کیا دور تھا وہ بھی جب بالی وڈ میں رومانی فلمیں تخلیق ہوتیں تو ان کی کہانیاں اور مکالمات ایسے رومان پرور ہوتے کہ دل میں جیسے ان گنت پھول کھل اٹھتے۔ کبھی ان فلموں میں معاشرتی اور سماجی تفریق کی دیوار اس قدر بلند ہوتیں کہ ہیرو بے چارہ انہیں ڈھا کر ہی اپنی محبت کی منزل تک پہنچتا۔ یعنی ہیرو اور ہیروئن ایک دوسرے کو پانے کے لیے درحقیقت آگ کا سمندر پار کرنے پر مجبور ہوتے اور بسا اوقات یہ جذباتی جوڑے اس دنیا اور سماج کو ہی خیر باد کہہ کر دوسرے جہاں کے مسافر بن جاتے۔ فلم بینوں کی تمام تر ہمدردی ہیرو اور ہیروئن سے جڑ جاتیں اور عموماً کلائمکس ’ہیپی اینڈنگ‘ پر ختم ہوتا تو فلم بینوں کے چہرے ایسے دمک رہے ہوتے، جیسے انہیں اپنی محبت یا پیار مل گیا ہو۔ یہ درست ہے کہ ہر دور میں فلموں میں جدت اور نت نئے آئیڈیاز شامل کیے گئے ہیں مگر محبت وہ سدا بہار فارمولا ہے جس پر فلمیں بننے کا سلسلہ تھم نہ سکا۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ نئے اداکار یا پھر سٹار سن کو متعارف کروانے کے لیے رومانی فلم سے ہی شروعات کی جاتی رہی ہے۔ جبھی تو سلمان خان،عامر خان، شاہ رخ خان، سنی دیول، بوبی دیول، سنجے دت، سمیت کئی اداکاروں کی پہلی فلم رومانی داستان کے گرد ہی گھومتی رہی۔ اسی بنا پر کوئی کنگ آف رومانس کہلایا تو کوئی کوئن آف ہارٹ یا پھر دھک دھک گرل۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ 80 اور پھر 90 کی دہائی دراصل رومانی فلموں کا سنہری دور رہا۔ اس دور کی فلموں کے گانے بھی آج تک لبوں پر محفوظ ہیں۔ اس سے بڑی بات کیا ہوگی کہ 90 کے عشرے میں جلوہ گر ہونے والی فلم ’عاشقی‘ اپنی رومانی کہانی اور مدھر اور رسیلے گیتوں کی وجہ سے ٹرینڈ سیٹر ثابت ہوئی۔ جس کے بعد تو میوزیکل رومنٹک فلموں کا وہ دور شروع ہوا کہ ایک کے بعد ایک شاہکار دیکھنے کو ملے۔ جب کبھی بھی موضوعاتی یا تاریخی فلمیں بنیں تو ان میں پیار کا پہلو ہی کہانی کو آگے بڑھاتا۔ جیسے مغل اعظم، دیوداس اور اے لو سٹوری 1942 اس کی نمایاں مثالیں ہیں۔ مگر گذشتہ چند سال کے دوران رومانی فلمیں بنانے کا رجحان کم سے کم ہوتا جا رہا ہے۔ بالی وڈ کا سب سے بڑا پروڈکشن ہاؤس ’یش راج فلمز‘ جو رومانی فلموں کی تخلیق سازی کا ایک مضبوط اور قابل اعتماد ادارہ تسلیم کیا جاتا رہا ہے۔ اب وہ بھی ایکشن اور ماردھاڑ پر مبنی فلموں پر زیادہ توجہ دینے لگا ہے لیکن کبھی کبھار منہ کا ذائقہ بدلنے کے لیے رومانی فلمیں بنانے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔ سال 2025 میں جس فلم کا چرچہ رہا وہ ’سیارہ‘ تھی، جس کے گانے، رومانی کہانی اور اداکاری ہر کسی کے دل میں گھر کر گئی۔ یہ فلم ایسے ماحول میں تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہوئی جب ایکشن فلموں کے ساتھ ساتھ ویب سیریز کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ تخلیق یش راج فلمز کی ہی تھی۔ انڈیا میں لگ بھگ ساڑھے تین سو کروڑ روپے سے زیادہ کا کاروبار کرنے والی یہ فلم، سب سے بڑی ہٹ ثابت ہوئی، جس کے گانوں نے بھی دھوم مچائی۔ سال 2025 کی ایک اور رومینٹک ہٹ فلم ’تیرے عشق میں‘ رہی۔ جس نے 113 کروڑ روپے سے زیادہ کی کمائی کی تھی۔ جبکہ ’لویپا‘، ’آنکھوں کی گستاخیاں‘ اور ’میرے ہسبنڈ کی بیوی’ بری طرح ناکام ثابت ہوئیں۔ اسی طرح 2016 میں جاری ہونے والی رومانی فلم ’صنم تیری قسم‘ کو دوبارہ سینیما گھروں میں سجایا گیا تو اس نے پہلے سے زیادہ غیر معمولی کاروبار کر کے سب کو چونکا دیا۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) اسی بنا پر پروڈکشن ہاؤس نے اعلان کیا کہ وہ اس کا سیکوئل بھی بنائیں گے۔ گذشتہ دو برس کے دوران کی فلموں کا جائزہ لیں تو حیرانی ہوتی ہے کہ اب بالی وڈ میں ایکشن، ماردھاڑ اور پروپیگنڈا فلموں کی تو بہتات ہے لیکن رومانس جیسے ان فلموں سے محروم ہوگیا ہے۔ ایک اہم سوال یہ بھی جنم لیتا ہے کیا ہماری زندگیوں سے رومانس ختم ہوتا جا رہا ہے جبھی فلم ساز بھی اس موضوع پر فلمیں بنانا گھاٹے کا سودا تصور کرتے ہیں؟ اس سلسلے میں تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جب سے بالی وڈ میں شخصیات اور واقعات پر فلمیں بننے کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے تو فلم سازوں کی توجہ اب رومانی فلموں سے ہٹ چکی ہے۔ فلم بینوں کا یہ بھی ماننا ہے کہ رومانی فلموں میں وہی گھسی پٹی کہانی پیش کی جاتی ہے جسے دیکھ دیکھ کر وہ اکتا چکے ہیں، ان تخلیقات میں اب کوئی کشش اور جاندار کہانیاں پیش نہیں کی جا رہیں۔ یہ ضرور ہے کہ اگر کسی فلم میں پیار و محبت کی داستان میں کچھ بھی نیا پن ہوتا ہے تو وہ فلم بینوں کو متاثر کر جاتی ہے۔ اس سلسلے میں ’سیارہ‘ کی مثال دی جاتی ہے۔ یعنی جن تخلیقات میں چونکا دینے والے حیرت انگیز ڈرامائی موڑ آئیں۔ فلم بینوں کے ذہن میں یہ سوال گردش کر رہا ہو کہ اب کیا ہوگا؟ ایسی فلمیں اپنی جگہ بنا لیتی ہیں۔ اب ایسے میں رومانس میں اگر کوئی دنگ کرنے والا اینگل شامل نہیں تو فلم زیادہ دنوں تک سینیما گھروں میں کھڑی نہیں رہ سکتیں۔ پھر یہ بھی سچ ہے کہ فلم بینوں کی اب دلچسپی سوشل مسائل کے گرد گھومتی فلموں میں زیادہ بڑھتی جارہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا تو یہ بھی کہنا ہے کہ ایمازون پرائم، نیٹ فلکس اور دیگر او ٹی ٹی پلیٹ فارمز نے جب سے ویب سیریز بنانا شروع کی ہیں تو محبت کا لطیف احساس اب زیادہ بے باک ہوچکا ہے۔ فلم بینوں کو اب یہ بھی بھلا نہیں لگتا کہ ہیرو یا ہیروئن باغ کھلیان میں ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر محبت کے گیت گائیں۔ پھر اب پریمی جوڑوں کے نزدیک ایک دوسرے کی قربت پہلے کے مقابلے میں آسان ہوچکی ہے اور اسی لیے پیار کا جذبہ بھی ماند پڑ چکا ہے۔ ایک اور بدقسمتی یہ بھی ہے کہ رومانی ہیروز شاہ رخ خان، عامر خان، سلمان خان یا اکشے کمار عمر کے اس حصے میں داخل ہوچکے ہیں کہ اب پردہ سیمیں پر کسی محبوبہ سے دل لگی کرتے ہوئے ہضم نہیں ہو پاتے۔ اب جو نئے ہیروز آرہے ہیں وہ اپنے اوپر صرف رومانی ہیرو کی چھاپ لگانے کے بجائے ہر نوعیت کے کردار ادا کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ اسی بنا پر دورِ حاضر کے نوجوان ہیروز ہر طرح کے کردار ادا کرکے خود اپنی بقا کی جنگ لڑنے میں مصروف ہیں۔ ماضی کے برعکس اب کسی اداکار کو دیکھ کر آپ یہ نہیں کہیں گے کہ یہ تو صرف چاکلیٹی رومنٹک ہیرو ہے۔ ایک اور تاریک پہلو یہ بھی ہے کہ کبھی رومانوی فلموں کی جان ان کے گانے ہوتے تھے، لیکن اس وقت موسیقی دم توڑ چکی ہے۔ سال بھر میں کوئی ایک دو گانے ہی فلم بینوں کو متاثر کر پاتے ہیں۔ سب سے اہم یہ بھی ہے کہ اب پیار، مسحورکن، خواب ناک یا تصوراتی خیال نہیں رہا بلکہ رئیل ازم کی صورت اختیار کرگیا ہے۔ ممکن ہے یہی وجہ ہے کہ اب فلموں میں بچھی کچی محبت تو ہے، بس انداز تبدیل ہوچکے ہیں۔ فلم رومانس بالی وڈ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ 80 اور پھر 90 کی دہائی دراصل رومانی فلموں کا سنہری دور رہا۔ اس دور کی فلموں کے گانے بھی آج تک لبوں پر محفوظ ہیں۔ سفیان خان جمعرات, جنوری 8, 2026 - 06:45 Main image:
سال 2025 میں جس فلم کا چرچہ رہا وہ ’سیارہ‘ تھی (سکرین گریب/ یش راج فلمز/ یوٹیوب)
فلم type: news related nodes: 2025: پاکستانی فلمیں دوبارہ عروج پانے میں ناکام دھرندھر سے پہلے لیاری پر بنی پاکستانی فلمیں کیا لیاری واقعی وہی ہے جو فلم ’دھرندھر‘ میں دکھایا گیا؟ پنڈی کا ’سیریئل کلر مالشی:‘ سچی کہانی پر مبنی فلم ایمازون پر ریلیز SEO Title: کیا ایکشن اور ماردھاڑ کے شور میں رومانس کہیں کھو گیا ہے؟ copyright: show related homepage: Hide from Homepage