گذشتہ تقریباً 50 برسوں میں مشرق وسطیٰ میں غالباً صرف ایک صورت حال ایسی ہے کہ جس میں فریب کی حد تک ہی سہی، کوئی تبدیلی نہیں ہوئی اور وہ ایران میں مذہبی قیادت کی حکمرانی ہے۔ اب یہ صورت حال تبدیل ہونے کے قریب ہو سکتی ہے، جس میں حکومت کی تبدیلی یا افراتفری یا ان دونوں کا امکان موجود ہے اور اس کے ملک، خطے اور اس سے باہر بھی دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ گذشتہ ہفتے کے دوران، تہران میں بڑے پیمانے پر سڑکوں پر احتجاجی مظاہرے پھوٹ پڑے، جو تیزی سے پورے ملک یعنی مشرق، مغرب اور جنوب میں پھیل چکے ہیں۔ اس کی فوری وجوہات معاشی ہیں یعنی گذشتہ چھ ماہ کے دوران امریکی ڈالر کے مقابلے میں ایرانی کرنسی کی قدر میں تقریباً 60 فیصد کمی، ایندھن اور گھریلو توانائی کی قلت اور تیزی سے بڑھتی ہوئی مہنگائی، جس سے کھانے پینے کی کئی اشیا کی قیمتوں میں 70 فیصد سے زائد اضافہ ہو چکا ہے، جس کے باعث بہت سے لوگ اپنے پہلے سے گرے ہوئے معیارِ زندگی برقرار رکھنے کے وسائل سے محروم ہو گئے ہیں۔ ان حالات میں کہ جب کہ سابقہ احتجاجی مظاہرے، خاص طور پر 2022 کے وہ مظاہرے جو حجاب درست طریقے سے نہ کرنے کے الزام میں زیر حراست نوجوان خاتون مہسا امینی کی موت کے باعث شروع ہوئے تھے، صرف ایک مقصد تک محدود تھے اور عام طور پر دارالحکومت کے تعلیم یافتہ افراد تک ہی محدود رہے لیکن تازہ احتجاج تہران سے کہیں آگے نکل چکا ہے اور اس میں پہلے ہی عوام کے بہت بڑے اور مختلف طبقے شامل ہو رہے ہیں۔ بازار کے تاجروں اور چھوٹے دکانداروں نے احتجاج میں شامل ہونے کے لیے اپنے کاروبار بند کر دیے ہیں۔ متوسط طبقے کے کارکنوں کے ساتھ ساتھ طلبہ بھی ان مظاہروں میں شامل ہو گئے ہیں اور ان مظاہروں نے کئی مقامات پر براہ راست سیاسی اور انتظامیہ مخالف رنگ اختیار کر لیا ہے، جن میں مذہبی رہنماؤں کی حکمرانی کے خاتمے کے مطالبات شامل ہیں اور بعض صورتوں میں تو شاہ کے دور کی یاد میں نعرے بھی لگائے جا رہے ہیں۔ اب یہ بالکل ممکن ہے کہ بے چینی کی یہ لہر محض اس بتدریج بڑھتے ہوئے انتشار کا ایک نیا سلسلہ ثابت ہو جسے مذہبی حکومت کے خاتمے تک، اگر ایسا کبھی ہوا تو، ابھی طویل سفر طے کرنا ہے، لیکن یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ انقلابات جب آتے ہیں، تو وہ بظاہر اچانک کہیں سے بھی نمودار ہو سکتے ہیں۔ توقعات سے کہیں زیادہ شدت اختیار کر سکتے ہیں اور حکومت کو خاتمے کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔ غیر جمہوری حکومتیں اقتدار میں ہونے کی ہر علامت ظاہر کر سکتی ہیں، جب تک کہ وہ اچانک اقتدار سے محروم نہ ہو جائیں۔ ایسی ہی ایک عوامی تحریک تھی جس نے 1979 میں غیر ملکی جلاوطنی سے واپسی پر آیت اللہ خمینی کو اقتدار تک پہنچایا تھا۔ خمینی کی واپسی سے بادشاہت کے خاتمے تک صرف 10 دن لگے اور اس کے مزید دو ماہ بعد ایک ریفرنڈم کے ذریعے ایران کے اسلامی جمہوریہ ہونے کی تصدیق کر دی گئی۔ کیا یہ ممکن ہے کہ تقریباً تین نسلیں گزرنے کے بعد، مذہبی طرز حکومت کی کشش اپنی مدت پوری کر چکی ہو اور اس کے ساتھ ہی، اقتدار پر اس کی گرفت بھی؟ اس امکان کو رد نہیں کرنا چاہیے، لیکن اس کے بعد جو کچھ ہو سکتا ہے اس کے مختلف مراحل ہیں۔ ایران کے ’پاسداران انقلاب‘ ماضی میں بے رحمانہ کارروائیاں کرنے سے نہیں ہچکچائے۔ اس کی مثال 2022 کے اقدامات ہیں، جب پرتشدد جبر کے نتیجے میں خواتین کے حقوق کے احتجاج بتدریج دم توڑ گئے تھے اور وہ اب بھی جسمانی اور سیاسی جبر کے وہی طریقے اپنا رہی ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ’پاسداران انقلاب‘ اور ان کے مذہبی رہنما اس سلسلے میں کس حد تک جانے کے لیے تیار ہیں؟ کیا ان میں ارادہ یا اس سے بڑھ کر، ’تیان من سکوائر‘ جیسے کسی ’حل‘ کی جانب بڑھنے کی صلاحیت موجود ہے؟ کئی عوامل ایسے دکھائی دیتے ہیں جو اس امر کے خلاف جاتے ہیں۔ ملک اور اس کے مظاہرین کو بیرونی دنیا سے الگ تھلگ کرنا اب چار دہائیوں پہلے کی نسبت کہیں زیادہ مشکل ہے۔ ایرانی تارکین وطن متحرک اور محب وطن ہیں۔ آیت اللہ اب ضعیف ہو چکے ہیں اور ان کی اتھارٹی گذشتہ سال کے امریکی اور اسرائیلی حملوں سے کمزور ہوتی دکھائی دے رہی ہے، جنہیں اب ’12 روزہ جنگ‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ معیار زندگی کے بارے میں بے چینی اب تقریباً ہر جگہ پائی جاتی ہے۔ 29 دسمبر 2025 کو تہران میں دکاندار اور تاجر معاشی حالات اور ایرانی کرنسی کے خلاف سڑک پر احتجاج کر رہے ہیں (اے ایف پی) روس کے دو ادوار کا موازنہ نہ کیا جائے۔ افغان جنگ اور اس کے بعد کے اثرات، دفاعی اخراجات کی بھرمار اور معاشی ابتری کے مجموعے نے سوویت نظام کو ڈبونے میں مدد دی تھی، لیکن پوتن زیادہ ہوشیار اور خوش قسمت رہے ہیں، جنہوں نے یوکرین جنگ کے دوران معیارِ زندگی کو زیادہ تر برقرار رکھ کر اور مغربی پابندیوں کا مقابلہ کر کے روسی عوام کو اپنے ساتھ ملائے رکھا ہے۔ ایران کو اس تباہ کن دہری مشکل کا سامنا ہے جس میں فوجی شکست قومی حوصلے کو پست کر رہی ہے اور پابندیاں معیشت کو بتدریج اپاہج بنا رہی ہیں۔ اگر حکومت کی تبدیلی کا امکان ہے، تو افراتفری کے خلاف ایک ممکنہ رکاوٹ ایران کے منتخب صدر مسعود پزشکیان کی شخصیت ہو سکتی ہے۔ گذشتہ ہفتے جب پہلے احتجاجی مظاہرے شروع ہوئے تو انہوں نے بظاہر آیت اللہ سے جوابی کارروائی کی اپیل کی اور کہا کہ ان کی حکومت مظاہرین کے ’جائز مطالبات‘ سنے گی۔ لیکن اقتدار سے وابستہ کسی بھی شخص کے خلاف نفرت کی شدت کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ ان کا عروج شاید پہلے ہی آ کر گزر چکا ہے۔ یہ ایک ایسی صورت حال ہے جس کی راہ ہموار کرنے میں مغرب نے شاید نادانستہ طور پر مدد کی۔ اپنے پیشرو صدر کی ہیلی کاپٹر حادثے میں موت کے بعد بالواسطہ طور پر برسر اقتدار آنے والے پزشکیان نے، جو کسی زمانے میں فوجی سرجن تھے، اپنے منتخب ہونے کے فوراً بعد 2024 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران بیرونی دنیا کی طرف غیر معمولی پیش قدمی کی تھی، لیکن یہ ایک ایسی پیشکش تھی جسے ان لوگوں نے یا تو نظر انداز کر دیا یا مسترد کر دیا، جن کے لیے یہ کی گئی تھی۔ یوں ایک موقع ضائع ہو گیا اور ایران دوبارہ اپنی ذات میں سمٹ گیا۔ اب یہ واضح نہیں ہے کہ آیا پزشکیان کے پاس ایران کی موجودہ نازک صورت حال میں قیادت سنبھالنے کے لیے اثر و رسوخ یا ذاتی ولولہ موجود ہے یا نہیں؟ برسوں تک ایران کے ساتھ ایک علاقائی الگ تھلگ ملک اور ایک سرکش ریاست کے درمیان والا سلوک کرنے کے بعد (جس کی وجہ اس کے جوہری عزائم سمجھے جاتے ہیں، جن کی ایران تردید کرتا ہے)، بیرونی دنیا کو اب اچانک موجودہ سال میں جلد یا بدیر ایران میں بڑی تبدیلی کے امکان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ایک غیر مستحکم اور پر انتشار ایران اپنے پڑوسیوں، پہلے مرحلے میں عراق اور ترکی کو اپنے مفاد کے لیے چھوٹے حصوں پر قبضے کی ترغیب دے سکتا ہے، جس سے نئے علاقائی تنازعات جنم لے سکتے ہیں۔ اسرائیل پہلے ہی ایران کی فوجی صلاحیتوں پر، چاہے وہ جتنی بھی باقی بچی ہوں، ایک نئے حملے کی دھمکی دے رہا ہے اور امریکہ بھی یہ دعویٰ کرتے ہوئے اس میں شامل ہو سکتا ہے کہ دنیا کو ’بے لگام ایٹمی ہتھیاروں‘ یا خطے میں ایک نئی جوہری طاقت سے محفوظ رکھنے کی ضرورت ہے۔ لیکن ایران میں بے چینی جتنی بڑی دھمکی ہے اتنے ہی بڑے مواقع کی نوید بھی ہے۔ اگر اس سب کے نتیجے میں ایک ایسا ایران ابھرتا ہے، جس کے ہتھیار بین الاقوامی کنٹرول میں ہوں، ایک ایسا ایران جو خطے میں دوسری جگہوں پر مداخلت بند کر دے اور ایک ایسا ایران جو دنیا کے ساتھ دوبارہ جڑنے اور اس داخلی جدیدیت کے منصوبے پر واپس آنے کا خواہش مند ہو، جو اسلامی انقلاب کی وجہ سے رک گیا تھا، تو یہ ایک انتہائی مثبت تبدیلی ثابت ہو سکتی ہے۔ جب تک ایران کی مستقبل کی سمت غیر یقینی ہے، بیرونی دنیا کے لیے بہتر یہی ہو گا کہ وہ اس معاملے سے الگ رہے۔ یہ یاد رکھے کہ ایران ایک قدیم تہذیب ہے، جس میں اپنی قومی شناخت کا بھرپور احساس موجود ہے اور ایسا کچھ نہ کرے، جس سے اس کی عزت نفس کو ٹھیس پہنچے۔ نیا سال پہلے ہی ایک بہت ہی خاص حوالے سے دنیا کی حالت بہتر بنانے کا دہائیوں میں ایک بار آنے والا موقع پیش کر رہا ہے اور اگر یہ واقعی ایک موقع ہے، تو اسے ضائع نہیں ہونا چاہیے۔ ایران ایران اسرائیل کشیدگی تہران ایران ترکی تعلقات ایران سعودی عرب تعلقات ایران میں شدت کے ساتھ احتجاجی مظاہرے کئی صورتوں میں سرعام سیاسی اور شاہ کے دور کی یاد تازہ کروا رہے ہیں۔ میری ڈیجیوسکی اتوار, جنوری 4, 2026 - 09:15 Main image:
تہران میں 29 دسمبر 2025 کو معاشی حالات اور کرنسی کی قیمت میں کمی کے خلاف احتجاج کے دوران دکاندار اور تاجر ایک پل سے گزر رہے ہیں (اے ایف پی)
نقطۂ نظر type: news related nodes: ایران نے مظاہرین کو قتل کیا تو ان کی مدد کو آئیں گے: امریکی صدر ایران کے کئی شہروں میں مہنگائی کے خلاف مظاہرے، چھ اموات جوہری پروگرام پر ’منصفانہ‘ ڈیل کے لیے تیار، ڈکٹیشن نہیں: ایران ایران، ترک سرحد پر ملنے والی لاش پاکستانی کی ہے: سفارت خانہ SEO Title: ایران میں ایک اور انقلاب آنے کو ہے؟ copyright: IndependentEnglish origin url: https://www.independent.co.uk/voices/protest-iran-tehran-ali-khamenei-b2893460.html show related homepage: Hide from Homepage