو ٹائمز‘ سے وابستہ ہوتا تھا۔ جب تقریب ختم ہو رہی تھی اور مجھے کسی سوال کا موقع نہیں مل سکا تھا تو ہال کی آخری قطار میں اپنی سیٹ پر کھڑے ہو کر میں نے صرف اتنا پکارا: ’شاہ رخ خان! میں پاکستان، اسلام آباد سے ہوں۔‘ شاہ رخ خان فوراً چونکا اور اس نے مجھے اشارے سے سٹیج پر بلا لیا۔ ہال میں سناٹا چھا گیا کہ یہ کون ہے جسے آخری قطار سے سٹیج پر بلا لیا گیا ہے۔ شاہ رخ خان نے میرا ہاتھ پکڑا اور میرے کان میں کہا: ’میرا پاکستان آنے کو بہت دل کرتا ہے۔ کیا ہی اچھا ہو ’مائی نیم از خان‘ کا پریمیئر وہاں ہو اور میں وہاں جاؤں۔‘ تقریب چونکہ ختم ہو چکی تھی اور اس کے بعد سٹیج پر تصاویر بنوانے کے لیے صحافیوں نے یلغار کر دی۔ سکیورٹی والوں نے شاہ رخ خان اور کاجل کو حصار میں لیا اور نکل گئے۔ ایک انڈین فوٹو گرافر گنجیش دیسائی نے میری تصاویر بنا لیں اور پھر مجھے ای میل کر دیں۔ یہ تصویریں آج بھی مجھے شاہ رخ خان کا یہ جملہ دہراتی محسوس ہوتی ہیں کہ وہ پاکستان آنا چاہتے ہیں۔ یہ واقعہ مجھے ایک بار پھر اس لیے یاد آ گیا کیونکہ سوشل میڈیا پر پاکستان کی سابق وزیرِ مملکت برائے خارجہ امور حنا ربانی کھر کا پرانا کلپ پھر وائرل ہو گیا ہے جس میں وہ شاہ رخ خان سے سوال کرتی ہیں اور جواب میں وہ پاکستان آنے کی خواہش کا اظہار کرتے ہیں۔ یوں تو ہندوستان کی تقسیم کے پیچھے ایسی لاکھوں کہانیاں ہیں۔ وہ نسل جو یہاں سے ہجرت کر کے گئی تھی وہ اب اس دنیا میں نہیں ہے مگر اگلی نسل کو اپنا دکھ اور کرب منتقل کر گئی ہے جس کی وجہ سے دوسری نسل بھی اپنے آبا و اجداد کی جنم بھومی دیکھنے کی تڑپ رکھتی ہے۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) شاہ رخ کے والد کون تھے؟ پشاور کے قصہ خوانی بازار سے ہی شاہ رخ خان کا قصہ جڑا ہوا ہے۔ اسے وسطِ ایشیا کا ’پکا ڈلی‘ کہا جاتا ہے۔ ماضی میں یہاں کے پیشہ ور قصہ گو قہوے کی چسکیوں کے ساتھ ساتھ سامعین کو پشتونوں کی الف لیلائیں سناتے تھے۔ اسی تاریخی بازار سے ملحق محلہ شاہ ولی قتال کی ایک تنگ گلی میں مکان نمبر 1147 ہے جہاں شاہ رخ خان کے والد میر تاج محمد 1928 میں پیدا ہوئے تھے۔ انو پوما چوپڑا کی کتاب King of Bollywood Shah Rukh Khan and the Seductive World of Indian Cinema میں شاہ رخ خان کی زندگی کا بھرپور احاطہ کیا گیا ہے۔ اس میں لکھا ہے کہ شاہ رخ خان کے والد میر تاج محمد اپنے والدین کے چھ بچوں میں سب سے چھوٹے تھے۔ ان کے چار بھائی اور ایک بہن تھی۔ ان کے والد میر جان محمد اتنے لمبے قد کے تھے کہ جب وہ فوت ہوئے تو ان کے گھر میں ان کی قامت کی چارپائی موجود نہ تھی کہ جس پر ڈال کر میت کو قبرستان لایا جاتا۔ میر تاج محمد کا خاندان بانسوں کا کاروبار کرتا تھا۔ میر تاج محمد نے ہوش سنبھالا تو ہندوستان میں آزادی کی تحریک زوروں پر تھی۔ میر اور ان کے بھائی باچا خان کے پیروکار تھے جنہیں سرحدی گاندھی کہا جاتا تھا۔ میر کے بڑے بھائی گاما، باچا خان کے خاص کارکن تھے اور شعلہ بیان مقرر تھے۔ جہاں کہیں انگریز مخالف جلسہ ہوتا گاما سب سے آگے ہوتا۔ 1941 کی ’ہندوستان چھوڑ دو تحریک‘ میں ہندوستان بھر سے 60 ہزار لوگ گرفتار ہوئے ان میں میر اور گاما دونوں بھائی بھی شامل تھے۔ گھر والوں نے میر تاج محمد کو میڈیکل کی تعلیم کے لیے کنگ ایڈورڈ کالج بھیج دیا لیکن یہاں بھی وہ کالج میں کم اور جلسے جلوسوں کی وجہ سے قید و بند میں زیادہ رہے۔ جس پر میر کے بھائیوں نے انہیں قانون کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے دہلی بھیج دیا۔ ابھی انہیں دہلی میں ایک سال ہی ہوا تھا کہ تقسیم کے نتیجے میں دہلی میں فسادات پھوٹ پڑے۔ میر تاج محمد کی زندگی خطرے میں تھی لیکن یہاں ان کے دوستوں نے ان کی حفاظت کی جن میں کنہیا لال بھی شامل تھے جو بعد ازاں کانگریس کی حکومت میں وزیر بھی بنے۔ میر تاج محمد نے 1949 میں قانون کی ڈگری حاصل کر لی لیکن صرف اس لیے انہوں نے وکالت کی بجائے اداکاری کو پیشہ بنانا چاہا کہ وہ جھوٹ نہیں بول سکتے تھے۔ میر تاج محمد وجیہہ اور خوش شکل تھے اور فلموں میں کام کرنے کے متنی تھے۔ وہ ممبئی پہنچے تو انہیں ’مغلِ اعظم‘ میں ایک ثانوی کردار کی پیشکش بھی ہوئی لیکن میر نے اسے مناسب نہیں سمجھا۔ ممبئی میں کئی ماہ گزارنے کے باوجود جب خاطر خواہ کامیابی نہیں ملی تو وہ اپنے دوست کنہیا لال کے کہنے پر واپس دہلی آ گئے۔ دہلی میں میر تاج محمد نے کاروبار بھی کیے اور سیاست بھی لیکن کہیں سے بھی کامیابی نہیں ملی۔ ان کی رہائش بھی دہلی کے ایک پسماندہ علاقے راجندر نگر میں تھی۔ ان کے دوست وزیر مشیر تھے، اندرا گاندھی انہیں آزادی کا ہیرو سمجھتی تھی مگر پھر بھی وہ اپنے تعلقات استعمال نہیں کرتے تھے۔ شاہ رخ خان کے بقول ان کی عاجزانہ طبیعت نے انہیں کسی کے آگے دستِ سوال نہیں بننے دیا۔ ہندوستان ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق میر نے 1957 کے عام انتخابات میں کانگریس کے امیدوار مولانا ابوالکلام آزاد کے مقابلے میں دہلی کے نواحی علاقے گڑگاؤں کے حلقے سے آزاد حیثیت سے الیکشن بھی لڑا تھا مگر وہ اپنا زرِ ضمانت بھی ضبط کروا بیٹھے تھے۔ شاہ رخ خان کی عمر جب صرف 15 سال تھی تو وہ 1981 میں فوت ہو گئے۔ باپ کی وفات کے بعد ان کی والدہ فاطمہ لطیف نے گھر کی تمام تر ذمہ داریاں سنبھال لیں۔ شاہ رخ خان 15 ستمبر 2023 کی اس تصویر میں ممبئی میں اپنی ہندی زبان کی ایکشن تھرلر فلم ’جوان‘ کی کامیابی کا جشن منانے کے لیے ایک تقریب کے دوران مداحوں سے مل رہے ہیں (اے ایف پی) اداکاری کا جو خواب باپ نے دیکھا تھا اسے بیٹے نے سچ کر دکھایا۔ شاہ رخ خان نے 1988 میں ٹی وی ڈرامے سے اداکاری کا آغاز کیا اور پھر پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ اس نے سو سے زیادہ فلموں میں اپنے جوہر دکھائے۔ دنیا اسے بالی وڈ کا ’کنگ خان‘ کہتی ہے۔ شاہ رخ نے اپنے باپ کے نام پر میر فاؤنڈیشن بھی بنا رکھی ہے۔ شاہ رخ کی والدہ کا پاکستان سے کیا تعلق تھا؟ 2012 میں لیفٹیننٹ جنرل ظہیر الاسلام ڈی جی آئی ایس آئی بنے تو ٹائمز آف انڈیا نے معروف دفاعی تجزیہ نگار اکرام سہگل کے حوالے سے ایک رپورٹ شائع کی کہ آئی ایس آئی کے نئے ڈی جی آزاد ہند فوج کے سربراہ جنرل شاہ نواز کے بھتیجے ہیں اور شاہ رخ خان کی والدہ لطیف فاطمہ ان کی لے پالک بیٹی تھیں۔ تاہم اگلے روز آئی ایس پی آر نے ان خبروں کی تردید کر دی۔ شاہ رخ خان کی والدہ فاطمہ لطیف کا تعلق حیدرآباد کے ایک خوشحال گھرانے سے تھا جن کے والد دہلی میں ایک سرکاری محکمے میں سینیئر انجینیئر تھے۔ میر اور فاطمہ کی پہلی ملاقات حادثاتی طور پر ہوئی تھی۔ فاطمہ اپنے والد کے پاس دہلی گئی ہوئی تھی کہ وہاں انڈیا گیٹ پر ان کی کار کا حادثہ ہو گیا۔ اتفاق سے میر اس وقت وہاں موجود تھے انہوں نے فاطمہ کو کار سے شدید زخمی حالت میں نکال کر ہسپتال پہنچایا۔ جب فاطمہ کو خون کی ضرورت پڑی تو میر نے اس کی جان بچانے کے لیے اپنا خون دیا۔ یوں میر کی فاطمہ کے خاندان سے راہ و رسم بڑھی۔ میر کو پہلی ہی نظر میں فاطمہ سے پیار ہو گیا تھا لیکن فاطمہ کے والدین اس رشتے پر راضی نہیں تھے۔ میر اعلیٰ تعلیم یافتہ اور خوش شکل تھے لیکن کوئی کام یا کاروبار نہیں تھا اس موقع پر میر کے دوستوں نے میر کی بہت مدد کی اور بالآخر 1959 میں ان کی شادی ہو گئی۔ مصنف اور تاریخ دان محمد حسن معراج نے ’انڈپینڈنٹ اردو‘ کو بتایا کہ فاطمہ لطیف کا انتقال تو 1991 میں ہوا لیکن ان کی کہانی کا ایک پڑاؤ راولپنڈی کے گاؤں مٹور میں بھی آتا ہے کیونکہ ان کے شوہر جس گھر میں رہتے تھے اس کے مالک کا دل مٹور میں دھڑکتا تھا۔ یہ گھر آزاد ہند فوج کے کمانڈر جنرل شاہ نواز خان کا تھا۔ تقسیم کے بعد جنرل شاہ نواز نے خود ہندوستان جانے کا فیصلہ کیا تھا یا انہیں اس پر مجبور کیا گیا یہ تو کوئی نہیں جانتا لیکن اتنا ضرور بتایا جاتا ہے کہ شاہ نواز جب ہندوستان گئے تو نہرو نے انہیں میرٹھ میں جاگیر بھی دی اور چناؤ کا ٹکٹ بھی۔ وہ 1951 میں لیجسلیٹو اسمبلی کے ممبر بھی بنے اور ریلوے کے نائب وزیر بھی، وہ تین دہائیوں تک راج نیتی میں رہے۔ ایک موقع ایسا ابھی آیا جب ان کا بیٹا 1965 کی جنگ میں پاکستان کی طرف سے لڑ رہا تھا اور ادھر باپ لوک سبھا کا رکن تھا۔ وہ پاکستان میں صرف ایک بار اپنے بیٹے کیپٹن محمود کی شادی میں مختصر دورے پر پاکستان تشریف لائے تھے۔ حسن معراج کہتے ہیں کہ لطیف فاطمہ کی کار کو جب حادثہ ہوا تو ان کی جان بچانے والے جنرل شاہ نواز ہی تھے۔ اس رات کے بعد فاطمہ جنرل شاہ نواز کی منہ بولی بیٹی بن گئیں۔ میر تاج محمد سے جب فاطمہ کی شادی ہوئی تو ایک تقریب جنرل شاہ نواز کے آنگن میں بھی ہوئی تھی۔ میری جنرل شاہ نواز کے خاندان سے ایک بار بات ہوئی تو میں نے پوچھا کہ کیا کوئی لطیف فاطمہ کے خاندان سے اب بھی کوئی آتا ہے تو انہوں نے کہا کہ پہلے پہل تو لطیف فاطمہ کا بیٹا شاہ رخ خان باقاعدگی سے آتا تھا مگر اب شاید مشہور ہو گیا ہے اس لیے اسے وقت نہیں ملتا۔ شاہ رخ خان کتنی بار پاکستان آ چکے ہیں؟ انو پوما چوپڑا لکھتی ہیں کہ شاہ رخ خان اپنے والد کے ساتھ 1980 میں پاکستان آئے تھے۔ یہ میر کا دوسرا سفرِ پاکستان تھا۔ اس سے پہلے وہ 1970 میں بھی پاکستان آ چکے تھے۔ میر کی ایک بہن اور بھائی جب پاکستان میں فوت ہوئے تو انہوں نے کئی بار ویزے کی درخواستیں دیں مگر حریت پسند ہونے کے ناطے ان کی درخواستیں رد کر دی گئیں۔ قصہ خوانی بازار پشاور کی تزئین و آرائش کے بعد وہاں لگائی گئی ایک تصوراتی پینٹنگ جس میں ماضی میں بازار میں موجود تاجروں کی ایک ٹولی کو دکھایا گیا ہے (کریٹیو کامن) شاہ رخ خان کے ساتھ جب وہ آئے تو ریل گاڑی کے ذریعے امرتسر تک سفر کیا اور پھر سڑک کے ذریعے اٹاری اور واہگہ پہنچے۔ لاہور سے پشاور جاتے ہوئے راستے میں میر نے اپنے بیٹے شاہ رخ خان کو اپنے بچپنے کے واقعات سنائے۔ میر کا خاندان مشترکہ طور پر اپنی آبائی حویلی میں رہتا تھا جہاں شاہ رخ خان نے اپنے کئی چچا زادوں اور خالہ زادوں سے بچپن کے کھیل کھیل رکھے ہیں۔ شاہ رخ خان کو خاندان والوں نے پشاور کے بازار بھی گھمائے اور درہ خیبر کی سیر بھی کرائی۔ اس نے سینما میں پاکستانی فلمیں دیکھیں۔ میر تاج محمد کو اس دورے کی واپسی پر چند ماہ بعد ہی کینسر ہو گیا جس سے ان کا انتقال ہو گیا۔ جس کے بعد تمام تر ذمہ داری فاطمہ لطیف کے کندھوں پر آ گری۔ لطیف فاطمہ ایک باہمت خاتون تھیں انہوں نے شاہ رخ خان کے وہ سارے سپنے سچ کروا دیے جن کو لے کر اس کا باپ میر تاج محمد اس دنیا سے چلا گیا تھا۔ آج شاہ رخ خان کے والد اور والدہ دونوں اس دنیا میں نہیں ہیں مگر وہ اپنے بچوں کو اپنے والد کی جنم بھومی دکھانے کے لیے انہیں پاکستان لانا چاہتے ہیں۔ حکومتِ پاکستان شاید اپنے وقت کے ایک بڑے فلم سٹار کو اس سلسلے میں تمام تر سہولیات دے بھی دے تب بھی انڈیا میں اس وقت پاکستان مخالف بیانیہ جس سطح پر ہے شاید شاہ رخ خان کے لیے یہ پیشکش قبول کرنا ممکن نہ ہو۔ کل شاہ رخ خان کے والد کو اس لیے ویزا نہیں ملتا تھا کہ اس کا تعلق باچا خان کے پیروکاروں سے تھا اور آج اس کے بیٹے کو بھی یہی مجبوریاں ہیں کہ وہ انڈیا کا ایک بڑا فلم سٹار ہے، اگر وہ اپنے بچوں کو پاکستان لے کر آیا تو واپسی پر نجانے اس کے ساتھ کیا سلوک ہو گا۔ نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ شاہ رخ خان بالی وڈ پشاور نیویارک نیویارک میں ایک ملاقات کے دوران شاہ رخ خان نے سرگوشی کی کہ ان کا پاکستان آنے کو بہت دل کرتا ہے۔پشاور سے ممبئی تک کے سفر، خاندانی پس منظر اور سیاسی رکاوٹوں میں گھری اس ادھوری خواہش کی داستان۔ سجاد اظہر اتوار, فروری 1, 2026 - 06:00 Main image:
شاہ رخ خان 2011 میں نیویارک میں ایک پریس کانفرنس میں (سجاد اظہر)
بلاگ type: news related nodes: شاہ رخ خان فلم ’کنگ‘ کی عکسبندی کے دوران زخمی: انڈین میڈیا جب وسیم اکرم کے کہنے پر شاہ رخ نے گھنٹے میں طیارہ منگوا لیا سلمان اور شاہ رخ ’کرن ارجن‘ میں دلچسپی کھو بیٹھے تھے: راکیش روشن شاہ رخ کے بارے میں سوال پوچھنے پر ہی بات کرتی ہوں: ماہرہ SEO Title: شاہ رخ خان پاکستان کیوں آنا چاہتے ہیں؟ copyright: show related homepage: Hide from Homepage