جدید دور میں اپنے نظریاتی مخالفین کو شیطان، ہٹلر یا تاریخ و ہالی وڈ کے کسی بھی بدترین کردار سے تشبیہ دینے کے رجحان کی مشکل یہ ہے کہ بعض اوقات وہ لوگ درست بھی ثابت ہو جاتے ہیں۔ ایلون مسک کو ہی لے لیجیے۔ انصافاً کہا جائے تو وہ خود بھی اس گناہ کے مرتکب رہے ہیں، خاص طور پر اس وقت جب وہ ٹوئٹر، جو اب ایکس کہلاتا ہے، پر اپنے غصے کا اظہار کرتے ہیں۔ مثال نمبر ایک: برطانیہ کو ’فاشسٹ‘ قرار دینا۔ تاہم چاہے یہ بات ان کے ناقدین کو کتنی ہی ناگوار گزرے، گوگل اور ایپل کے ایک دوسرے کے ساتھ گٹھ جوڑ سے متعلق جو خدشات انہوں نے ظاہر کیے ہیں، وہ مکمل طور پر درست ہیں۔ اس معاملے میں یہ حددرجہ دولت مند کاروباری شخص، جنہیں بہت سے لوگ شیطان کا مجسم روپ سمجھتے ہیں، غیر متوقع طور پر حق کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) ایپل اگلی نسل کی سری اور ایپل فاؤنڈیشن ماڈلز کے لیے گوگل کے جیمنائی ماڈلز استعمال کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، حالانکہ وہ خود مصنوعی ذہانت پر اربوں کی سرمایہ کاری کر چکا ہے۔ صارفین شاید سکھ کا سانس لیں، کیونکہ سری کسی حد تک مذاق بن چکی ہے۔ میرے پاس ایپل کے کئی آلات ہیں، مگر میں سری کبھی استعمال نہیں کرتا، کیونکہ اگر امریکی انگریزی کا لفظ مستعار لینے کی اجازت ہو تو یہ سراسر کچرہ ہے۔ کمپنی مسلسل اس بات پر فخر کرتی ہے کہ اس کی تازہ ترین ڈیوائسز ’ایپل کی ذہانت‘ سے لیس ہیں۔ کیا واقعی یہ کوئی فروخت کا مؤثر نکتہ ہے؟ کیا یہ بات واقعی آپ کو نیا آئی فون خریدنے پر آمادہ کرتی ہے؟ اگر ایسا ہے تو قصور آپ ہی کا ہے۔ شاید کمپنی میں کسی اعلیٰ عہدے پر موجود فرد نے اس مسئلے کو پہچان لیا ہے۔ یوں گوگل منظر پر آتا ہے، جس کی ٹیکنالوجی کے ذریعے ایپل کو امید ہے کہ وہ اس خامی کو ایک طویل المدتی معاہدے کے تحت دور کر لے گا، جس کی مالیت ظاہر نہیں کی گئی۔ یہ گوگل کی ذیلی کمپنی الفابیٹ کے لیے بھی ایک نہایت ضروری کامیابی ہے۔ یہ ادارہ چیٹ جی پی ٹی بنانے والی کمپنی اوپن اے آئی کی ابتدائی برتری ختم کرنے کے لیے بے تحاشا سرمایہ جھونک چکا ہے۔ اندازوں کے مطابق 2025 میں یہ رقم 91 ارب ڈالر سے 93 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے، یہ اعداد و شمار خود گوگل کی مصنوعی ذہانت کے مطابق ہیں۔ ایلون مسک کا ردعمل حسبِ توقع ایکس پر سامنے آیا اور انہوں نے لکھا: ’یہ گوگل کے لیے طاقت کے غیر معقول ارتکاز جیسا معلوم ہوتا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ ان کے پاس اینڈرائیڈ اور کروم بھی ہیں۔‘ This seems like an unreasonable concentration of power for Google, given that the also have Android and Chrome — Elon Musk (@elonmusk) January 12, 2026 مجھے اب بھی حیرت ہوتی ہے کہ یہ شخص آخر اتنا وقت کیسے نکال لیتا ہے کہ اسے اپنی سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر یوں صرف کرے، مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ غلط ہیں۔ ان کے معیار کے مطابق دیکھا جائے تو یہ ایک نسبتاً متوازن اور معقول مداخلت تھی۔ اور نہ ہی ان کی بات اس وجہ سے کمزور ہوتی ہے کہ مسک خود بھی مصنوعی ذہانت کے متنازع نظام ’گروک‘ کے ذریعے اس میدان میں بھاری سرمایہ کاری کر چکے ہیں۔ اس کے پیدا کردہ مسائل پر میں آئندہ کسی کالم میں مزید بات کروں گا۔ واپس آتے ہیں ایپل اور گوگل کی طرف۔ یہ اقدام گوگل کی بالادستی کو ٹیکنالوجی کی ایک اور نہایت اہم دنیا میں مزید مضبوط کر سکتا ہے۔ اینڈرائیڈ اور کروم کے ساتھ ساتھ، جن کا ذکر ایلون مسک نے کیا، گوگل سرچ اور ڈیجیٹل اشتہارات کا بھی بادشاہ ہے۔ ویب نقشہ سازی میں اس کی اجارہ داری ہے اور یوٹیوب کے ذریعے یہ ویڈیو شیئرنگ میں عالمی طاقت رکھتا ہے۔ البتہ ٹک ٹاک کے ظہور نے یہ ضرور دکھا دیا ہے کہ ایسے بازاروں میں بھی مسابقت ممکن ہے جہاں نیٹ ورک اثرات صارفین کو ایک ہی غالب پلیٹ فارم کی طرف دھکیل دیتے ہیں۔ کتنا وقت لگے گا کہ گوگل یا الفابیٹ ان خوفناک دیوہیکل کارپوریشنز میں بدل جائے جو مایوس کن ناولوں، فلموں اور ڈراموں میں منفی کردار کے طور پر دکھائی جاتی ہیں، جو کاروبار اور سیاست کو کنٹرول کرتی ہیں اور ہماری زندگی کے ہر پہلو میں ناک گھساتی ہیں؟ سازشی ذہن رکھنے والے تو یہ دلیل دیں گے کہ ہم پہلے ہی اس مرحلے پر پہنچ چکے ہیں۔ ایلون مسک کی جانب سے اٹھائے گئے مسابقتی قوانین سے متعلق خدشات اس معاہدے کا واحد مسئلہ نہیں۔ کچھ ایپل صارفین اس برانڈ کو اس کی نسبتاً مضبوط رازداری کی شہرت کے باعث منتخب کرتے ہیں۔ اس حوالے سے گوگل کی مصنوعی ذہانت کا کہنا ہے: ’ایپل عمومی طور پر مضبوط طے شدہ رازداری فراہم کرتا ہے، جس میں ایپس پر سخت کنٹرول، کمپنی کی جانب سے کم ڈیٹا جمع کرنا اور باقاعدہ اپ ڈیٹس شامل ہیں، جس سے عام صارفین کے لیے معاملات آسان ہو جاتے ہیں۔‘ ایپل اصرار کرتا ہے کہ صارفین کا ڈیٹا محفوظ رہے گا اور الفابیٹ کو آپ کی ذاتی معلومات تک رسائی نہیں ملے گی۔ ہم دونوں پر بھروسا کریں! واقعی سوچنے والی بات ہے۔ بہرحال، اس اشتراک سے پیدا ہونے والے مسابقتی مسائل زیادہ سنگین ہیں۔ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی طاقت ایسا معاملہ ہے جس سے نگران ادارے مسلسل نمٹنے میں ناکام رہے ہیں، میرے خیال میں جزوی طور پر سیاست کے باعث۔ یورپی اتحاد کی جانب سے انہیں قابو میں لانے کی کوششیں بارہا امریکہ کو ناراض کر چکی ہیں، جو اکثر منصفانہ کھیل کے نفاذ کو امریکہ، اس کی کمپنیوں اور اس کی تکنیکی برتری پر حملہ قرار دیتا ہے، خاص طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار میں آنے کے بعد۔ اجارہ داریوں کے حوالے سے گوگل کی مصنوعی ذہانت کا کہنا ہے: ’اجارہ داریاں اس لیے بری ہوتی ہیں کہ وہ صارفین کو نقصان پہنچاتی ہیں، قیمتیں بڑھاتی ہیں، معیار کم کرتی ہیں اور انتخاب کے مواقع محدود کر دیتی ہیں۔ مسابقت کی کمی کمپنیوں کو جدت یا مؤثر کارکردگی سے بے نیاز کر دیتی ہے، جس کے نتیجے میں استحصال، معاشی ترقی میں رکاوٹ اور حد سے زیادہ مارکیٹ طاقت پیدا ہو سکتی ہے، جو پالیسی اور سپلائرز کو بھی متاثر کرتی ہے۔ ’اگرچہ بعض اوقات اس سے معیشت کے پیمانے کے فوائد حاصل ہو سکتے ہیں، مگر مجموعی طور پر صارفین اور منڈی کی منصفانہ فضا پر منفی اثرات ہی غالب رہتے ہیں، اسی لیے قواعد و ضوابط ضروری سمجھے جاتے ہیں۔‘ اس بات سے اختلاف کرنا مشکل ہے۔ اگر ایلون مسک کی مداخلت امریکہ کے پالیسی سازوں کو بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی جانب سے مسلسل پیدا کیے جانے والے بے شمار مسابقتی مسائل کا سنجیدگی سے سامنا کرنے پر آمادہ کر دے، تو یہ ہم سب کے لیے ایک احسان ہو گا۔ شاید یہ اس بات کا ثبوت ہو کہ بند گھڑی بھی دن میں دو بار درست وقت بتا دیتی ہے۔ ایلون مسک ایکس ایپل گوگل مصنوعی ذہانت اگرچہ یہ بات ان کے ناقدین کے لیے تکلیف دہ ہے، مگر ارب پتی ایلون مسک نے ایپل اور گوگل کے بڑھتے ہوئے تعلقات میں ایک حقیقی مسابقتی قانون سے متعلق خطرے کی نشاندہی کی ہے اور نگران اداروں کو اس پر توجہ دینی چاہیے۔ جیمز مور جمعرات, جنوری 15, 2026 - 07:30 Main image:
ٹیسلا کے چیف ایگزیکٹو ایلون مسک 21 ستمبر 2025 کو ایریزونا کے شہر گلینڈیل میں سٹیٹ فارم سٹیڈیم میں دائیں بازو کے کارکن چارلی کرک کی عوامی یادگاری تقریب میں شرکت کے موقعے پر (پیٹرک ٹی فالون/ اے ایف پی)
نقطۂ نظر type: news related nodes: گوگل نے چیٹ جی پی ٹی کو کیسے پیچھے چھوڑا؟ اب گوگل جیمنائی آپ کی ای میلز اور دستاویزات پڑھ سکتا ہے اوپن اے آئی نے ایلون مسک کے گروک کو شطرنج میں شکست دے دی گوگل کروم کے مقابلے میں اوپن اے آئی کا ویب براؤزر SEO Title: ایپل اور گوگل کے معاہدے پر ایلون مسک کی تشویش درست copyright: IndependentEnglish origin url: https://eu16.proxysite.com/process.php?d=9A8GVte0WucmmI%2FU0ZidNOu1U6QRadv6Bdm5yO0IRdNUjauPZIa6xTHzUPocAWMG3B6SvzRNRKk1yW1sfKYQGlrfQf9U2Zq%2B5sF7%2BQAgrmIOMvHsPSZXtmjZCh6kEUOh6l0HbaHgm8ZWxmdf4CRX&b=1&f=norefer show related homepage: Show on Homepage