لاہور کے تین تاریخی اور فراموش کردہ ہاسٹل

لاہور شہر برصغیر کی ہزار سالہ تاریخ میں زندگی خیز اہمیت کا حامل رہا ہے۔ طویل عمر پر محیط اس شہر کی ثقافتی تاریخ کو برطانوی عہد میں پر لگ گئے۔ ریل کی ایجاد اور جدید تعلیمی اداروں نے اس کی تہذیبی فضا کو وسعت آشنا کیا اور باثروت بنایا۔ اس عمل میں ان لوگوں کا کردار نظر انداز نہیں کیا جا سکتا جو ہندوستان کے چہار اطراف سے لاہور آئے اور اسے ناقابل بیان حد تک ثقافتی ہماہمی عطا کی۔ انیسویں اور بیسویں صدی کا لاہور ہندو مسلم اکثریت کے ساتھ سکھوں، جینوں، بودھوں، مسیحیوں اور پارسیوں کا مسکن تھا۔ اے این بالی نے اپنی معروف کتاب ’Now It Can Be Told‘ میں لاہور کی مسلم اور غیر مسلم آبادی کا سائنسی و شماریاتی جدول پیش کیا ہے۔ جدول کے مطابق شہر کی غیر مسلم آبادی کے معروف علاقوں میں انارکلی، ریلوے روڈ، نیلا گنبد، میکلوئید روڈ، موہن لال روڈ، گنپت روڈ، مال روڈ، برانتھ روڈ، کچہری روڈ، نسبت روڈ، ہال روڈ، بیڈن روڈ، نکلسن روڈ، نولکھا، کرشن نگر اور سنت نگر۔۔۔شامل تھے (ص 05) مسلم اور غیر مسلم آبادی میں تعمیر کیے جانے والے ہوٹلوں، دارالاقاموں (hostels) اور سراؤں کی تعداد متعلقہ آبادی کے تناسب سے بدلتی رہتی تھی۔ ہندو آبادی میں مندر کے ساتھ وِش رامالے اور پاٹھ شالے تعمیر جاتے تھے۔ سکھوں کی اقامت گاہوں میں گردواروں کے رہائشی کمرے شامل تھے جب کہ مسلم آبادی کو مساجد سے متصل سرائیں اور مسافر خانے میسر تھے۔ ان اقامت گاہوں میں سے چند طلبہ اور جویندگان علم کے لیے مخصوص تھیں۔ انھیں ہاسٹل کے نام سے تعبیر کیا جاتا تھا۔ غور طلب نکتہ یہ ہے کہ یہ ہاسٹل سرکاری اداروں کے ملحقہ ہاسٹلوں سے مختلف تھے۔ ان کا انتظام ذاتی خدمت کے تحت یا کسی دھارمک سبھا یا تنظیم کے تحت ممکن بنایا جاتا تھا۔ انیسویں صدی کے آخر میں لاہور کے تعلیمی اداروں کو ہندوستان بھر میں زبردست مقبولیت حاصل ہوئی۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے گورنمنٹ کالج، فورمین کرسچین کالج، لاہور میڈیکل سکول اور ویٹرنری کالج جگہ گرم کرنے میں کامیاب ہو چکے تھے۔ خوش قسمتی سے یہ ادارے قریب، قریب واقع تھے اور ان کے طلبہ کو علمی و ادبی ربط ضبط کے لیے اکٹھے ہونے کا موقع میسر آتا تھا۔ بیرون شہر سے آنے والے طلبہ کی اقامت کے لیے اداروں کے قرب و جوار میں کئی غیر سرکاری دارالاقامے تعمیر کیے گئے تھے جو لاہور کی سماجی تاریخ کو سمجھنے کے اہم مراکز ہیں۔ لاہور کے دیو سماج روڈ کے مغربی کنارے پر واقع تین ہاسٹلوں کو خاص طور پر اہمیت حاصل رہی: ہندو ہاسٹل، خالصہ ہاسٹل اور امر جین ہاسٹل۔ بدقسمتی سے ہماری تاریخ میں ان کی تفصیلات محفوظ نہیں رہ سکیں۔ ملحوظ رہے دیو سماج روڈ لاہور کے تاریخی مال روڈ کے مغرب میں واقع ہے۔ ابتدا میں اسے کرشن نگر اور سنت نگر کے بیچوں بیچ تعمیر کیا گیا تھا۔ قیاس کیا جاتا ہے کہ یہ سڑک انیسویں صدی کے اواخر میں اس وقت تعمیر ہوئی جب سوامی آنند سرسوتی (بانی آریہ سماج) نے سڑک کے شمالی جانب دیانند اینگلو ویدک ہائی سکول کی بنیاد رکھی۔ یہ 1886 کا واقعہ ہے۔ دیو سماج روڈ کا شمالی منطقہ کورٹ روڈ کہلاتا ہے۔ یہ شمالی ٹکڑا لاہور کی ادبی و صحافتی تاریخ میں بہت اہمیت کی حامل ہے۔ بیسویں صدی کی ابتدا تک سول اینڈ ملٹری گزیٹ جیسے عالمی اخبار کا دفتر بھی اسی سڑک کے کنارے واقع تھا۔ (بحوالہ خودنوشت روبہ رام ساہنی)۔ گورنمنٹ پریس کا دفتر بھی سٹریٹ روڈ پر واقع تھا۔ اردو اور ہندی کے کئی ادیب جز وقتی یا کل وقتی طور پر گورنمنٹ پریس سے وابستہ رہے۔ دیو سماج روڈ کے مغرب میں شمال کی جانب ایک شاخ ویٹرنری یونی ورسٹی (سابقہ رحیم خان حویلی) کو نکلتی ہے۔ جن تین دارالاقاموں کا ذکر مقصود ہے (ہندو ہاسٹل، خالصہ ہاسٹل اور امر جین ہاسٹل) وہ اسی شاخ پر واقع ہیں۔ اس کشادہ سڑک پر معروف بھگوان دیوی ہری رام چندھوکے ہال بھی واقع ہے۔ یہ ہال لڑکیوں کے تعلیمی مسائل کو حل کرنے والی سنگت کے اجتماع اور دیگر سماجی معاملات کے اکٹھ کے لیے تعمیر کیا گیا تھا۔ آج یہ بات سمجھنا مشکل ہے کہ ڈیڑھ، دو سو برس قبل کے نسبتاً کم گنجان آباد لاہور میں ایک ہی علاقے میں تین مختلف غیر سرکاری ہاسٹلوں کا قیام کیا جواز رکھتا تھا۔ اس سوال کا جواب اس مذہبی تفریق میں مضمر ہے جو انگریزوں کی آمد کے بعد برصغیر کی تینوں بڑی اقوام (ہندو، مسلمان، سکھ) میں گہری ہو چلی تھی۔ ہندو، مسلمان، سکھ اور جین اپنے مذہبی مراکز کے علاوہ ثقافتی مقامات کو بھی علیحدہ رکھتے تھے۔ اس بات کا ذکر دل چسپی سے خالی نہیں کہ تقسیم سے قبل گورنمنٹ کالج لاہور جیسے جدید ادارے میں بھی تین علیحدہ علیحدہ طعام گاہیں (cafes) موجود تھیں، جن کا ذکر خوشونت سنگھ نے اپنی خودنوشت Truth, Love and a Little Malice میں بھی کیا۔ ہندو ہاسٹل، چندھوکے ہال کے بالمقابل واقع ہے۔ ہاسٹل بظاہر ایک کٹڑہ معلوم ہوتا ہے۔ دروازے کی چھت قدرے نیچی ہے۔ بیرونی جانب لہریا محرابوں کی تین تہیں ہیں۔ محرابوں کے نیچے کسی دور میں لکڑی کا مضبوط دروازہ تھا، جسے سر شام بَلیاں گرا کر بند کر دیا جاتا تھا۔ مرکزی دروازے پر آج بھی نیلے رنگ کی ایک پرانی فولادی تختی موجود ہے۔ ہندو ہاسٹل (موجودہ مسلم ہاسٹل) کی تختی (ڈاکٹر ارسلان راٹھور) تختی پر ’مسلم ہاسٹل‘ لکھا ہے۔ تختی پر مسلم ہاسٹل کے نیچے قدرے چھوٹے خط میں ہندو ہاسٹل لکھ اس کو کاٹ دیا گیا ہے۔ مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ یہ تختی پچاس کی دہائی میں نصب کی گئی۔ ہندو ہاسٹل کا کل رقبہ تقریباً ایک ایکڑ ہے۔ گھروں کی تعداد 120 جب کہ آبادی تقریباً ہزار نفوس پر مشتمل ہے۔ دروازے سے اندر داخل ہونے پر ایک چھتہ استقبال کرتا ہے جو 10 قدموں کا ہے۔ چھتے کے دونوں جانب لکڑی کے دروازے ہیں، جو چھتے کے اوپر واقع کمروں کا راستہ ہے۔ یہ کمرے اور ان کی بیرونی لکڑی ہاسٹل کی واحد پرانی اور تاریخی عمارت کی یادگار ہیں۔ چھتے سے آگے گزر کر ایک تنگ گلی آتی ہے، جو مغرب کی جانب سے بند ہے اور مشرق کی طرف تین بے حد نیچی گزرگاہیں ہیں۔ گزرگاہوں میں سے اوسط قد کے آدمی کو جھک کر گزرنا پڑتا ہے۔ ہر گزرگاہ تقریباً 20 قدم لمبی ہے، جس کا چھت سیاہ آبنوس کی پرانی لکڑی سے بنا ہے۔ گزرگاہوں کے آخر میں کھلا احاطہ آتا ہے، جس میں ایک، ایک دو، دو مرلے کے پندرہ، بیس گھر واقع ہیں۔ ہر گھر تین، چار منزلہ ہے۔ ہر منزل کا مالک مختلف ہے۔ ہاسٹل کی آخری مشرقی گزرگاہ کو نئے طرز پر تعمیر کر لیا گیا ہے۔ رہائشی ہاسٹل کے بارے میں تقریباً ایک جیسی کہانی سناتے ہیں کہ اگست، 1947 میں جب مشرقی پنجاب سے لوگ ہجرت کر کے یہاں پہنچے تو ہاسٹل کے کمروں میں کئی لاشیں موجود تھیں، جنھیں طریقے سے ٹھکانے لگایا گیا۔ آخری گزرگاہ میں واقع ایک دکان (مشکل سے ایک مرلہ) پرانے دنوں کا کنواں تھا۔ یہی کنواں پورے ہاسٹل کی آبی ضروریات پوری کرتا تھا۔ دکان کے مالک کا کہنا ہے کہ بچپن کے دنوں میں وہ کنوئیں کے گرد کچی اینٹوں کی منڈیروں کا شاہد رہ چکا ہے۔ بعد ازاں رہائشی ضروریات کے باعث کنواں پاٹ دیا گیا۔ ہاسٹل کی دیواروں میں لاہوری اینٹوں کے نمونے آج بھی اس کی تاریخی حیثیت کو اجاگر کرتے ہیں۔ ایک مقامی ریٹائرڈ سرکاری ملازم کا کہنا ہے ’میری پیدائش اسی ہاسٹل میں 1960 میں ہوئی۔ ہمارے والد کا بتاتے تھے ہم اس ہاسٹل میں بسنے والا پہلا خاندان ہیں۔ ’جب میرے والد اگست 1947 میں امرتسر سے جان بچا کر یہاں پہنچے تو لاشوں کے خوف سے کوئی ہاسٹل میں داخل نہیں ہوتا تھا۔ ’آس پاس ہندو آبادی کے چھوڑے ہوئے گھر تھے۔ میرے والد صبح سے شام لٹ پٹ کر آنے والوں کو ہاسٹل میں رہنے کی ترغیب دیتے تھے۔ آہستہ آہستہ ہاسٹل آباد ہونے لگا۔ ’مختلف کمروں کے باہر ہندی اور سنسکرت تختیاں تھیں، جو نئی تعمیرات کے دوران گرا یا دبا دی گئیں۔‘ ہندو ہاسٹل سے باہر نکلتے ہی داہنے ہاتھ 10 قدم پر امر جین ہاسٹل واقع ہے۔ یہ رہائشی کٹڑہ نسبتاً صاف ستھرا ہے۔ امر جین ہاسٹل میں داخلے کی محراب (ڈاکٹر ارسلان راٹھور) رقبہ بھی قدرے کم (تقریباً تین کنال) ہے اور گھروں کی تعداد اور آبادی کا تناسب بھی قلیل ہے۔ اس ہاسٹل کی یادگار بھی محض داخلے کی ایک محراب ہے۔ محراب کا ڈیزائن سکھ یا مسلم محرابوں سے مختلف ہے۔ بھگوانی رنگ کی یہ پیچیدہ محراب کسی دور میں ہاسٹل میں داخلے کا دروازہ تھی۔ محراب سے اندر داخل ہو کر تین منطقی چھتہ ہے۔ چھت اونچی ہے اور اینٹوں کی چنائی میں صفائی ہے۔ محراب کے دونوں اطراف کے ستون آس پاس کے گھروں میں دب گئے ہیں۔ ہاسٹل کے معمر ترین بزرگ نے بتایا کہ 1980 تک دونوں ستونوں پر ہندی تختیاں موجود تھی، جنھیں گرانے کی بجائے ان پر پلستر کروا کر نئے گھر بنا لیے گئے۔ گویا دونوں تختیاں آس پاس کے مکانوں کی دیواروں میں دبی زمانے کے سرد و گرم سے بیگانہ ہیں۔ چھتے کے پیچھے کھلا احاطہ ہے، جس کے آخر میں چار مرلے کا پارک واقع ہے۔ رہائشیوں کے مطابق سینتالیس کے بعد اس کھلی جگہ کو محلے کے جنازہ گاہ کے طور پر محفوظ کر لیا گیا۔ انگریزوں کے دور میں گورنمنٹ پریس کی ایک شاخ اس احاطے میں واقع تھی۔ اس شاخ کا ذکر 1909 میں شائع لاہور گائیڈ میں بھی ملتا ہے۔ فی زمانہ محراب کے سوا پورے ہاسٹل میں پرانے آثار کا کوئی گھر باقی نہیں۔ امر جین ہاسٹل، جیسا کہ نام سے ظاہر ہے، جین آبادی کے لیے تھا۔ لاہور میں جین مذہب کے پیروکار کم تھے۔ ایچ آر گولڈنگ کے مطابق 1920 تک لاہور میں جین مت کے پیروکاروں کے 200 گھر تھے۔ لاہور میں جین ہال اور جین مندر کے علاوہ یہ ہاسٹل جین کمیونٹی کا تیسرا اہم مرکز رہا۔ افسوس، اس ہاسٹل کے آبادکاروں کے بارے میں تاریخی معلومات تاریخ کی دھند میں گم ہیں۔ خالصہ ہاسٹل اس سلسلے کا تیسرا ہاسٹل ہے۔ یہ پہلے بیان کردہ دونوں ہاسٹلوں کے برخلاف اپنی تاریخی حیثیت کھو چکا ہے۔ خالصہ ہاسٹل کا جنوبی دروازہ (ڈاکٹر ارسلان راٹھور) اگرچہ اس کا احاطہ و رقبہ تینوں دارالاقاموں میں سب سے زیادہ ہے۔ اس ہاسٹل کو جانے والے راستے بھی دو ہیں۔ ایک رستہ لوئر مال سے جب کہ دوسرا دیو سماج سے آتا ہے۔ لوئر مال سے آنے والے راستے کے بالکل سامنے ویٹرنری یونی ورسٹی واقع ہے۔ خالصہ ہاسٹل میں دہلی سے تعلق رکھنے والے ایک معمر رہائشی نے بتایا ن کی یادوں میں یہ ہاسٹل اونچے اور کشادہ کمروں پر مشتمل ایک آبادی تھی جہاں آزادی سے پہلے، آس پاس کے کالجوں کے طلبہ رہائش پذیر تھے۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) 80 سالہ رہائشی نے یہ بھی بتایا کہ یہ جگہ ابتدا میں ایک مسلمان کی مِلک تھی۔ آزادی سے تین دہائیاں قبل ایک سکھ نے اسے رہن لے کر رفاع عام کے لیے ہاسٹل بنا دیا۔ عرف عام میں اسے خالصہ ہاسٹل کہا جانے لگا۔ 1999 تک یہ ہاسٹل پرانے کمروں پر مشتمل آبادی تھی۔ بعد ازاں یہ کمرے بھی نئے گھروں میں تبدیل ہو گئے۔ آج کے رواج کے برخلاف تینوں ہاسٹلوں کے غسل خانے ہاسٹل کے احاطوں سے 10 قدم دور ایک کھلی جگہ پر واقع تھے۔ آج غسل خانوں کے مقام پر دکانیں تعمیر کی جا چکی ہیں۔ تینوں ہاسٹلوں کے آس پاس کی گلیوں کے نام بھی ہندوؤں یا سکھوں کے نام پر رکھے گئے ہیں: مہاویر سٹریٹ، بدھا سٹریٹ اور ورما سٹریٹ چہار اربعہ میں واقع ہیں۔ متذکرہ بالا ہاسٹل لاہور کی علمی تاریخ میں خاصے اہمیت کے حامل رہے ہوں گے۔ یہ بات ذہن میں رکھنے کی ہے کہ برصغیر کا معروف ویٹرنری کالج (اب یونی ورسٹی) ان تینوں ہاسٹلوں کے پہلو میں واقع ہے۔ ویٹرنری یونی ورسٹی کی عمارت اصل میں سرسید احمد خان کے دوست رحیم خان کی تھی اور انھی کے نام پر حویلی رحیم خان کہلاتی تھی۔ دہلی میں منصف مقرر ہونے والے پنڈت شیو نارائن نے گورنمنٹ کالج کے پرنسپل اور معروف مورخ، گیریٹ کے نام خط میں حویلی رحیم خان سے متعلق اپنی یادیں سانجھی کی ہیں۔ شیو نارائن کے مطابق 1876 میں یہ علاقہ درختوں سے لدا پھندا تھا۔ خط کا اقتباس ملاحظہ ہو ’کچھ لوگ اسے رحیم خان کا بنگلہ بھی کہتے ہیں۔ یہ جگہ بھاٹی دروازے سے زیادہ دور نہیں۔ ’بنگلے کے آس پاس درختوں کے گھنے جھنڈ موجود تھے۔ دریا بھی زیادہ دور نہ تھا۔ رحیم خان کی حویلی تاحال موجود ہے۔ ’حویلی کے پہلو میں طبّی جراحت کے دو ہال واقع تھے۔ اس علاقے کے گھر اپنے چوبی جھروکوں کی وجہ سے مشہور ہیں۔‘ فی زمانہ ان تاریخی یادگاروں کو محفوظ کرنا ممکن نہیں لیکن ماضی کی تحریروں اور صفحات کی مدد سے ثقافتی تاریخ کو مرتب کرنے کی شدید ضرورت ہے۔ اس کام کے لیے ذاتی دماغ سوزی کے علاوہ اجتماعی جگر کاوی کی بھی ضرورت ہے: سوئے ہوئے تو جاگ ہی جائیں گے ایک دن جو جاگتے ہیں ان کو جگانا ہے اور بس (سلیم کوثر) لاہور ہاسٹل لاہور کی ایک ہی سڑک پر واقع ہندو ہاسٹل، امر جین ہاسٹل اور خالصہ ہاسٹل کی بھولی بسری تاریخ۔ ڈاکٹر ارسلان راٹھور سوموار, جنوری 12, 2026 - 06:30 Main image:

ہندو ہاسٹل، دیو سماج روڈ کا دروازہ (ڈاکٹر ارسلان راٹھور)

تاریخ type: news related nodes: صوفی تبسم کا گھر جہاں فیض، پطرس اور فریدہ خانم محفلیں جماتے تھے گولڈن بُک: گورنمنٹ کالج لاہور کی تاریخی دستاویز وولنر کا مجسمہ، جس پر لاہور ’ہمیشہ مہربان نہیں رہا‘ لاہور کے تین ابتدائی سوئمنگ ٹینک SEO Title: لاہور کے تین تاریخی اور فراموش کردہ ہاسٹل copyright: show related homepage: Hide from Homepage