’’پہلے قِصّہ سن لیجئے۔کہتے ہیں کہ ارب پتی عرب شیخ نے رولز رائس کار کمپنی سے رابطہ کیا اور کہا کہ دس دن کے بعد میری نوبیاہتا بیوی لندن آنیوالی ہے اور میںیہ چاہتا ہوں کہ اسکو نئی رولز رائس کار پر ایئرپورٹ سے ریسیو کروں۔ رولز رائس کی انتظامیہ نے شیخ سے کہا کہ ہمارے پاس تو گاڑی تیار نہیں ہوتی ہم آرڈر ملنے کے بعد گاہک کی خواہش کے مطابق اسے بناتے ہیں اور اس عمل میں کم از کم چھ ماہ لگ جاتے ہیں ۔شیخ امیر بھی تھا اور بارسوخ بھی، وُہ بضد رہا کہ نہیں مجھے دس دن کے اندر گاڑی چاہئے اور کہا کہ... Read more