خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے میں قائم جامعات کی کارکردگی کے حوالے سے جمعرات کو ایک نیا رینکنگ نظام متعارف کرایا ہے، جس کی بنیاد پر جامعات کو گرانٹس بھی دی جائیں گی۔ رینکنگ نظام کی منظوری گذشتہ روز صوبائی وزیر برائے اعلیٰ تعلیم و بلدیات مینا خان آفریدی کی زیر صدارت اجلاس میں دی گئی ہے۔ مینا خان آفریدی کے مطابق ملک میں پہلی مرتبہ جامعات کے لیے بین الاقوامی اعشاریوں پر مبنی رینکنگ نظام متعارف کرایا جا رہا ہے، جس سے جامعات کی کارکردگی ناپی جائے گی۔ مینا خان آفریدی نے بتایا، ’بین الاقوامی طرز پر جامعات کی رینکنگ کے نظام کو صوبے کی جامعات پر اپلائی کیا جائے گا، جس کے لیے مختلف معیار رکھے جائیں گے۔‘ رینکنگ نظام کیسے ہو گا؟ دنیا بھر میں جامعات کی مختلف اعشاریوں کی بنیاد پر رینکنگ کی جاتی ہے اور اس کی باقاعدہ فہرست جاری کی جاتی ہے۔ بین الاقوامی سطح پر رینکنگ مختلف معیارات کو مدنظر رکھ کر بنائی جاتی ہے، جبکہ خیبر پختونخوا میں متعارف کردہ رینکنگ نظام بھی اسی طرز کا ہو گا۔ مینا خان آفریدی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ جامعات کو ایک پرفارما دیا جائے گا، اور اسی پرفارما کے مختلف اعشاریوں کی بنیاد پر یونیورسٹی کی پوزیشن بتائی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ اعشاریوں میں گورننس، تحقیق، فنانس، فنڈ جنریشن، سٹوڈنٹ سپورٹ سروسز، اکیڈمک ایکسلینس سمیت دیگر مختلف اعشاریے شامل کیے گئے ہیں۔ مینا خان نے بتایا، ’اسی رینکنگ پر جامعات کو گرانٹس بھی فراہم کی جائیں گی، اور یہ نظام پاکستان کے کسی بھی صوبے میں پہلی مرتبہ متعارف کیا گیا ہے۔‘ تاہم جامعات سے وابستہ ماہرین سمجھتے ہیں کہ رینکنگ نظام بنانا بہتر اقدام ہے، تاہم اس نظام سے پہلے جامعات میں بنیادی انفراسٹرکچر بنانا ضروری ہے تاکہ وہ رینکنگ کے برابر ہو جائیں۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) پشاور یونیورسٹی صوبے کی بڑی سرکاری یونیورسٹی ہے، اور اسی یونیورسٹی کے ٹیچرز ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر ذاکر اللہ جان کہتے ہیں کہ رینکنگ کے لیے جو معیار رکھے جاتے ہیں، تو پہلے وہ انفراسٹرکچر تو بنایا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ تحقیق کے شعبے کی اگر ہم بات کریں، تو پہلے حکومت اس بات پر توجہ دے کہ اس مد میں جامعات کو کتنا سپورٹ دیا جاتا ہے، اور کیا تحقیق کے لیے کوئی گرانٹ، لائبریریز، کتابیں اور دیگر سہولیات میسر ہیں یا نہیں۔ ڈاکٹر ذاکر اللہ جان نے بتایا، ’پشاور یونیورسٹی کی مثال لیجیے تو جنرل گرانٹ کے علاوہ حکومت کی طرف سے تحقیق کے لیے کسی قسم کی گرانٹ نہیں ملتی، بلکہ پروفیسرز مختلف دیگر ذرائع یا بین الاقوامی اداروں کی مدد سے تحقیقی شعبے میں کام کرتے ہیں۔‘ اس سارے رینکنگ نظام میں ایک دوسرا اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ صوبے کی بڑی جامعات ایک چھوٹی سی یونیورسٹی کے ساتھ کیسے مقابلہ کریں گی۔ اس حوالے سے ڈاکٹر ذاکر اللہ جان نے بتایا کہ یہ ایک اہم نکتہ ہے، کیونکہ بعض چھوٹی جامعات میں تو شاید پروفیسر بھی موجود نہیں ہوں گے، تو وہ صوبے کی کسی بڑی یونیورسٹی کے ساتھ رینکنگ میں مقابلہ کیسے کریں گے۔ ’رینکنگ نظام تو تب مفید ثابت ہو گا جب بنیادی سہولیات موجود ہوں گی۔ اب اگر یونیورسٹی کے اساتذہ کو تنخواہیں بھی وقت پر نہیں ملیں گی، تو ایسے رینکنگ بنانے اور صرف کاغذی کارروائی کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔‘ خیبر پختونخوا یونیورسٹی بین الاقوامی سطح پر رینکنگ مختلف معیارات کو مدنظر رکھ کر بنائی جاتی ہے، جبکہ خیبر پختونخوا میں متعارف کردہ رینکنگ نظام بھی اسی طرز کا ہو گا۔ اظہار اللہ جمعہ, جنوری 2, 2026 - 16:00 Main image:
پشاور یونیورسٹی نے اکتوبر 2025 میں کم شرحِ داخلہ کی وجہ سے نو تعلیمی پروگرام بند کرنے کا اعلان کیا ہے (پشاور یونیورسٹی فیس بک پیج)
پاکستان type: news related nodes: ’راستے سے ہٹیں‘: پاکستانی یونیورسٹیوں کا المیہ ’صحافی کی طاقت غیر جانبداری‘: حبیب یونیورسٹی میں ’انڈی اِن کیمپس‘ یونیورسٹی کی زندگی: ملالہ کی کہانی پاکستانی طلبہ کے لیے سبق پشاور یونیورسٹی میں تعلیمی پروگرام کیوں بند کیے جا رہے ہیں؟ SEO Title: خیبر پختونخوا: جامعات کے لیے نیا رینکنگ نظام کیسے کام کرے گا؟ copyright: show related homepage: Hide from Homepage