اپنے بچوں کو ہمت، امید اور حوصلہ دیں

ہم ایک ایسے عہد میں جی رہے ہیں جہاں آوازیں بہت ہیں، مگر سننے والے کم ہوتے جا رہے ہیں۔ ہر طرف شور ہے، موٹیویشنل تقاریر کا شور، کامیابی کے فارمولوں کا شور، کچھ بن جاؤ کے نعروں کا شور، لیکن اس شور کے بیچ ایک پوری نسل خاموش ہوتی جا رہی ہے۔ یہ خاموشی شائستگی کی علامت نہیں، یہ تھکن کی علامت ہے۔ یہ سکوت صبر کا نہیں، مسلسل دباؤ، بے یقینی اور اندرونی شکست کا نتیجہ ہے۔ ہم میں سے اکثر اس خاموشی کو غلط نام دے دیتے ہیں۔ ہم اسے سستی کہتے ہیں، بے دلی کہتے ہیں، ناشکری کہتے ہیں یا نالائقی کا لیبل لگا کر خود کو مطمئن کر لیتے ہیں۔ ہم فوراً ماضی کی طرف لوٹ جاتے ہیں اور فخر سے کہتے ہیں: ہماری عمر میں ہم یہ سب کر چکے تھے۔ یہ جملہ ہمیں مضبوطی اور طاقت عطا کرتا ہے، مگر سامنے بیٹھے نوجوان کے لیے یہ ایک دیوار بن جاتا ہے، ایک ایسی دیوار جس کے اس پار اس کی بات اور آواز نہیں پہنچ پاتی۔ اس نسل کے والدین نے جس عہد اور زمانے میں آنکھ کھولی، اس میں زندگی آسان نہیں تھی، مگر قابلِ فہم ضرور تھی۔ تعلیم مہنگی تھی، مگر قرض انسان کی سانس بند نہیں کرتا تھا۔ ڈگریاں بے وقعت نہیں تھیں۔ نوکریاں مشکل سے ملتیں، مگر بے معنی نہیں ہوتیں۔ تنخواہ کم ہوتی تھی، مگر یہ یقین موجود ہوتا تھا کہ وقت کے ساتھ حالات بہتر ہو سکتے ہیں۔ مستقبل دھندلا ضرور تھا، مگر مکمل طور پر بند نہیں تھا۔ آج کا نوجوان ایک بالکل مختلف دنیا میں کھڑا ہے۔ ایک ایسی دنیا جہاں تعلیم سرمایہ کاری بن چکی ہے، مگر اس کا مستقبل غیر یقینی ہے۔ جہاں ڈگریاں موجود ہیں، مگر نوکریاں ناپید ہیں۔ جہاں کام تو ہے، مگر تحفظ نہیں۔ جہاں دن بھر کی محنت کے بعد بھی یہ واضح نہیں ہوتا کہ اگلا مہینہ کیسے گزرے گا۔ ہم اسے نئی حقیقت کہہ کر آگے بڑھ جاتے ہیں، مگر وہ اسی حقیقت میں روز جیتا ہے اور اسی میں اپنی توانائی کھو دیتا ہے۔ اکثر والدین کو لگتا ہے کہ ان کا بچہ کچھ نہیں کر رہا۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ ہر روز خود کو ناکام ثابت ہونے سے بچانے کی کوشش کر رہا ہوتا ہے۔ وہ صرف روزگار نہیں ڈھونڈ رہا ہوتا، وہ اپنی عزت، اپنی پہچان اور اپنی قدر کو بچانے کی جدوجہد کر رہا ہوتا ہے۔ جب وہ کہتا ہے کہ وہ تھک گیا ہے تو ہم اسے جسمانی تھکن سمجھ لیتے ہیں، حالانکہ اکثر یہ ذہنی شور کی علامت ہوتی ہے۔ یہ شور موازنوں سے پیدا ہوتا ہے، توقعات سے جنم لیتا ہے، اور اس خوف سے جڑا ہوتا ہے کہ کہیں وہ اپنے والدین، اپنے خاندان، یا خود سے جڑے افراد کو مایوس نہ کر دے۔ والدین طاقت کو اکثر غلط جگہ تلاش کرتے ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ سختی سے کردار بنتا ہے، طنز سے حوصلہ پیدا ہوتا ہے، اور مسلسل یاد دہانی سے سمت ملتی ہے۔ والدین یہ ماننے سے گھبراتے ہیں کہ بعض اوقات طاقت خاموش بیٹھ کر سننے میں ہوتی ہے، اور بعض اوقات یہ تسلیم کرنے میں کہ ہمیں خود بھی سب کچھ نہیں آتا۔ زیادہ تر والدین اپنے بچوں سے کہتے ہیں کہ حوصلہ رکھو، مگر انہیں یہ یقین نہیں دلاتے کہ اگر وہ ٹوٹ جائیں تو ہم انہیں تھام لیں گے۔ یہ کہتے ہیں کہ مضبوط بنو، مگر یہ نہیں بتاتے کہ مضبوطی کا مطلب ہر وقت جیتنا نہیں، بلکہ کبھی ہار مان کر سانس لینا بھی ہے۔ مردانگی اور کامیابی کو صرف کمانے، ثابت کرنے اور آگے نکل جانے سے جوڑ دیتے ہیں، جبکہ انسان ہونے کا تقاضہ اس سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ یہ ملک اس وقت ایسے نوجوانوں سے بھرا پڑا ہے جو بظاہر بے سمت نظر آتے ہیں، مگر حقیقت میں ایک ایسی دوڑ میں شامل ہیں جس کے اصول اور معیار بدل چکے ہیں۔ وہ بوجھ نہیں بننا چاہتے، مدد مانگنے میں شرمندگی محسوس کرتے ہیں، اور کمزور کہلانے سے ڈرتے ہیں۔ اسی خوف کے نتیجے میں وہ خاموش ہو جاتے ہیں۔ اور خاموشی، اگر طویل ہو جائے، تو صرف اداسی نہیں رہتی، خطرہ بن جاتی ہے۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ذہنی صحت کوئی اداکاری، مبالغہ آرائی، فیشن یا عیاشی نہیں، بلکہ زندہ رہنے کی بنیادی ضرورت ہے۔ ڈپریشن محض اداسی کا نام نہیں، بلکہ ایک حقیقی بیماری ہے۔ بیماری پر لیکچر نہیں دیا جاتا، اس کا علاج کیا جاتا ہے۔ مگر علاج سے پہلے پہچان ضروری ہے، اور پہچان کا پہلا قدم سننا ہے۔ غور سے سننا، بغیر فیصلے کے اور بغیر رائے قائم کئیے سننا۔ یہ مسئلہ کسی ایک گھر یا کسی ایک طبقے تک محدود نہیں۔ یہ ان ہزاروں گھروں کی کہانی ہے جہاں نیت اچھی ہے مگر الفاظ سخت ہیں۔ جہاں والدین دل سے خیر چاہتے ہیں مگر لاشعوری طور پر دباؤ بڑھا دیتے ہیں۔ جہاں “ہم تمہارے بھلے کے لیے کہہ رہے ہیں” کے نیچے ایک ایسا بوجھ رکھ دیا جاتا ہے جسے اٹھانے کی طاقت ہر کسی میں نہیں ہوتی۔ جہاں کھانے کی میز پر بات کم اور توقعات زیادہ ہوتی ہیں۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) اگر کوئی نوجوان دیر سے جاگتا ہے، کم بولتا ہے، خود کا مسلسل دوسروں سے موازنہ کرتا ہے، یا بار بار یہ کہتا ہے کہ وہ تھک گیا ہے، تو اسے فوراً نصیحت کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اسے سب سے پہلے سنے جانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس سے یہ پوچھنے کے بجائے کہ وہ کیا کر رہا ہے اور کیا نہیں کر پا رہا، یہ پوچھنا زیادہ ضروری ہے کہ وہ کیسا محسوس کر رہا ہے۔ بعض اوقات یہی سوال زندگی اور ٹوٹ پھوٹ کے درمیان فرق بن جاتا ہے۔ ’ہماری عمر میں‘ سے شروع ہونے والے جملے اکثر گفتگو کو محدود اور بند کر دیتے ہیں۔ ان کی جگہ ایسے جملوں کی ضرورت ہے جو بات چیت کا دروازہ کھولیں۔ یہ کہنا کہ ’تم اچھی کوشش کر رہے ہو‘، ’یہ دور واقعی مشکل ہے‘ یا ’تم اکیلے نہیں ہو‘ شاید فوری حل نہ دے، مگر یہ احساس ضرور دے سکتا ہے کہ سامنے والا شخص تنہا نہیں، کہ اس کی جدوجہد کو مانا جا رہا ہے۔ ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ بچوں کی قدر ان کی نوکری، تنخواہ، رفتار یا کامیابی کے گراف سے نہیں ناپی جاتی۔ انسان کی قدر اس بات سے بھی نہیں جڑی کہ وہ کتنی جلدی آگے بڑھا، بلکہ اس بات سے منسلک ہے کہ وہ کس حال میں کھڑا ہے اور کیا ذہنی طور پر مضطرب تو نہیں ؟ اس نسل کو یہ یقین دلانا ضروری ہے کہ زندگی ایک تنی ہوئی رسی پر چلنے کا نام نہیں، یا ہر بہترین کا مستحق صرف آپ ہی نہیں ہو سکتے، اوسط معیار کا ہونا بھی ٹھیک ہے۔ اپنا بہترین دینا بہترین ہونے سے بہتر ہے۔ اس نسل کو یہ احساسِ تحفظ دیں کہ اگر وہ ناکام ہو جائیں گے، رُک جائیں گے، پیچھے رہ جائیں گے یا گر جائیں گے تو بھی ہم ان کے ساتھ ہیں اور انہیں نہیں چھوڑیں گے اور ان کی حوصلہ افزائی کریں گے۔ ان کو نئی راہ دکھائیں گے اور اگر وہ خود سمت بدلیں گے تو ہم ان کے لیے تالیاں بجائیں گے۔ اس نسل کو مقابلہ بازی، آگے نکلنے اور مادی کامیابیوں کی چیک لسٹ کے تناؤ سے نکالیے۔ مضبوط عمارتیں مضبوط بنیادوں پر کھڑی ہوتی ہیں، اور بنیاد خوف سے نہیں بنتی۔ بنیاد محبت، تحفظ اور غیرمشروط قبولیت سے بنتی ہے۔ اگر ہم واقعی چاہتے ہیں کہ ہماری اگلی نسل مضبوط ہو، تو ہمیں پہلے خود اپنے رویوں پر نظر ثانی کرنی ہوگی۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ یہ دنیا بدل چکی ہے، اور نئی نسل کے بچوں کی جدوجہد ہماری جدوجہد جیسی نہیں رہی بلکہ اس سے زیادہ مشکل ہے۔ یہ وقت ہے کہ ہم اپنی پرانی کہانیوں کو ایک لمحے کے لیے ایک طرف رکھ دیں۔ یہ وقت ہے کہ ہم یہ مان لیں کہ ہر دور کے اپنے امتحان اور تقاضے ہوتے ہیں۔ آج کا امتحان خاموش، پیچیدہ اور ذہنی نوعیت کا ہے۔ اگر ہم اس نئے امتحان کو پرانے حل شدہ پیپرز کی مدد سے حل کرنے کی کوشش کریں گے تو ناکامی یقینی ہے۔ والدین کے لیے اس وقت سب سے اہم قدم یہ ہے کہ وہ بچوں کے لئیے موجود رہیں، صرف جسمانی طور پر نہیں، ذہنی اور جذباتی طور پر بھی۔ ان کی ناکامیوں کو بھی قبول کریں۔ بچوں کو یہ احساس دلائیں کہ وہ ناکام بھی ہو سکتے ہیں، وہ پیچھے بھی رہ سکتے ہیں۔ زندگی کوئی دوڑ نہیں ہے جس میں اول آنا ضروری ہے۔ بچوں کو اعتماد دیں کہ وہ بات کر سکیں، مسئلے بتا سکیں، ناکامی شیئر کر سکیں، سوال پوچھ سکیں، رک سکیں، مدد مانگ سکیں، اور اس کے باوجود بھی قابل احترام رہیں۔ گفتگو کو سزا نہیں بلکہ پناہ گاہ بنائیں۔ خاموشی کو نظرانداز کرنا آسان ہے، مگر اس کی قیمت بہت بھاری ہو سکتی ہے۔ بہتر ہے کہ ہم اسے وقت پر سن لیں، اس کے پیچھے چھپی تھکن، خوف، اندیشے، ہیجان، اضطراب اور الجھن کو پہچان لیں، اس سے پہلے کہ وہ خاموشی بولنا بند کرکے ہمیشہ کیلئے خاموش ہوجائے۔ (ڈاکٹر راجہ قیصر احمد ایریا سٹڈی سنٹر برائے افریقہ، نارتھ و ساؤتھ امریکہ کے ڈائریکٹر ہیں اور سیاسیات، بین الاقوامی تعلقات، سماجیات اور شہریت پر لکھتے ہیں۔) نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ پاکستان نئی نسل نوجوان نقطہ نظر آج کا نوجوان ایک بالکل مختلف دنیا میں کھڑا ہے۔ ایک ایسی دنیا جہاں تعلیم سرمایہ کاری بن چکی ہے، مگر اس کا مستقبل غیر یقینی ہے۔ جہاں ڈگریاں موجود ہیں، مگر نوکریاں ناپید ہیں۔ ڈاکٹر راجہ قیصر احمد بدھ, جنوری 14, 2026 - 06:30 Main image:

ایک بچہ کراچی میں اپنے والدین کے ساتھ عید الفطر کے موقع پر 13 مئی 2021 کو غبارے خرید رہا ہے (فائل فوٹو/ اے ایف پی)

نقطۂ نظر type: news related nodes: عدم برداشت کا بڑھتا ہوا کلچر کیا پاکستان میں مثبت تبدیلی ممکن ہے؟ خصوصی افراد کا مقدمہ بنام حکومتِ پاکستان پاکستان میں روشن خیالی متنازع کیوں؟ SEO Title: اپنے بچوں کو ہمت، امید اور حوصلہ دیں copyright: show related homepage: Hide from Homepage