پاکستان نے انڈین وزیر خارجہ جے شنکر کے حالیہ ’غیر ذمہ دارانہ‘ بیانات کو دوٹوک انداز میں مسترد اور نئی دہلی پر ’دہشت گردی کو فروغ دینے‘ کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد سندھ طاس معاہدے کے تحت اپنے جائز حقوق کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔ جمعے کو مدراس میں ایک تقریب سے خطاب میں انڈین وزیر خارجہ نے پاکستان کا نام لیے بغیر کہا تھا کہ ’اگر کوئی ملک جان بوجھ کر، مسلسل اور بلا ندامت دہشت گردی جاری رکھنے کا فیصلہ کرتا ہے تو ہمیں اپنے عوام کے دفاع کا حق حاصل ہے۔‘ بقول جے شنکر: ’ہم یہ حق کس طرح استعمال کریں گے، یہ ہمارا فیصلہ ہے۔ کوئی ہمیں یہ نہیں بتا سکتا کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے یا کیا نہیں۔ ہم اپنے دفاع کے لیے جو بھی ضروری ہوا کریں گے۔‘ انڈین وزیر خارجہ نے سندھ طاس معاہدے کا حوالے دیتے ہوئے مزید کہا تھا کہ ہمسائیگی کا تصور باہمی ہونا چاہیے۔ ’آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ میں دہشت گردی بھی جاری رکھوں گا اور آپ سے پانی کی تقسیم کی توقع بھی رکھوں گا۔ یہ قابلِ مفاہمت نہیں ہے۔‘ انڈین بیانات کے ردعمل میں پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے ہفتے کو جاری بیان میں کہا کہ ’سندھ طاس معاہدہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے جو نیک نیتی اور بھاری قیمت ادا کرکے طے پایا تھا۔‘ دفتر خارجہ کے مطابق: ’انڈیا کی جانب سے معاہدے کی کسی بھی یکطرفہ خلاف ورزی سے علاقائی استحکام کو نقصان پہنچے گا اور ایک ایسی ریاست کے طور پر اس کی ساکھ پر سوال اٹھے گا جو بین الاقوامی قانونی ذمہ داریوں کے احترام کا دعویٰ کرتا ہے۔ پاکستان معاہدے کے تحت اپنے جائز حقوق کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔‘ انڈیا نے 22 اپریل 2025 کو اپنے زیر انتظام کشمیر کے علاقے پہلگام میں 26 اموات کا الزام پاکستان پر عائد کرتے ہوئے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے سمیت دیگر یکطرفہ اقدامات کیے تھے، تاہم اسلام آباد پہلگام حملے میں ملوث ہونے کے انڈین الزام کی تردید کرتا ہے۔ پاکستان نے انڈیا کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی یک طرفہ خلاف ورزی پر متعدد بار تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس اقدام کو غیر قانونی اور ملک کے لیے ’سرخ لکیر‘ قرار دیا ہے۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) دفتر خارجہ نے انڈیا پر ’دہشت گردی کو فروغ دینے‘ اور ’علاقائی عدم استحکام میں اضافہ‘ کے الزامات عائد کرتے ہوئے مزید کہا کہ ’خطے بالخصوص پاکستان کے خلاف، دہشت گرد سرگرمیوں کے فروغ میں انڈیا کے کردار سے سب بخوبی آگاہ ہیں۔‘ ترجمان دفتر خارجہ نے مارچ 2016 میں بلوچستان سے گرفتار کیے گئے انڈین جاسوس کلبھوشن یادو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ ’پاکستان کے خلاف منظم، ریاستی سرپرستی میں کی جانے والی دہشت گردی کی ایک واضح مثال ہے۔‘ مزید کہا گیا کہ ’اسی طرح ماورائے سرحد قتل، پراکسیز کے ذریعے تخریب کاری اور دہشت گرد نیٹ ورکس کی خفیہ معاونت کے بار بار سامنے آنے والے واقعات بھی نہایت تشویش ناک ہیں۔ یہ طرزِ عمل ہندوتوا کے انتہا پسند نظریے اور اس کے پرتشدد حامیوں سے مطابقت رکھتا ہے۔‘ پاکستان کا اصرار ہے کہ افغانستان میں موجود کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے عسکریت پسند سرحد پار حملے کرتے ہیں، جنہیں انڈیا کی حمایت بھی حاصل ہے، لیکن کابل اور نئی اس کی تردید کرتے ہیں۔ ترجمان دفتر خارجہ نے جموں و کشمیر پر انڈیا کے ’غیر قانونی اور پرتشدد فوجی قبضے‘ کا ذکر کرتے ہوئے مزید کہا کہ ’پاکستان کشمیری عوام کی ان کی منصفانہ جدوجہد میں مکمل سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھنے کے اپنے عزم پر قائم ہے تاکہ وہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق اپنے حقِ خود ارادیت کو حاصل کر سکیں۔‘ سندھ طاس معاہدہ انڈیا ترجمان دفتر خارجہ پاکستان نے انڈین وزیر خارجہ جے شنکر کے حالیہ ’غیر ذمہ دارانہ‘ بیانات کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد سندھ طاس معاہدے کے تحت اپنے جائز حقوق کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔ انڈپینڈنٹ اردو ہفتہ, جنوری 3, 2026 - 13:45 Main image:
دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی 18 دسمبر، 2025 کو اسلام آباد میں ہفتہ وار پریس کانفرنس کر رہے ہیں (قرۃ العین شیرازی/ انڈپینڈنٹ اردو)
پاکستان type: news related nodes: انڈیا نے سندھ طاس کمیشن کی بجائے سفارتی ذرائع سے سیلاب کی وارننگ دی سندھ طاس معاہدہ پاکستان کے لیے سرخ لکیر ہے: شہباز شریف شک ہے پہلگام سندھ طاس معاہدے کے خاتمے کے لیے ہوا: اسحاق ڈار سندھ طاس معاہدے کی معطلی، قانونی مشاورت مکمل: پاکستان SEO Title: سندھ طاس معاہدے کے تحت جائز حقوق کے تحفظ کے لیے اقدامات کریں گے: پاکستان copyright: show related homepage: Show on Homepage