پی ایس ایل میں دو نئی ٹیموں کا اضافہ: کیا معیار برقرار رہ سکے گا؟

پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) اپنی ایک دہائی پرانی تاریخ کے سب سے اہم موڑ پر کھڑی ہے۔ لیگ اب اپنے روایتی چھ ٹیموں کے خول سے باہر نکل کر آٹھ ٹیموں کے ٹورنامنٹ میں تبدیل ہونے جا رہی ہے، جس کے لیے اسلام آباد میں ہونے والی نیلامی پر کرکٹ شائقین اور کاروباری حلقوں کی نظریں جمی ہیں۔ اس پیش رفت میں سب سے دلچسپ پہلو ملتان سلطانز کے سابق مالک علی ترین کی حکمت عملی ہے، جو اپنی پرانی ٹیم چھوڑ کر اب نئی ٹیم کی دوڑ میں شامل ہو گئے ہیں۔ 2016 میں پی ایس ایل کے آغاز کے بعد سے اب تک اس کے دس ایڈیشن کھیلے جا چکے ہیں۔ شروع میں پی ایس ایل میں صرف پانچ ٹیمیں تھیں: اسلام آباد یونائیٹڈ، کوئٹہ گلیڈی ایٹرز، لاہور قلندرز، کراچی کنگز اور پشاور زلمی۔ اس وقت پاکستان میں سلامتی کے مخدوش حالات کی وجہ سے تمام ٹورنامنٹ متحدہ عرب امارات میں کھیلا گیا۔ تاہم 2017 میں ٹورنامنٹ کا فائنل لاہور میں کھیلا گیا۔ اس کے بعد  2018 اور 2019 میں ٹورنامنٹ کا بیشتر حصہ یو اے ای میں ہوا اور صرف آخری میچز پاکستان میں ہوئے۔ البتہ 2020 سے ٹورنامنٹ مکمل طور پر پاکستان میں کھیلا جانے لگا۔ پھر 2018 میں چھٹی ٹیم کا اضافہ ملتان سلطانز کی شکل میں کیا گیا۔ اس کے بعد سے 2026 کے پی ایس ایل میں سب سے بڑی تبدیلی ہونے جا رہی ہے جب دو نئی ٹیمیں شامل کی جائیں گی۔ یہ تمام ٹیمیں نجی ملکیت میں ہیں اور آج اسلام آباد میں ہونے والی نیلامی میں سب سے زیادہ بولی لگانے والے امیدوار ان نئی ٹیموں کے مالکان بن جائیں گے۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) نیلامی کا میدان سج گیا پی ایس ایل کے 11ویں سیزن سے نافذ ہونے والے نئے ڈھانچے کے لیے دو نئی ٹیموں کے مالکان کا انتخاب کھلی نیلامی کے ذریعے کیا جا رہا ہے۔ اسلام آباد میں آٹھ جنوری کو ہونے والے اس عمل میں سب سے زیادہ بولی لگانے والے سرمایہ کار نئی فرنچائزز کے حقوق حاصل کر لیں گے۔ یہ توسیع اس لیے بھی اب ممکن ہوئی ہے کیونکہ 2021 میں پی سی بی اور چھ فرنچائز مالکان کے درمیان ہونے والا وہ معاہدہ ختم ہو چکا ہے جس کے تحت 2025 تک لیگ میں کوئی نئی ٹیم شامل نہیں کی جا سکتی تھی۔ یہ قدغن پرانے مالکان کے مالی مفادات کے تحفظ کے لیے لگائی گئی تھی، تاہم اب 10 سالہ حقوق کی میعاد پوری ہونے پر لیگ کے لیے توسیع کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ مقدار بڑھنے سے معیار پر کیا فرق پڑے گا؟ پی ایس ایل کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ معیار کے لحاظ سے یہ دنیا کی عمدہ ترین کرکٹ لیگز میں سے ایک ہے۔ مگر اب کرکٹ ماہرین کو خدشہ ہے کہ ٹیموں کی تعداد چھ سے آٹھ کرنے پر پی ایس ایل کے معیار پر فرق پڑ سکتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر نئی ٹیم کے لیے 15 سے 18 نئے کھلاڑی درکار ہوں گے، جس کا مطلب ہے کہ ڈومیسٹک سرکٹ سے مزید ٹیلنٹ کو موقع ملے گا، تاہم سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کے پاس اتنا ’ٹیلنٹ پول‘ موجود ہے جو لیگ کی مسابقتی فضا کو برقرار رکھ سکے؟ پاکستان سپر لیگ 10 کی ٹرافی جسے لومینرا کا نام دیا گیا ہے کراقی میں تقریب رونمائی کا ایک منظر (پی سی بی) ملتان سلطانز: ایک ٹیم، دو کہانیاں اس سارے عمل میں سب سے زیادہ ڈرامائی صورت حال ملتان سلطانز کے گرد گھوم رہی ہے۔ فرنچائز کے مالک علی ترین اور پی ایس ایل انتظامیہ کے درمیان معاملات طے نہ پا سکے، جس کے نتیجے میں علی ترین نے ملتان سلطانز کے مالکانہ حقوق کی تجدید سے انکار کر دیا۔ اصولی طور پر ملتان سلطانز کو بھی آج ہونے والی نیلامی کے لیے پیش کیا جانا چاہیے تھا تاکہ لیگ کو تین نئے مالکان ملتے۔ تاہم پی سی بی چیئرمین محسن نقوی کے مطابق وقت کی کمی اور قانونی پیچیدگیوں کے باعث ملتان سلطانز کو فوری طور پر فروخت نہیں کیا جا سکتا۔ اس لیے بورڈ نے فیصلہ کیا ہے کہ 2026 کے سیزن میں ملتان سلطانز کا انتظام ایک آزاد مینیجمنٹ کمیٹی سنبھالے گی اور اسے اگلے سال فروخت کے لیے پیش کیا جائے گا۔ دوسری جانب علی ترین پی ایس ایل سے باہر نہیں ہوئے بلکہ وہ ایک نئی حکمت عملی کے ساتھ کمر کس کر میدان میں اتر گئے ہیں۔ وہ اپنی پرانی ٹیم چھوڑنے کے بعد اب نیلامی میں دو نئی ٹیموں میں سے کسی ایک کو خریدنے کے لیے مضبوط امیدوار کے طور پر سامنے آئے ہیں، جس کا چیئرمین پی سی بی نے بھی خیرمقدم کیا ہے۔ خریداری کی دوڑ میں کون شامل ہے؟ نئی ٹیموں کے حصول کے لیے مقابلہ سخت ہونے کی توقع ہے۔ میڈیا پر جاری تفصیلات کے مطابق علی ترین کے علاوہ کئی بڑے کاروباری گروپ میدان میں ہیں۔ ان میں موبائل فون کمپنی ’وی جی او‘ (VGO)، رئیل اسٹیٹ سیکٹر کا ’اوز گروپ‘ (OZ Group) اور ٹیلی کام کمپنی ’جاز‘ بطور منظور شدہ بولی دہندگان میں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ سولر انڈسٹری کی بڑی کمپنی ’انوریکس‘ اور آئی ٹی سیکٹر سے ’آئی ٹو سی‘ (i2c) کے بھی اس عمل کا حصہ بننے کی اطلاعات ہیں۔ کون سے شہروں کا اضافہ ہو گا؟ نئے مالکان کو ٹیموں کے نام رکھنے کا اختیار ہو گا، تاہم انہیں پی سی بی کی جانب سے دیے گئے چھ شہروں کے ناموں میں سے انتخاب کرنا ہو گا۔ ان شہروں میں راولپنڈی، فیصل آباد، حیدرآباد، سیالکوٹ، گلگت اور مظفرآباد شامل ہیں۔ 19 مارچ 2024 کو اسلام آباد یونائیٹڈ کی ٹیم کراچی سٹیڈیم میں ملتان سلطانز کے خلاف فتح کا جشن مناتے ہوئے (اے ایف پی) نئے شہر آ گئے، کیا وہاں میچ بھی کھیلے جائیں گے؟ زیادہ تر امکان ہے کہ نئی ٹیمیں فیصل آباد یا حیدرآباد کے نام پر ہوں گی، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا وہاں میچ بھی کھیلے جائیں گے؟ اس سوال کا جواب ہے، فی الحال نہیں۔ ان شہروں کے سٹیڈیمز کی حالت بین الاقوامی معیار کی نہیں ہے، جس کا مطلب ہے کہ ابتدائی سالوں میں یہ ٹیمیں بھی لاہور، کراچی، پنڈی اور ملتان ہی میں کھیلنے پر مجبور ہوں گی۔ اسی طرح پشاور میں سٹیڈیم ہونے کے باوجود وہاں پی ایس ایل کے میچ نہیں کھیلے جا رہے اور پشاور زلمی اپنے سارے میچ باہر کھیلتی ہے۔ اس بار بھی ایسا ہی ہو گا۔ آئی پی ایل کے ساتھ شیڈیول کا ٹکراؤ آٹھ ٹیموں کے ساتھ پی ایس ایل کا اگلا ایڈیشن 26 مارچ سے تین مئی تک کھیلا جائے گا۔ یہ مسلسل دوسرا سال ہے جب پی ایس ایل کا ٹکراؤ براہ راست انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) سے ہو رہا ہے۔ اگرچہ اس دوران بین الاقوامی کرکٹ کم ہونے کی وجہ سے کھلاڑیوں کی دستیابی کا مسئلہ کم ہو گا، تاہم آئی پی ایل کی وجہ سے بڑے غیر ملکی ستاروں کی تقسیم بہرحال ایک چیلنج رہے گی، کیوں کہ زیادہ پیسے ملنے کی وجہ سے اکثر غیر ملکی کھلاڑیوں کی پہلی ترجیح بہرحال آئی پی ایل رہتی ہے۔ پی ایس ایل پی ایس ایل 10 محسن نقوی علی ترین پی ایس ایل میں بڑی ہلچل: چھ کے بجائے اب آٹھ ٹیمیں۔ علی ترین پرانی ٹیم چھوڑ کر نئی ٹیم کی دوڑ میں کیوں شامل ہوئے؟ کیا نئے شہروں میں میچ بھی ہوں گے یا صرف نام استعمال ہوں گے؟ انڈپینڈنٹ اردو جمعرات, جنوری 8, 2026 - 09:15 Main image:

اسلام آباد یونائیٹڈ 18 مارچ 2024 کی پی ایس ایل کا فائنل جیتنے کے بعد (پی سی بی)
 

کرکٹ type: news related nodes: نئی پی ایس ایل ٹیم کے لیے اہل بولی دہندہ او زی گروپ کیا ہے؟ دو نئی پی ایس ایل ٹیموں کی نیلامی جلد ہو گی: پی سی بی وسیم پی ایس ایل برانڈ ایمبیسیڈر، ملتان سلطانز کو بورڈ چلائے گا: محسن نقوی پی ایس ایل گیارہ 26 مارچ سے 3 مئی 2026 تک منعقد ہو گا SEO Title: پی ایس ایل میں دو نئی ٹیموں کا اضافہ: کیا معیار برقرار رہ سکے گا؟ copyright: show related homepage: Hide from Homepage