کیا وینزویلا کے صدر کے خلاف امریکہ میں، امریکی عدالت کے سامنے، امریکی قانون کے تحت مقدمہ چلایا جا سکتا ہے؟ بین الاقوامی عدالت انصاف 2002 میں واضح طور پر بتا چکی ہے کہ اس کا جواب نفی میں ہے۔ کسی بھی ریاست کے صدر کے خلاف دوسری ریاست میں مقدمہ نہیں چلایا جا سکتا۔ تو کیا اب بھی، جب وینزویلا میں صدارت کی ذمہ داریاں سپریم کورٹ کے حکم پر ڈیلسی روڈریگز کو دی جا چکی ہیں، سابق صدر نکولس مادورو کو یہ استثنیٰ حاصل ہے؟ جی ہاں انٹرنیشنل لا کے مطابق اب بھی انہیں یہ استثنیٰ حاصل ہے کیوں کہ وہی وینزویلا کے صدر ہیں۔ جب انہیں اغوا کیا گیا وہ صدر ہی تھے اور قائم مقام صدر کی تعیناتی سے اصلی صدر کو حاصل استثنیٰ ختم نہیں ہو جاتا۔ لیکن کیا وہ اب سابق صدر نہیں ہو چکے؟ جی نہیں، کوئی ریاست صدارت کا عہدہ خالی نہیں رکھ سکتی اس لیے قائم مقام کی تعیناتی ضروری تھی لیکن ایک صدر کو اس کے عہدے سے ہٹانے اور سابق کرنے کا جائز طریقہ متعلقہ ملک کے آئین میں لکھا ہوتا ہے، کسی حملہ آور ملک کے حملے کے نتیجے میں اغوا شدہ صدر قانونی اعتبار سے سابق صدر نہیں ہو جاتا، صدر ہی رہتا ہے اور اس کو استثنیٰ کی چھتری میسر رہتی ہے۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) ویانا کنونشن (برائے سفارتی تعلقات) کے آرٹیکل 29 کے مطابق کسی ملک کے سفارت کار تک کو گرفتار کرنے یا اس پر مقدمہ چلانے کی اجازت نہیں ہے تو کسی ریاست کے سربراہ پر مقدمہ کیسے چلایا جا سکتا ہے، بالخصوص جب اسے اس کے ملک میں فوجی جارحیت کے نتیجے میں اغوا کر کے لایا گیا ہو۔ تو کیا ان کو پکڑنے کا یہ طریقہ جائز اور قانونی تھا؟ جی نہیں یہ ایک ناجائز اقدام تھا اور بین الاقوامی قانون کی رو سے جرم تصور ہو گا۔ یہ ایک ریاست کے خلاف طاقت کا ناجائز استعمال تھا اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی سنگین خلاف ورزی تھی۔ کسی بھی ملک کے خلاف فوجی کارروائی کا امریکہ کو کوئی حق حاصل نہیں ہے۔ اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت کسی ملک پر حملے کی صرف دو قانونی صورتیں ہو سکتی ہیں۔ ایک یہ کہ کسی ریاست پر حملہ ہوا ہو اور وہ دفاعی اقدام کے طور پر آرٹیکل 51 کے تحت کارروائی کرے اور دوسری یہ کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل آرٹیکل 42 کے تحت یہ فیصلہ کرے کہ امن عالم کو قائم رکھنے کے لیے کسی ملک کے خلاف مسلح کارروائی ناگزیر ہو چکی ہے۔ کارکن 6 جنوری 2026 کو کیلیفورنیا کے پاساڈینا میں وینزویلا میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حالیہ کارروائی کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے جمع ہیں (اے ایف پی) کسی ملک کے خلاف کارروائی کی اور کوئی قانونی صورت موجود نہیں ہے۔ امریکہ کی کارروائی نہ حقِ دفاع تھی نہ اس پر کوئی حملہ ہوا تھا اور نہ ہی سلامتی کونسل نے اسے ایسا کوئی اختیار دیا تھا۔ وینزویلا کے صدر کا وہاں مقبول ہونا یا غیر مقبول ہونا بھی خلط مبحث کے سوا کچھ نہیں۔ وہ حکومت کیسی تھی اور کیسی نہیں تھی یہ غیر متعلقہ چیز ہے۔ اصل چیز یہ ہے کہ بین الاقوامی قانون کے تحت امریکہ یا کسی اور ملک کو ایسا کوئی حق نہیں ہے کہ وہ بیٹھ کر فیصلہ کرے کہ فلاں ملک کی حکومت اچھی نہیں ہے اور اسے تبدیل کرنے کے لیے وہاں فوجی کارروائی کر دینی چاہیے۔ اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 2 کی ذیلی دفعہ 4 کے تحت کوئی ملک کسی دوسرے ملک کے خلاف نہ طاقت استعمال کر سکتا ہے اور نہ ہی اس کے استعمال کی دھمکی دے سکتا ہے۔ الزام چاہے منشیات کا ہو، یا یہ کہ وہ ایک پر تشدد انسان ہے اور ’میرے ڈانس کی نقل کرتا ہے‘، حملے کا جواز نہیں بن سکتا۔ ٹرمپ نے پریس کانفرس میں کہا ہے کہ امریکہ وینزویلا میں انتقالِ اقتدار تک عبوری طور پر وہاں کا انتظام سنبھالے گا۔ یہ خواہش بھی بین الاقوامی قانون میں نا معتبر ہے۔ یہ قانون کسی ملک کو اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ دوسرے ملک کا حاکم بن بیٹھے۔ اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 2 کی ذیلی دفعہ 1 میں تمام ریاستوں کو برابری کی سطح پر خود مختار تصور کیا گیا ہے۔ اسی آرٹیکل کی ذیلی دفعہ 7 میں کسی بھی ریاست کے داخلی امور میں مداخلت کی نفی کی گئی ہے۔ امریکہ نے انٹرنیشنل لا کو روند ڈالا ہے۔ اس نے اقوام متحدہ کے ظاہری وجود اور افادیت کو بھی داؤ پر لگا دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 1 میں اقوام متحدہ کے قیام کے جتنے بھی مقاصد بیان کیے گئے ہیں، امریکہ نے ان کو پامال کر دیا ہے۔ اقوام متحدہ اگر اس جارحیت پر خاموش رہتی ہے تو کل کلاں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے بعد امریکہ کی صوابدید پر ہو گا کہ وہ کتنے صدور کو واپس ان کے ممالک میں جانے دے اور کتنوں کو گرفتار کر کے جیل میں ڈال دے۔ اقوام متحدہ کو فیصلہ کرنا ہو گا کہ دنیا انٹرنیشنل لا کے ذریعے چلے گی یا ٹرمپ ازم کے ذریعے۔ نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ وینزویلا امریکہ نکولس مادورو اقوام متحدہ اگر اس جارحیت پر خاموش رہتی ہے تو کل کلاں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے بعد امریکہ کی صوابدید پر ہو گا کہ وہ کتنے صدور کو واپس ان کے ممالک میں جانے دے اور کتنوں کو گرفتار کر کے جیل میں ڈال دے۔ آصف محمود جمعرات, جنوری 8, 2026 - 07:15 Main image:
21 دسمبر 2025 کو بنائے گئے اس تصویروں کے مجموعے میں دائیں جانب وینزویلا کے صدر نکولس مادرو اور بائیں جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو دیکھا جا سکتا ہے (اے ایف پی)
نقطۂ نظر type: news related nodes: میں اب بھی وینزویلا کا صدر ہوں: مادورو کا امریکی عدالت میں بیان مادورو کی گرفتاری: وینزویلا میں اصل اقتدار ہے کس کے پاس؟ وینزویلن صدر کی قلعہ نما گھر سے گرفتاری ٹی وی شو کی طرح دیکھی: ٹرمپ اقتدار کی محفوظ منتقلی تک امریکہ وینزویلا کو چلائے گا: صدر ٹرمپ SEO Title: ٹرمپ ازم یا انٹرنیشنل لا؟ copyright: show related homepage: Show on Homepage