پنجاب کے جنگلات پر نظر رکھنے کے لیے قائم کنٹرول روم کیسے کام کرتا ہے؟

پنجاب حکومت نے جنگلات کا تحفظ یقینی بنانے کی خاطر لاہور میں براہ راست نگرانی کے لیے کنٹرول روم  قائم کر دیا ہے، جہاں سیٹیلائٹ اور ڈرون کیمروں کے ذریعے صوبے بھر کے جنگلات کی دن رات نگرانی جاری ہے۔ انڈپینڈنٹ اردو نے جنگلات کی نگرانی کے لیے بنائے گئے جدید کنٹرول روم بارے میں جاننے کے لیے محکمہ جنگلات پنجاب کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) اظفر ضیا سے بات چیت کی، جنہوں بتایا کہ ’حکومت پنجاب نے یہ جدید کنٹرول روم ایک سال کے میں مکمل کیا ہے، جس کے ذریعے سیٹیلائٹ اور ڈرون کیمروں کے ذریعے 24 گھنٹے صوبے بھر کے جنگلات کی براہ راست نگرانی جاری ہے۔ ’اسے ہم ڈیجیٹل فوریسٹری کا نام دیتے ہیں جس کا مطلب ہے کہ جنگلات میں پرانے درختوں کی دیکھ بھال، نئے درخت لگانا اور درختوں کی چوری کو روکنا یقینی بنایا جا سکے۔‘ اظفر ضیا نے مزید کہا: ’پنجاب کے 16لاکھ 50 ہزار ایکڑ رقبے پر موجود جنگلات محکمہ جنگلات کی زیر نگرانی ہے۔ اس رقبے میں ایسے مقامات بھی ہیں، جہاں درخت لگانے کا کام جاری ہے۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) ’اس کے علاوہ سڑکوں اور نہروں کے کنارے درخت لگانے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ ہم نے چیف منسٹر پلانٹ فار پاکستان کے نام سے منصوبہ شروع کر رکھا ہے۔ حالیہ مون سون میں دو کروڑ 10 لاکھ پودے اسی منصوبے کے تحت لگائے گئے۔‘ ڈی جی محکمہ جنگلات کے بقول: ’یہ لائیو سکرین آپ دیکھ سکتے ہیں جس سے یہاں ہم مانیٹرنگ کر رہے ہیں۔ یہاں ہم دیکھ سکتے ہیں کہ آگ لگنے کا خطرہ کتنا ہے؟ کہیں چنگاری ہو تو علم ہوجاتا ہے۔ ہم سیٹیلائٹ سے تھرمل امیجنگ کے ذریعے بھی جان سکتے ہیں کہ یہاں آگ لگنے کا خظرہ ہے۔ اس کے ساتھ فائر الرٹ سسٹم بھی لگایا گیا ہے، 600 مقامی افراد کو ساتھ ملایا ہے جو بروقت اطلاع دینے کے پابند ہیں۔‘ بقول اظفر ضیا: ’ہم نے جب تین چار طریقوں سے مانیٹرنگ شروع کی تو اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اب جنگلات میں آگ لگنے کے واقعات 62 فیصد کم ہوئے ہیں۔ جدید نظام سے 96 فیصد درختوں کو نقصان کم ہوچکا ہے۔ اسی طرح فوریسٹ نرسری سسٹم مانیٹر کرنے سے لائیو معلوم ہوجاتا ہے کہ کُل کتنے پودے ہیں، انہیں کب لگانا ہے یا تقسیم کرنا ہے۔‘ محکمہ جنگلات پنجاب کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) اظفر ضیا جنگلات کی نگرانی کے لیے بنائے گئے کنٹرول روم کے بارے میں بتا رہے ہیں (انڈپینڈنٹ اردو) جنگلات کے تحفظ کے لیے نیا قانون پنجاب حکومت نے جنگلات کو بچانے کے لیے 100 سال پرانا قانون تبدیل کر کے اس کی جگہ نیا قانون بنا دیا ہے۔ اظفر ضیا کا کہنا ہے کہ ’انگریزوں نے اپنے دور میں 1927 میں جو فاریسٹ ایکٹ بنایا تھا، اس وقت اس کا مقصد درختوں کا تجارتی مقاصد کے لیے استعمال تھا۔ ریل گاڑیوں کے انجن کوئلے سے چلتے تھے، جن کے لیے خانیوال اور چیچہ وطنی کے جنگلوں سے لکڑی حاصل کی جاتی تھی۔ اس وقت موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ ذہن میں نہیں تھا۔ ’حکومت پنجاب نے جو نیا فاریسٹ ایکٹ بنایا ہے اس کے مطابق فاریسٹ کرائم کو منظم جرم قراردیا گیا ہے اور سزا سات سال کر دی گئی ہے۔‘ انہوں نے مزید بتایا کہ درخت کاٹنے یا چوری کرنے کو ناقابل ضمانت جرم قرار دے دیا گیا ہے۔ صوبے بھر میں فاریسٹ پروٹیکشن سینٹرز اور تھانے قائم ہوں گے اور محکمہ جنگلات کی الگ فورس بنائی بنائی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا: ’فورس کے اہلکاروں کو باڈی کیم دیے جائیں گے تاکہ کرپشن نہ ہو سکے۔ اس فورس کو مقدمہ درج کرنے اور تفتیش کا اختیار بھی دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ کسی نایاب یا قدیم درخت کو نجی طور پر بھی کوئی نہیں کاٹ سکے گا۔‘ جنگلات شہری جنگلات درخت قانون نگرانی صوبائی حکومت نے جنگلات کے تحفظ کے لیے 100 سال پرانا قانون تبدیل کر کے نئے قانون کے تحت درخت کاٹنے اور اسے نقصان پہنچانے پر سخت سزا تجویز کی ہے۔ ارشد چوہدری ہفتہ, جنوری 3, 2026 - 09:30 Main image:

پنجاب کے جنگلات پر نظر رکھنے کے لیے قائم کیا گیا کنٹرول روم (انڈپینڈنٹ اردو)

ماحولیات jw id: kSocnbun type: video related nodes: ہجامڑو کریک کے سمندری جنگلات، زرمبادلہ اور ماحولیاتی توازن کا ذریعہ ہجامڑو کریک کے سمندری جنگلات، زرمبادلہ اور ماحولیاتی توازن کا ذریعہ جنگلات کی کٹائی اور تیندووں کے حملے اسلام آباد میں صرف پولن الرجی والے درخت کاٹ رہے ہیں: حکام SEO Title: پنجاب کے جنگلات پر نظر رکھنے کے لیے قائم کنٹرول روم کیسے کام کرتا ہے؟ copyright: show related homepage: Hide from Homepage