پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی نے پیر کو کہا ہے کہ صوبہ خیبر پختونخوا میں عسکریت پسندوں کے خلاف انسداد دہشت گردی پولیس کی تین کارروائیوں میں دو ’انتہائی مطلوب‘ کمانڈروں سمیت آٹھ عسکریت پسند مارے گئے۔ انسداد دہشت گردی پولیس ’سی ٹی ڈی‘ نے یہ کارروائیاں پشاور، بنوں اور خیبر کے اضلاع میں کیں۔ ملک کے مختلف علاقوں میں عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے۔ وزارت داخلہ سے جاری بیان میں محسن نقوی نے کہا کہ ’سی ٹی ڈی کے سپوتوں نے کامیاب آپریشنز کر کے دو انتہائی مطلوب کمانڈرز سمیت 8 خوارجیوں کو عبرت ناک انجام تک پہنچایا۔‘ انہوں نے کہا کہ عسکریت پسندوں کے مکمل خاتمے تک انٹی لیجنس بیسڈ آپریشنز جاری رہیں گے۔ خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر کی وادی تیراہ میں امن و امان کی کشیدہ صورت حال اور ممکنہ سکیورٹی آپریشن کے پیش نظر وہاں سے نقل مکانی جاری ہے اور ہزاروں خاندان علاقہ چھوڑ کر نکل چکے ہیں۔ تیراہ میں آفریدی قبائل کے 24 رکنی نمائندہ جرگے اور انتظامیہ کے درمیان گذشتہ ماہ ہونے والی نشست میں آپریشن کی مشروط اجازت دی گئی تھی۔ وادی تیراہ خیبر کا سردی ترین علاقہ ہے اور سردی میں زیادہ تر وہاں برف باری بھی ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہاں بہت کم لوگ زندگی گزارتے ہیں۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) تیراہ کے نمائندے جرگے نے آپریشن کو مکمل کرنے کے لیے دو مہینے کا وقت حکومت کو دیا ہے اور اس کے بعد متاثرین کی باعزت واپسی بھی حکومت کی ذمہ داری ہوگی۔ وادی تیراہ میں حکومت کی جانب سے ابھی باقاعدہ کسی بڑے آپریشن کا اعلان تو نہیں کیا گیا، تاہم عسکری حکام بارہا کہہ چکے ہیں کہ وہ خیبر پختونخوا میں جہاں بھی شدت پسند ہوں گے، ان کے خلاف ٹارگٹڈ آپریشن کریں گے۔ وادی تیراہ تقریباً 100 مربع کلومیٹر پر محیط ہے، جس کا کچھ حصہ ضلع اورکزئی میں بھی شامل ہے اور یہ ایک سیاحتی مقام کے طور پر جانا جاتا ہے۔ تاہم افغانستان میں طالبان کی عبوری حکومت قائم ہونے کے بعد ضم ہونے والے دیگر اضلاع کی طرح خیبر اور وادی تیراہ میں بھی شدت پسندی نے دوبارہ سر اٹھایا ہے اور اس کی وجہ وادی تیراہ کا افغانستان کے ساتھ ملحقہ بارڈر ہے۔ محسن نقوی خیبر پختونخوا پشاور وزارت داخلہ کے بیان میں کہا گیا کہ یہ کارروائیاں پشاور، بنوں اور خیبر کے اضلاع میں کی گئیں۔ انڈپینڈنٹ اردو سوموار, جنوری 12, 2026 - 13:45 Main image:
31 جولائی، 2023 کو خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ میں سکیورٹی اہلکار ایک بم دھماکے کے مقام پر کھڑے ہیں (اے ایف پی
پاکستان type: news related nodes: افغان سرحد کی بندش کے بعد پاکستان میں عسکریت پسندی کے واقعات میں کمی، رپورٹ ممکنہ تیراہ آپریشن: نقل مکانی کے لیے تیار 5000 خاندانوں کا اندراج تیراہ: ’عسکری و حکومتی‘ ارکان سے مذاکرات، دھرنا ختم وادی تیراہ سے دوبارہ نقل مکانی: حقائق کیا ہیں؟ SEO Title: خیبرپختونخوا، تین کارروائیوں میں دو ’انتہائی مطلوب‘ کمانڈرز سمیت 8 عسکریت پسند مارے گئے: وزیر داخلہ copyright: show related homepage: Show on Homepage