ایران کے پارلیمانی سپیکر نے اتوار کے روز خبردار کیا کہ اگر امریکہ نے ملک میں جاری احتجاج کے حوالے سے ان کے ملک پر حملہ کیا تو امریکی فوج اور اسرائیل دونوں ’جائز اہداف‘ ہوں گے۔ محمد باقر قالیباف نے یہ دھمکی اس وقت دی جب ایران کی حکومت کے خلاف ملک گیر احتجاج دو ہفتے سے جاری ہے اور مظاہرین دارالحکومت اور دوسرے بڑے شہر کی سڑکوں پر اتوار کی صبح تک موجود رہے۔ خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق کارکنوں کے مطابق کم از کم 203 افراد احتجاج کے دوران مارے جا چکے ہیں جبکہ خدشہ ہے کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن نے پارلیمنٹ کا اجلاس براہ راست نشر کیا جس میں سپیکر نے پولیس اور پاسداران انقلاب، کی’مزاحمت‘ کی تعریف کی جو انہوں نے احتجاج کے دوران دکھائی۔ انہوں نے اسرائیل، جسے انہوں نے ’قابض علاقہ‘ کہہ کر مخاطب کیا، اور امریکی فوج کو ممکنہ طور پر ایک پیشگی حملے کے ساتھ براہ راست دھمکی دی۔ قالیباف نے کہا: ’ایران پر کسی بھی حملے کی صورت میں، قابض علاقہ اور خطے میں موجود تمام امریکی فوجی مراکز، اڈے اور جہاز ہمارے جائز اہداف ہوں گے۔ ہم خود کو اس بات تک محدود نہیں سمجھتے کہ کارروائی کے بعد ہی جواب دیں۔ ہم کسی بھی حقیقی خطرے کی علامت پر عمل کریں گے۔‘ پارلیمنٹ کے اجلاس میں بعض ارکان نے’امریکہ مردہ باد‘ کے نعرے بھی لگائے۔ ایران میں بڑھتے احتجاج پر اسرائیل کی گہری نظر ہے: نتن یاہو اسرائیلی وزیرِ اعظم بن یامین نتن یاہو نے اتوار کو کہا ہے کہ ان کا ملک ایران میں جاری بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہروں پر ’قریب سے‘ نظر رکھے ہوئے ہے۔ نو جنوری، 2026 کو تہران میں، حکومت مخالف مظاہروں کے دوران مظاہرین کو گاڑیوں کو جلاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے (روئٹرز) ہفتہ وار کابینہ اجلاس کے آغاز پر نتن یاہو نے کہا کہ ’ایران میں آزادی کے لیے جاری مظاہرے پورے ملک میں پھیل چکے ہیں۔ اسرائیل کے عوام، اور حقیقتاً پوری دنیا، ایرانی شہریوں کی بے مثال بہادری کو دیکھ کر حیران ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ ایرانی قوم جلد ہی ظلم کی بیڑیوں سے آزاد ہوگی۔‘ انہوں نے ایرانی شہریوں کے ’قتل‘ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اسرائیل اور ایران کے درمیان تعلقات کی بحالی کی امید رکھتے ہیں جب ملک ’ظلم کے بوجھ سے آزاد ہو جائے گا۔‘ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) اسرائیلی وزیر اعظم کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مسلسل دھمکیاں دے رہے ہیں کہ امریکہ ایران پر حملہ کر سکتا ہے، جس کے باعث خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ایران کے اندرونی مظاہرے خطے میں وسیع تصادم کا باعث بن سکتے ہیں۔ نتن یاہو نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے بھی ہفتے کی شب ایران کی صورت حال پر گفتگو کی۔ ادھر اسرائیلی فوج نے واضح کیا کہ ایران میں جاری مظاہرے ایران کا ’اندرونی معاملہ‘ ہے تاہم فوج نے یہ بھی کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو اسرائیلی فوج جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ فوج نے یہ بھی بتایا کہ اسرائیلی شہریوں کے لیے پناہ گاہوں کے قریب رہنے کی کوئی نئی ہدایات جاری نہیں کی گئیں جیسا کہ ماضی میں ممکنہ خطرے کی صورت میں کیا جاتا تھا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر امریکہ یا اسرائیل نے کوئی حملہ کیا تو اس کا الٹا اثر بھی ہو سکتا ہے اور عوامی غصے کے بجائے حکومت کے حق میں قوم پرستی کو ہوا مل سکتی ہے اور احتجاج کمزور پڑ سکتے ہیں۔ ایران احتجاج پرتشدد مظاہرے امریکہ اسرائیل دھمکی ایرانی سپیکر نے یہ دھمکی اس وقت دی جب ایران کی حکومت کے خلاف ملک گیر احتجاج دو ہفتے سے جاری ہے۔ انڈپینڈنٹ اردو اتوار, جنوری 11, 2026 - 20:45 Main image:
نو جنوری، 2026 کو ایران پریس کی جانب سے جاری کردہ ہینڈ آؤٹ میں حکومت کے حامی مظاہرین کو امریکہ کے خلاف مارچ کرتے ہوئے نعرے لگاتے ہوئے دکھایا گیا ہے (اے ایف پی)
دنیا type: news related nodes: ایران میں مظاہرے جاری، ’مدد کے لیے تیار ہیں‘: ٹرمپ کا بیان ایران میں ’مکمل طور پر‘ مظاہرین کے ساتھ ہیں: یورپی یونین ایران میں احتجاج: پاکستان کی اپنے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت ایران میں احتجاج کا 13 واں دن، ٹرمپ کی حملے کی پھر دھمکی SEO Title: حملے کی صورت میں امریکہ اور اسرائیل ’جائز اہداف‘ ہوں گے: ایران copyright: Translator name: عبدالقیوم show related homepage: Show on Homepage