ڈنمارک کی قومی ڈاک سروس نے اپنا آخری خط 30 دسمبر کو منزل تک پہنچا دیا جس کے ساتھ ہی 400 سال سے زیادہ کی اس روایت کا خاتمہ ہوگیا۔ 2025 میں قومی سروس نے میل کی ترسیل روکنے کا فیصلہ کیا، جس کے ساتھ 1,500 ملازمتوں اور 1,500 سرخ رنگ کے ڈاک خانوں کے خاتمے کا بھی اعلان کیا۔ پوسٹ نورڈ نے کہا کہ یہ فیصلہ ڈنمارک میں ’بڑھتی ہوئی ڈیجیٹلائزیشن‘ کی وجہ سے کیا گیا، یہ نوٹ کرتے ہوئے کہ حالیہ برسوں میں خط کی ترسیل ’بہت کم‘ ہو گئی ہے۔ اس سروس نے 2024 میں 2000 کے مقابلے میں 94 فیصد کم خطوط پہنچائے۔ ڈنمارک کی ڈاک سروس نے 1624 میں خطوط کی ترسیل شروع کی تھی۔ اس کے مقابلے میں پاکستان میں خطوط کی اہمیت اب بھی موجود ہے اور روزانہ ایک اندازے کے مطابق ہزاروں خطوط کی ترسیل ہوتی ہے۔ اس کی بڑی وجہ ماہرین کے مطابق ڈیجیٹلائزیشن کی سست روی ہے۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) انڈریاس بریتھواد، پوسٹ نورڈ ڈنمارک کے ڈائریکٹر، نے یہ نوٹ کرتے ہوئے کہ ’تقریباً ہر ڈین مکمل طور پر ڈیجیٹل ہو گیا ہے۔‘ سی این این کو بتایا کہ ’فزیکل خطوط اب پہلے کی طرح کوئی مقصد نہیں رکھتے۔‘ بریتھواد نے کہا: ’زیادہ تر مواصلات اب ہماری الیکٹرانک میل باکس میں آتے ہیں، اور آج کی حقیقت یہ ہے کہ ای کامرس اور پیکج مارکیٹ روایتی میل سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔‘ تاہم پوسٹ نورڈ پیکجز کی ترسیل جاری رکھے گا۔ تاہم، خطوط اب بھی ایک نجی کمپنی کے ذریعے، جسے ڈاؤ کہا جاتا ہے، پہنچائے جا سکتے ہیں، جو پوسٹ نورڈ کے فیصلے کے بعد اپنی خدمات کو بڑھانے کی توقع رکھتا ہے۔ گاہکوں کو اپنے خطوط ڈاؤ کی دکان پر چھوڑنے یا گھر پر اٹھانے کے لیے اضافی فیس ادا کرنے کی ضرورت ہوگی۔ ڈاک خط خط و کتابت ڈنمارک ڈنمارک کی قومی ڈاک سروس پوسٹ نورڈ نے اپنی فیصلے کے پیچھے ’بڑھتی ہوئی ڈیجیٹلائزیشن‘ کو وجہ قرار دیا ہے۔ انڈپینڈنٹ اردو ہفتہ, جنوری 3, 2026 - 18:15 Main image: تاریخ jw id: 4yKJIVtg type: video related nodes: خط والی باتیں فونوں پہ نہیں ہوتیں، کیا خیال ہے؟ اسامہ بن لادن اور ان کے بیٹے کی خط و کتابت اب گوگل جیمنائی آپ کی ای میلز اور دستاویزات پڑھ سکتا ہے والدین کی جارحانہ ای میلز اساتذہ کے لیے سر درد SEO Title: ڈنمارک کی قومی ڈاک نے اپنا آخری خط پہنچا دیا، 400 سالہ روایت ختم copyright: show related homepage: Hide from Homepage