زندگی کا اگر کوئی محور ہو سکتا ہے تو وہ توازن ہے‘ اور اس کا دائرہ ہر انفرادی اور اجتماعی گوشے تک پھیلا ہوا ہے۔ ان سب پہلوئوں کی بات کرنا تو ممکن نہیں کہ پھر کیا کہیں اور کیا نہ کہیں۔ ایک عرصہ سے ذہن میں ایک شور سا برپا ہے مگر اب وہ سب باتیں کہنے اور لکھنے کی ہمت نہیں رہی۔ ماحول وہ نہیں جو کسی زمانے میں تھا اور پھر ہمارے خوابوں کے سلسلے یکے بعد دیگرے ٹوٹ کر بکھرتے چلے گئے۔ عمر کا گھوڑا سرپٹ دوڑتا رہا اور اپنے ہی ملک میں ایسا محسوس ہونے لگا کہ ہم اجنبی بن کر رہ گئے ہیں ۔ ایک عجب... Read more