وہ کرنا چاہتی تھی جو سب سے مختلف ہو: ٹرینی پائلٹ اشمام سے ملیے

’یہ میں ہوں، مجھے قبول کریں۔ اگر نہیں کر سکتے تو یہ آپ کا مسئلہ ہے۔ میں کیوں اپنے آپ کو کسی اور کے لیے بدلوں؟‘ یہ الفاظ ہیں نوجوان ٹرینی پائلٹ اشمام امیر کے، جو محدود وسائل کے باوجود بلند حوصلے اور آسمان تک پہنچنے کے خواب کے ساتھ آگے بڑھیں۔ اسلام آباد سے تعلق رکھنے والی اشمام بتاتی ہیں کہ بچپن میں انہیں یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ پائلٹ کسے کہتے ہیں، مگر ان کی سوچ ہمیشہ دیگر لوگوں سے مختلف رہی۔ ’زیادہ تر لوگ ایک جیسے راستے چنتے ہیں، لیکن میں وہ کرنا چاہتی تھی جو سب سے مختلف ہو۔ فلائنگ اسی خواب کا حصہ تھی۔‘ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) وہ کہتی ہیں کہ پائلٹنگ صرف ایک پیشہ نہیں بلکہ ایک مکمل طرزِ زندگی ہے۔ ’یہ ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہوتی۔ اس کے لیے صرف جسمانی فٹنس نہیں بلکہ مضبوط ذہنی صلاحیت، جذباتی توازن اور ہر پہلو سے خود کو تیار رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ بنیادی طور پر فلائنگ انسانی جسم کے لیے نہیں بنی، مگر انسان خود کو اس کے قابل بنا سکتا ہے۔‘ اشمام کے مطابق سماجی دباؤ ان کے سفر میں سب سے بڑی رکاوٹ رہا۔ ’لوگ کہتے تھے خود کو بدل لو، لڑکیوں کی طرح کپڑے پہنو، مہندی لگاؤ، خود کو ایک خاص سانچے میں ڈھالو۔ میں نے ایک وقت کوشش بھی کی، مگر جلد سمجھ آ گیا کہ یہ میں نہیں ہوں۔‘ وہ واضح الفاظ میں کہتی ہیں کہ اپنی ذات کو کسی اور کی توقعات کے مطابق بدلنا ان کے لیے ممکن نہیں۔ ’مجھے کسی اور سے اپنی توثیق نہیں چاہیے۔ لوگ جو کہنا چاہتے ہیں کہیں، میری زندگی میری ہے اور میرے فیصلے بھی میرے ہیں۔‘ اسلام آباد سے تعلق رکھنے والی اشمام بتاتی ہیں کہ بچپن میں انہیں یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ پائلٹ کسے کہتے ہیں، مگر ان کی سوچ ہمیشہ دیگر لوگوں سے مختلف رہی (علشبا جاوید/ انڈپینڈنٹ اردو) اشمام کے سفر میں ان کے والدین کا کردار فیصلہ کن رہا۔ وہ کہتی ہیں: ’میرے والدین نے کبھی مجھے نہیں روکا۔ انہوں نے معاشرے کی اس دقیانوسی سوچ کو توڑا کہ بیٹیاں آگے نہیں بڑھ سکتیں یا مشکل شعبے نہیں چن سکتیں۔ انہوں نے مجھ پر یقین کیا، میرا ساتھ دیا اور یہی اعتماد میری طاقت بن گیا۔‘ وہ اس بات پر زور دیتی ہیں کہ اگر والدین بیٹیوں کی حوصلہ افزائی کریں تو وہ کسی بھی میدان میں پیچھے نہیں رہتیں۔ ’لڑکیوں میں اتنی صلاحیت ہوتی ہے جس کا اندازہ خود انہیں بھی نہیں ہوتا، بس ضرورت اعتماد اور سپورٹ کی ہوتی ہے۔‘ اشمام کا ماننا ہے کہ خواب تب ہی پورے ہوتے ہیں جب انسان خود کو قبول کر لے۔ ’جب آپ خود سے سچے ہوتے ہیں تو کوئی تنقید، کوئی دباؤ آپ کو روک نہیں سکتا۔‘ آج اشمام ان لڑکیوں کے لیے ایک مثال ہیں جو سماجی حدود اور دقیانوسی سوچ سے آگے نکل کر اپنے خوابوں کی پرواز کرنا چاہتی ہیں۔ ان کی کہانی یہ پیغام دیتی ہے کہ خود پر یقین، گھر والوں کا ساتھ اور اپنی پہچان پر قائم رہنا، یہی کامیابی کی اصل کنجی ہے۔ پائلٹ خاتون اسلام آباد سے تعلق رکھنے والی اشمام امیر کہتی ہیں کہ ’زیادہ تر لوگ ایک جیسے راستے چنتے ہیں، لیکن میں وہ کرنا چاہتی تھی جو سب سے مختلف ہو۔ فلائنگ اسی خواب کا حصہ تھی۔‘ علشبا جاوید ہفتہ, جنوری 10, 2026 - 12:00 Main image:

اسلام آباد سے تعلق رکھنے والی اشمام بتاتی ہیں کہ بچپن میں انہیں یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ پائلٹ کسے کہتے ہیں، مگر ان کی سوچ ہمیشہ دیگر لوگوں سے مختلف رہی (علشبا جاوید/ انڈپینڈنٹ اردو)

خواتین jw id: g91YmjE3 type: video related nodes: پاکستان کی پہلی خاتون پائلٹ، جنہیں جہاز اڑانے کی اجازت نہیں تھی پوری دنیا کے گرد تنہا سفر کرنے والی نوعمر خاتون پائلٹ 9/11 کی کہانی امریکن ایئرلائن کی پہلی خاتون پائلٹ کی زبانی انڈیا کی خاتون پائلٹ جن کو دگنی محنت کرنی پڑتی ہے SEO Title: وہ کرنا چاہتی تھی جو سب سے مختلف ہو: ٹرینی پائلٹ اشمام سے ملیے copyright: show related homepage: Show on Homepage