پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کا غزہ میں فوری اور بلا رکاوٹ امداد کا مطالبہ

پاکستان، مصر، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب، ترکی اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے غزہ کی پٹی میں بگڑتی ہوئی انسانی صورتِ حال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیل سے فوری طور پر انسانی امداد کی بلا رکاوٹ رسائی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ وزارتِ خارجہ پاکستان کی جانب سے دو جنوری کو جاری مشترکہ اعلامیے کے مطابق وزرائے خارجہ نے کہا کہ غزہ میں حالیہ شدید بارشوں، طوفانوں اور غیر مستحکم موسمی حالات نے پہلے سے موجود انسانی بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ اعلامیے میں نشاندہی کی گئی کہ ناکافی انسانی رسائی، جان بچانے والی ضروری اشیا کی شدید قلت اور بنیادی سہولیات کی بحالی و عارضی رہائش کے لیے درکار مواد کے سست داخلے نے غزہ میں حالات کو مزید خراب کر دیا ہے۔ مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ شدید موسمی صورتحال نے غزہ میں انسانی حالات کی نازک کیفیت کو بے نقاب کر دیا ہے، جہاں تقریباً 19 لاکھ بے گھر افراد اور خاندان ناکافی پناہ گاہوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ سیلاب زدہ کیمپ، تباہ شدہ خیمے، جزوی طور پر منہدم عمارتیں، سرد موسم اور غذائی قلت نے شہریوں، بالخصوص بچوں، خواتین، بزرگوں اور طبی طور پر کمزور افراد کی جانوں کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے، جبکہ بیماریوں کے پھیلاؤ کا خدشہ بھی بڑھ گیا ہے۔ وزرائے خارجہ نے اقوامِ متحدہ کے تمام اداروں، بالخصوص یو این آر ڈبلیو اے، اور بین الاقوامی انسانی تنظیموں کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ انتہائی مشکل اور پیچیدہ حالات میں فلسطینی شہریوں کی مدد اور انسانی امداد کی فراہمی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل اس امر کو یقینی بنائے کہ اقوامِ متحدہ اور بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیمیں غزہ اور مغربی کنارے میں مسلسل، قابلِ پیش گوئی اور بلا رکاوٹ انداز میں کام کر سکیں، کیونکہ انسانی ردِعمل میں ان کا کردار ناگزیر ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ ان اداروں کے کام میں رکاوٹ ڈالنے کی کوئی بھی کوشش ناقابلِ قبول ہے۔ موسم سرما کی پہلی بارش کے دوران غزہ شہر میں نقل مکانی کرنے والے فلسطینیوں کے قائم کیمپ میں خاتون اور ان کے بچوں نے خیمے میں پناہ لے رکھی ہے (اے ایف پی) اعلامیے میں وزرائے خارجہ نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 اور صدر ٹرمپ کے جامع منصوبے کی مکمل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس پر کامیاب عمل درآمد میں تعاون کے لیے تیار ہیں، تاکہ جنگ بندی کو پائیدار بنایا جا سکے، غزہ میں جنگ کا خاتمہ ہو، فلسطینی عوام کو باعزت زندگی میسر آئے اور فلسطینی خود ارادیت و ریاست کے قیام کی جانب ایک قابلِ اعتبار راستہ ہموار ہو۔ اس تناظر میں وزرائے خارجہ نے فوری طور پر ابتدائی بحالی کے اقدامات شروع کرنے اور انہیں وسعت دینے کی ضرورت پر زور دیا، جن میں شدید سرد موسم سے آبادی کے تحفظ کے لیے پائیدار اور باعزت رہائش کی فراہمی شامل ہے۔ مشترکہ بیان میں عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے اسرائیل پر دباؤ ڈالے کہ وہ بطور قابض طاقت، خیموں، رہائشی سامان، طبی امداد، صاف پانی، ایندھن اور صفائی سے متعلق سہولیات سمیت تمام ضروری اشیا کی غزہ میں داخلے اور تقسیم پر عائد پابندیاں فوری طور پر ختم کرے۔ وزرائے خارجہ نے اقوامِ متحدہ اور اس کے اداروں کے ذریعے غزہ میں فوری، مکمل اور بلا رکاوٹ انسانی امداد کی فراہمی، بنیادی ڈھانچے اور ہسپتالوں کی بحالی، اور صدر ٹرمپ کے منصوبے کے مطابق رفح کراسنگ کو دونوں اطراف سے کھولنے کا بھی مطالبہ کیا۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) اس سے قبل برطانیہ، کینیڈا، فرانس اور دیگر ممالک نے منگل کو ایک مشترکہ بیان میں کہا تھا کہ غزہ میں انسانی صورتحال ایک بار پھر خراب ہو گئی ہے اور انتہائی تشویش کا باعث ہے۔ یہ بیان، جو برطانوی دفتر خارجہ کی ویب سائٹ پر شائع ہوا، میں کہا گیا کہ اسرائیل کو چاہیے کہ غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) کو مستقل اور قابل اعتماد طریقے سے کام کرنے کی اجازت دے اور اقوام متحدہ کے اداروں کو فلسطینی علاقے میں اپنے کام جاری رکھنے کو یقینی بنائے۔ بیان میں کینیڈا، ڈنمارک، فن لینڈ، فرانس، آئس لینڈ، جاپان، ناروے، سویڈن، سوئٹزرلینڈ اور برطانیہ کے وزرائے خارجہ نے کہا ’ہم غزہ کی انسانی صورتحال میں ایک بار پھر ہونے والی بگاڑ پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہیں، جو اب بھی تباہ کن ہے۔‘ بیان میں مزید کہا گیا کہ اسرائیل کو بعض درآمدات، بشمول طبی سازوسامان اور رہائشی سہولیات، پر عائد ’غیر معقول پابندیاں‘ ختم کرنی چاہییں اور غزہ میں انسانی امداد میں اضافے کے لیے سرحدی راستے کھولنے چاہییں۔ پاکستان غزہ امداد اعلامیے میں نشاندہی کی گئی کہ ناکافی انسانی رسائی، جان بچانے والی ضروری اشیا کی شدید قلت اور بنیادی سہولیات کی بحالی و عارضی رہائش کے لیے درکار مواد کے سست داخلے نے غزہ میں حالات کو مزید خراب کر دیا ہے۔ انڈپینڈنٹ اردو جمعہ, جنوری 2, 2026 - 17:00 Main image:

مرکزی غزہ میں بے گھر فلسطینی نو نومبر 2025 کو امداد حاصل کرنے کے لیے ٹرکوں کے ساتھ موجود ہیں (ایاد بابا / اے ایف پی)

پاکستان type: news related nodes: غزہ میں صورت حال ’تباہ کن‘، اسرائیل راستے کھولے: 10 ممالک کا بیان غزہ، کشمیر میں امن کے لیے دو کشمیری اساتذہ کا لاہور تک پیدل مارچ غزہ امن فورس کا حصہ بننے کو تیار ہیں اگر مینڈیٹ حماس کو غیر مسلح کرنا نہ ہو: اسحاق ڈار غزہ کی تعمیر نو کے لیے امریکہ کا عالمی کانفرنس کا ارادہ SEO Title: پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کا غزہ میں فوری اور بلا رکاوٹ امداد کا مطالبہ copyright: show related homepage: Show on Homepage