2026: معیشت بہتر ہو گی یا جمع خرچ ہی چلے گا؟

سال 2026 شروع ہو چکا۔ تاریخ بدل گئی، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا معاشی حالات بھی بدلیں گے؟ تاریخ بدلنا آسان ہے مگر حالات بدلنا نہیں۔ تاریخ تو کلینڈر کی ایک سادہ سی تبدیلی ہے مگر عام آدمی کی جیب، کاروباری ماحول اور ملکی معیشت کے لیے یہ تبدیلی صرف اس وقت معنی رکھتی ہے جب معاشی بنیادیں مضبوط ہوں۔ پاکستانی معیشت اب بھی کئی چیلنجز سے دوچار ہے۔ مہنگائی، کرنسی کی قدر میں اتار چڑھاؤ، بجلی اور گیس کی قیمتیں اور بیرونی قرضوں کا بوجھ عوام پر دباؤ ڈال رہا ہے۔ اگرچہ حکومت نے استحکام کے لیے اقدامات کیے ہیں، ملکی ذخائر میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، ترسیلات زر بڑھ رہی ہیں اور برآمدات میں بھی کچھ بہتری آ رہی ہے، مگر ان کے اثرات فوری نہیں ہوتے۔ عام آدمی کے لیے روزمرہ کی زندگی میں فرق محسوس ہونے میں مہینے یا سال لگ سکتے ہیں۔ پاکستان اور عوام کی معاشی ترقی زراعت سے جڑی ہے۔ پاکستان کی تقریباً 45 فیصد سے زیادہ آبادی کا ذریعہ معاش زراعت سے وابستہ ہے۔ یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ اگر زرعی شعبہ ترقی کرے گا تو عام آدمی بھی ترقی کرے گا۔ 2025 میں زرعی شعبے میں مطلوبہ سرمایہ کاری نہیں ہو سکی اور 2026 میں فرٹیلائزر اور پیسٹی سائیڈ پر مزید ٹیکسز لگانے کی بات ہو رہی ہے۔ اس سے زرعی شعبے کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں، لیکن پھر بھی سرکار پُرامید ہے کہ 2026 میں زرعی شعبے میں بڑی سرمایہ کاری ہو سکتی ہے۔ عالمی بینک کے سرمایہ کاری کے ادارے انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن نے پاکستان میں 30 ارب، 60 کروڑ روپے کی اپنی پہلی مقامی کرنسی میں سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ عالمی بینک کو دیکھتے ہوئے دیگر ادارے اور ممالک پاکستان میں سرمایہ کاری کر سکتے ہیں۔ پاکستان کی سب سے بڑی برآمدات ٹیکسٹائل مصنوعات ہیں۔ ٹیکسٹائل سیکٹر پاکستان میں ملازمتیں فراہم کرنے والا سب سے بڑا شعبہ ہے۔ ٹیکسٹائل اور گارمنٹ فیکٹریاں تقریباً 40 فیصد صنعتی لیبر فورس کو روزگار دیتی ہیں۔ تقریباً 30 فیصد ملازمین خواتین ہیں، جو اس شعبے میں اپنے خواب بُنتی ہیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ ٹیکسٹائل شعبے کی ترقی پاکستان کی ترقی ہے تو شاید غلط نہیں ہو گا۔ مہنگی بجلی اور کپاس کی کم پیداوار کے باوجود 2025 میں ٹیکسٹائل برآمدات میں تقریباً 7.1 فیصد اضافہ ہوا۔ یہ اضافہ اس وقت ریکارڈ ہوا جب تقریباً 200 کے قریب ٹیکسٹائل یونٹس مہنگی بجلی کی وجہ سے بند کر دیے گئے۔ اگر 2026 میں ٹیکسٹائل سیکٹر کے لیے بجلی کے ریٹ کم کر دیے گئے اور ڈالر ریٹ کو مارکیٹ کی ڈیمانڈ اور سپلائی کے مطابق بڑھنے دیا گیا تو ٹیسکٹائل برآمدات میں بڑا اضافہ ممکن ہے، جس سے روزگار کے مواقع بڑھ سکتے ہیں۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) پاکستان کی نوجوان نسل نے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں دنیا کے اندر اپنا لوہا منوایا ہے۔ آئی ٹی فری لانسنگ میں پاکستان دنیا میں چوتھے نمبر پر ہے۔ پاکستانی نوجوانوں کے لیے سب سے زیادہ سکوپ آئی ٹی میں ممکن ہو سکتا ہے۔ 2025 میں آئی ٹی برآمدات تقریباً 3.8ارب ڈالر رہیں جو 2024 کی نسبت 18فیصد زیادہ ہیں اور ٹریڈ سرپلس بھی باقی شعبوں کی نسبت بہتر ہے۔ 2026 میں ملک میں فائیو جی کے لائسنس کی تیاری ہے اور آئی ٹی شعبے کی ترقی کے لیے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ بڑے ایم او یوز بھی دستخط ہوئے ہیں۔ اگر ان ایم او یوز پر عمل درآمد ہو گیا تو سائبر سکیورٹی، مصنوعی ذہانت اور آئی ٹی کے شعبوں میں روزگار کے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں اور آئی ٹی برآمدات میں اضافے کا تسلسل برقرار رہ سکتا ہے۔ سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ پاشا کہتے ہیں کہ ’عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے مطابق 2026 میں شرح نمو بمشکل تین فیصد رہے گا، جس کا مطلب ہے غربت مزید بڑھے گی، جو اب بھی 45 فیصد ہے۔‘ 26 ستمبر 2024 کی اس تصویر میں لوگ کراچی کی ایک دکان پر چاول کے معیار کی جانچ کر رہے ہیں (آصف حسن/ اے ایف پی) بقول ڈاکٹر حفیظ پاشا: ’غربت اور بے روزگاری میں کمی کے لیے شرح نمو تقریباً پانچ فیصد ہونا ضروری ہے اور موجودہ حالات میں اس کے امکانات کم ہیں۔ ’پچھلے تین سالوں میں فی کس آمدنی میں کمی آئی۔ آبادی 2.5 فیصد سے بڑھ رہی ہے اور شرح نمو بھی تقریباً 1.7 فیصد رہی ہے۔ ایسے حالات میں 2026 سے زیادہ امیدیں لگانا مناسب نہیں۔‘ دوسری جانب سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر سلیمان شاہ کہتے ہیں کہ ’2026 میں معیشت کروٹ لے گی یا نہیں، یہ جاننے کے لیے موجودہ سیاسی اتحاد کے پچھلے تین سالوں کی کارکردگی دیکھنا ضروری ہے۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’مہنگائی کی رفتار میں کمی، ڈالر کی قیمت میں استحکام، شرح سود میں کمی، کرنٹ اکاؤنٹ سر پلس کا حصول صوبوں کو کیش سرپلس میں لانے سمیت کئی کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں لیکن فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ میں بری طرح ناکامی اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کا ملک سے انخلا جیسے مسائل پر تین سالوں سے قابو نہیں پایا جا سکا۔ ’ابھی تک کوئی ایسا روڈ میپ سامنے نہیں آ سکا جس سے امید پیدا ہو کہ 2026 میں ان مسائل پر قابو پا لیا جائے گا۔ جمع خرچ ہی چلے گا لیکن کوئی ڈرامائی تبدیلی آنے کے امکانات کم ہیں۔‘ پاکستان کے امریکہ، سعودی عرب اور چین کے ساتھ مضبوط معاشی تعلقات ہیں۔ 10 مئی کے بعد عالمی منظر نامے پر پاکستان کا امیج بہتر ضرور ہوا ہے، جس کا فائدہ 2026 میں ہونا چاہیے، لیکن اس حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ اس وقت پاکستان میں آئی ایم ایف کی قیادت میں معیشت کو سہارا دینے کا عمل جاری ہے۔ جب آئی ایم ایف ہوتی ہے تب گروتھ نہیں ہو سکتی۔ صرف 2026 ہی نہیں بلکہ 2028 تک معاشی گروتھ کے امکانات کم دکھائی دے رہے ہیں۔ اگر 2026 میں بھی عام آدمی کے لیے زندگی آسان نہ ہوئی تو تاریخ تو بدلے گی، مگر تاریخ کا فیصلہ شاید عوام کے حق میں نہ ہو۔ نوٹ: یہ تحریر بلاگر کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، انڈپینڈنٹ اردو کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ پاکستانی معیشت 2026 آئی ایم ایف پاکستانی معیشت اب بھی کئی چیلنجز سے دوچار ہے۔ مہنگائی، کرنسی کی قدر میں اتار چڑھاؤ، بجلی اور گیس کی قیمتیں اور بیرونی قرضوں کا بوجھ عوام پر دباؤ ڈال رہا ہے۔ میاں عمران احمد ہفتہ, جنوری 3, 2026 - 07:45 Main image:

لاہور کی پھلوں کی منڈی میں 11 دسمبر، 2025 کو ایک مزدور ہتھ گاڑی میں مالٹے لے جا رہا ہے (اے ایف پی)

معیشت type: news related nodes: پاکستان - بائنانس معاہدہ کتنا فائدہ مند؟ بسنت کی بحالی عام آدمی کی معیشت کو سہارا دے سکتی ہے؟ انڈیا کو معاشی دھچکے، کیا پاکستان فائدہ اٹھا سکتا ہے؟ افغانستان سے تجارت کی بندش، عام آدمی اور کاروبار کس طرح متاثر ہوں گے؟ SEO Title: 2026: معیشت بہتر ہو گی یا جمع خرچ ہی چلے گا؟ copyright: show related homepage: Hide from Homepage