اسلام آباد: مقامی حکومت آرڈیننس، سول سوسائٹی کی شدید مخالفت

وفاقی دارالحکومت میں لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2015 میں آرڈیننس کے ذریعے کی گئی حالیہ ترامیم پر شہریوں، سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔ بدھ کو کولیشن 38 کی جانب سے جاری کردہ بیان میں نئے قانون کے تحت ’شہریوں کو نئی قائم کی گئی ٹاؤن کارپوریشنز کے ارکان کو منتخب کرنے کے بنیادی حق سے محروم کر دیا گیا ہے۔‘ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’نئے نظام کے تحت ہر ٹاؤن کارپوریشن میں اوسطاً 52 ارکان ہوں گے، تاہم ان میں سے صرف چار خواتین شامل ہوں گی، جبکہ کوئی بھی رکن براہ راست عوام کے ووٹ سے منتخب نہیں ہوگا اور نہ ہی وہ عوام کے سامنے جواب دہ ہوگا۔‘ کولیشن 38 پاکستان میں سول سوسائٹی تنظیموں، لیبر یونینز، کمیونٹی بیسڈ آرگنائزیشنز اور دانشوروں کا ایک نیٹ ورک ہے، جس میں تقریباً 150 سے زائد ادارے و افراد شامل ہیں۔ مقامی حکومتوں سے متعلق آرڈیننس 10 جنوری کو صدر مملکت آصف زرداری کے دستخط کے بعد قانون بنا۔ اس سے قبل ’اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹوری لوکل گورنمنٹ ترمیمی آرڈیننس 2026‘ ترمیمی بل کی شکل میں گذشتہ برس نومبر میں قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا تھا تاہم ایوان زریں نے اسے منظور نہیں کیا تھا۔ انڈپینڈنٹ اردو نے اس معاملہ پر وزیر مملکت برائے قانون و انصاف عقیل ملک سے موقف کے لیے رابطہ کیا ہے تاہم خبر کی اشاعت تک ان کا جواب موصول نہیں ہوا۔ آرڈیننس میں کیا کہا گیا ہے؟ آرڈیننس، جس کی کاپی انڈپینڈنٹ اردو کے پاس موجود ہے، کے تحت قومی اسمبلی کے تین حلقوں کی سطح پر اسلام آباد میں تین ٹاؤن کارپوریشنز قائم کی جائیں گی۔ ہر ٹاؤن کارپوریشن میں ایک میئر اور دو ڈپٹی میئر ہوں گے، جبکہ ٹاؤن کارپوریشنز کی مدت چار سال مقرر کی گئی ہے۔ آرڈیننس کے مطابق ہر ٹاؤن کارپوریشن میں یونین کونسلز کی تعداد کا تعین وفاقی حکومت کرے گی جسے باقاعدہ طور پر نوٹیفائی کیا جائے گا۔ ’حکومت عوامی اعتراضات اور سفارشات کی روشنی میں ٹاؤن کارپوریشنز اور یونین کونسلز کی حدود میں ترمیم بھی کر سکے گی۔‘ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) متن کے مطابق وزارت داخلہ کی سفارش پر حکومت کسی بھی ٹاؤن کارپوریشن کے اندر یونین کونسلز کی تعداد میں اضافہ یا کمی کرنے کی مجاز ہوگی۔ جبکہ یونین کونسلز کی حلقہ بندی کا اختیار الیکشن کمیشن آف پاکستان کے پاس ہوگا۔ ہر یونین کونسل نو جنرل کونسلرز اور چار مخصوص نشستوں پر مشتمل ہوگی۔ آرڈیننس میں کہا گیا ہے کہ نئے نظام کے تحت ہر ٹاؤن کارپوریشن میں یونین کونسل کے چیئرمین بطور جنرل ممبر شامل ہوں گے۔ اس کے علاوہ ہر ٹاؤن کارپوریشن میں چار خواتین ارکان، ایک کسان یا ورکر، ایک تاجر، ایک نوجوان رکن اور ایک غیر مسلم رکن شامل ہوگا۔ آرڈیننس میں واضح کیا گیا ہے کہ یونین کونسل کے جنرل ممبرز کا انتخاب خفیہ رائے شماری کے ذریعے کیا جائے گا۔ کولیشن 38 کے مشترکہ اعلامیے کے مطابق ٹاؤن کارپوریشنز کے قیام، میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد (ایم سی آئی) کے خاتمے اور غیر منتخب منتظمین کو وسیع اختیارات اور غیر معینہ مدت کے لیے مقرر کرنے سے مقامی حکومت کا نظام ’کم جمہوری اور زیادہ سینٹرالائزڈ ہو جائے گا۔‘ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ تبدیلیاں منتخب و غیر منتخب عہدے داروں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ کریں گی، بلکہ اس سے منتخب ارکان کے درمیان بھی اختلافات پیدا ہوں گے۔ کولیشن 38 نے اس پورے عمل کو ’خفیہ اور متنازع‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان ترامیم سے گورننس بہتر ہونے کے بجائے ’بدعنوانی کو فروغ ملنے‘ کا خدشہ ہے۔ اعلامیے میں وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ان تبدیلیوں پر فوری عمل درآمد کے بجائے بامعنی عوامی مشاورت کا آغاز کیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ کولیشن 38 نے عدالتوں اور تمام جمہوری حلقوں سے بھی فوری نوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔ پاکستان اسلام آباد سول سوسائٹی بدھ کو کولیشن 38 کی جانب سے جاری کردہ بیان میں نئے قانون کے تحت ’شہریوں کو نئی قائم کی گئی ٹاؤن کارپوریشنز کے ارکان کو منتخب کرنے کے بنیادی حق سے محروم کر دیا گیا ہے۔‘ قرۃ العین شیرازی بدھ, جنوری 14, 2026 - 21:30 Main image:

27 مئی 2021 میں لی گئی اس تصویر میں اسلام آباد کو دیکھا جا سکتا ہے (فائل فوٹو/ اے ایف پی)

پاکستان type: news related nodes: اسلام آباد میں 1 جنوری سے بغیر ایم ٹیگ گاڑیوں کا داخلہ ممنوع: وزیر داخلہ این ایف سی، 18ویں ترمیم کو چھیڑنا آگ سے کھیلنے کے مترادف: بلاول اسلام آباد کو دارالحکومت بنانے کا منصوبہ انگریزوں نے بنایا تھا؟ SEO Title: اسلام آباد: مقامی حکومت آرڈیننس، سول سوسائٹی کی شدید مخالفت copyright: show related homepage: Show on Homepage