پنجاب سوشل پروٹیکشن اتھارٹی کے تحت مستحق افراد کی شفاف امداد کتنی موثر؟

پنجاب میں شہریوں کی مکمل رجسٹریشن کے لیے قائم کی گئی سوشل پروٹیکشن اتھارٹی کے تحت دو سال میں دو کروڑ خاندانوں کی مکمل مصدقہ تفصیلات جمع کرکے انہیں رجسٹر کر لیا گیا ہے، جس کے تحت مستحق افراد کی شفاف حکومتی امداد یقینی بنانے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ دنیا کے کئی ممالک کی طرح پاکستان میں بھی غریب، نادار اور ضرورت مند شہریوں تک حکومتی امداد کے عمل میں شفافیت ایک بڑا چیلنج رہا ہے۔ پاکستان اور پنجاب میں ویسے تو شہریوں کی رجسٹریشن نیشنل ڈیٹا بیس رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے ذریعے ہوتی ہے، لیکن جب پنجاب میں وزیراعلیٰ مریم نواز نے عہدے کا حلف اٹھایا اور چند روز بعد ہی رمضان پیکج کے تحت غریب گھرانوں میں راشن تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا گیا، تو انہوں نے میڈیا کے سامنے اعتراف کیا کہ صوبے میں کوئی ایسا ڈیٹا یا مصدقہ تفصیلات موجود نہیں، جس کے ذریعے رمضان المبارک میں شفاف امدادی پیکج شروع کیا جائے۔ اُس وقت تو یہ پیکج موجودہ ضلعی انتظامیہ کے ذریعے ہی عارضی بندوبست کے تحت فراہم کیا گیا، لیکن وزیراعلیٰ نے صوبے میں فوری مصدقہ تفصیلات جمع کرنے کے لیے اتھارٹی قائم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ سوشل پروٹیکشن اتھارٹی کی وائس چیئرپرسن جہاں آرا وٹو نے انڈپینڈنٹ اردو سے خصوصی گفتگو میں بتایا: ’پنجاب حکومت نے سماجی تحفط کو یقینی بنانے کے لیے یہ اتھارٹی قائم کی، جس نے دو سال کی قلیل مدت میں دو کروڑ خاندانوں کو رجسٹرڈ کیا ہے۔ ’ہم نے اپنی ٹیموں کے ذریعے گھر گھر جاکر ہر خاندان کے افراد کی تعداد اور ان کی معاشی حالت یا جائیداد کی تفصیلات جمع کیں۔ پھر ان کی تصدیق کے لیے بھی الگ سے سروے کروائے، لہذا مستحق افراد کی فلاح بہبود کے لیے دیگر محکمے بھی ہمارے ساتھ کام کر رہے ہیں، جیسے محکمہ صحت، تعلیم، سوشل ویلفیئر اور اقلیتی امور کے شعبے ہمارے ڈیٹا کے ذریعے ہی اب حکومتی منصوبوں پر عمل کر رہے ہیں۔‘ سوشل پروٹیکشن اتھارٹی کی وائس چیئرپرسن جہاں آرا وٹو کے مطابق پنجاب حکومت نے دو سال کی قلیل مدت میں دو کروڑ خاندانوں کی مکمل مصدقہ تفصیلات جمع کرکے انہیں رجسٹر کر لیا ہے (ارشد چوہدری/ انڈپینڈنٹ اردو) جہاں آرا کے بقول: ’ہمارے ساتھ ڈیٹا رجسٹرڈ کرنے یا جمع کرنے میں پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ، اربن یونٹ اور دیگر تنظیمیں بھی شامل ہیں، لیکن سب کو لیڈ ہماری اتھارٹی کر رہی ہے۔ یہ پنجاب کے عوام کا ایک ایسا ڈیٹا ہے، جس سے یہ اندازہ لگایا جارہا ہے کہ پہلے جو ضرورت تھی کیا وہ اقدامات ہو چکے ہیں؟ اور دیگر ایسے کیا اقدامات ہیں جو ابھی حکومت نے کرنے ہیں؟ ان میں ہر طرح کے اقدامات شامل ہیں، جیسے انفراسٹرکچر، عوام کی فلاح بہبود، سیلاب زدگان کی امداد وغیرہ۔‘ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) انہوں نے مزید بتایا کہ اب رمضان المبارک آنے والا ہے تو اس ماہ میں بھی غربت سے نیچے زندگی گزارنے والے ان تمام افراد کا ایک خاص ڈیٹا مرتب کر کے حکومت کی جانب سے ان کی مدد کی جائے گی اور یہ سب ان تفصیلات کے ذریعے ہی کیا جائے گا۔ شہریوں کی درست تفصیلات جمع کرنا ہمیشہ ایک بڑا مسئلہ رہا ہے، جس کے لیے خصوصی اہتمام کی ضرورت ہوتی ہے۔ بقول جہاں آرا: ’ہم نے یہ کام تین مرحلوں میں کیا۔ پہلے مرحلے میں حکومتی اداروں کے پاس پہلے سے موجود ڈیٹا کو اکھٹا کیا گیا۔ دوسرے مرحلے میں یونین کونسل کی سطح پر موجود سینٹرز کو عام لوگوں کی معلومات جمع کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔ وہاں عام لوگ آئے اور ایک فارم پر موجود سوالات کے جوابات سے تفصیلات جمع کیں۔ ’تیسرا مرحلہ یہ تھا کہ جو معلومات جمع ہوچکی ہیں اس کی تصدیق کرنا، جو سب سے اہم تھا۔ اس کی تصدیق کرنے کے لیے ہمارے نمائندوں نے گھر گھر جاکر یہ سروے کیا، جس کے تحت اب تک دو کروڑ خاندان رجسرڈ کر چکے ہیں۔‘ سوشل پروٹیکشن اتھارٹی کے اہلکار پنجاب کے مختلف علاقوں میں خاندانوں کی رجسٹریشن اور سروے کرتے ہوئے (ارشد چوہدری/ انڈپینڈنٹ اردو) انہوں نے بتایا کہ ’یہ سروے صرف غریب لوگوں کا نہیں ہے بلکہ پنجاب کے تمام افراد کا ہے ، چاہے وہ ڈاکٹر ہیں، انجینیئر ہیں یا کاروباری افراد۔ اسی ڈیٹا کے زریعے ان تک حکومتی سہولیات پہنچائی جائیں گی۔‘ وائس چیئرپرسن سوشل پروٹیکشن اتھارٹی نے دعویٰ کیا: ’ہم نے اپنے ملک کی جغرافیائی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ یقینی بنایا ہے کہ کسی بھی شہری کی معلومات لیک نہ ہوسکیں، اس لیے یہ ڈیٹا محفوظ ہاتھوں میں ہوگا۔ جس طرح ہم لوگوں کی مدد کرنا چاہتے ہیں، اسی طرح تفصیلات بھی محفوظ ہیں۔ میں نے خود بھی اپنے خاندان کو اس میں رجسٹرڈ کروا لیا ہے۔ تمام شہریوں کو لازمی رجسٹریشن کروانی چاہیے۔‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا: ’ہمارے ساتھ تفصیلات جمع کرنے میں نادرا بھی شامل ہے لیکن ہماری اتھارٹی کا اہم کام لوگوں کی مالی پوزیشن کا جاننا ہے، تاکہ مستحق افراد ہی حکومتی اقدامات کا شفاف طریقے سے فائدہ اٹھا سکیں۔‘ پنجاب مستحق افراد حکومتی امداد سوشل پروٹیکشن اتھارٹی کی وائس چیئرپرسن جہاں آرا وٹو کے مطابق پنجاب حکومت نے دو سال کی قلیل مدت میں دو کروڑ خاندانوں کی مکمل مصدقہ تفصیلات جمع کرکے انہیں رجسٹر کر لیا ہے۔ ارشد چوہدری اتوار, جنوری 11, 2026 - 11:00 Main image:

سوشل پروٹیکشن اتھارٹی کے اہلکار پنجاب کے مختلف علاقوں میں خاندانوں کی رجسٹریشن اور سروے کرتے ہوئے (ارشد چوہدری/ انڈپینڈنٹ اردو)

پاکستان jw id: a51ZxTU0 type: video related nodes: پنجاب: پرانے محکموں کے ساتھ نئی اتھارٹیز کی ضرورت کیوں؟ پنجاب میں پراپرٹی اونرشپ آرڈیننس معطل، خامی تھی کہاں؟ پنجاب کا سمندر پار پاکستانیوں کے لیے قائم سینٹر کیسے کام کرتا ہے؟ پنجاب: جنگلات پر نظر رکھنے والا کنٹرول روم کیسے کام کرتا ہے؟ SEO Title: پنجاب سوشل پروٹیکشن اتھارٹی کے تحت مستحق افراد کی شفاف امداد کا نظام کتنا موثر؟ copyright: show related homepage: Show on Homepage