ایران نے جمعرات کو علی الصبح بغیر کسی وضاحت کے تجارتی پروازوں کے لیے اپنی فضائی حدود بند کر دی۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے، جب ملک گیر احتجاجی مظاہروں پر کریک ڈاؤن کے باعث تہران کی امریکہ کے ساتھ کشیدگی بدستور برقرار ہے۔ ایران اس سے قبل جون میں اسرائیل کے خلاف 12 روزہ جنگ کے دوران اور اسرائیل۔حماس جنگ میں اسرائیل کے ساتھ کشیدگی کے وقت بھی اپنی فضائی حدود بند کر چکا ہے۔ اس بندش کے اثرات فوری طور پر عالمی ہوا بازی پر پڑے کیونکہ ایران مشرق اور مغرب کے درمیان پروازوں کے ایک اہم راستے پر واقع ہے۔ تنازع والے علاقوں اور فضائی سفر سے متعلق معلومات فراہم کرنے والی ویب سائٹ سیف ایئر سپیس کے مطابق: ’متعدد ایئرلائنز پہلے ہی اپنی سروسز کم یا معطل کر چکی ہیں اور زیادہ تر ایئرلائنز ایرانی فضائی حدود سے گریز کر رہی ہیں۔ بیان میں کہا گیا: ’صورت حال مزید سکیورٹی یا عسکری سرگرمیوں کا عندیہ دے سکتی ہے، جن میں میزائل داغے جانے یا فضائی دفاعی نظام کے الرٹ ہونے کا خطرہ شامل ہے، جس سے شہری طیاروں کو غلطی سے نشانہ بنائے جانے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔‘ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) ایران ماضی میں ایک تجارتی طیارے کو دشمن ہدف سمجھ کر نشانہ بنا چکا ہے۔ 2020 میں ایرانی فضائی دفاع نے یوکرین انٹرنیشنل ایئرلائنز کی پرواز پی ایس 752 کو زمین سے فضا میں مار کرنے والے دو میزائلوں سے نشانہ بنایا تھا، جس کے نتیجے میں طیارے میں سوار تمام 176 افراد جان سے چلے گئے تھے۔ ایران نے کئی دن تک طیارہ مار گرانے کے الزامات کو مغربی پراپیگنڈا قرار دے کر مسترد کیا اور پھر بالآخر اس کا اعتراف کر لیا تھا۔ فضائی حدود کی بندش ایک ایسے وقت میں سامنے آئی جب قطر میں ایک اہم امریکی فوجی اڈے پر تعینات بعض اہلکاروں کو انخلا کا مشورہ دیا گیا۔ کویت میں امریکی سفارت خانے نے بھی اپنے عملے کو خلیجی عرب ملک میں موجود متعدد فوجی اڈوں پر جانے سے ’عارضی طور پر روک‘ دیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو مبہم بیانات پوسٹس کیے تھے، جن سے یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ایران کے خلاف کوئی امریکی کارروائی ہو گی یا نہیں۔ صحافیوں سے گفتگو میں ٹرمپ نے کہا کہ انہیں بتایا گیا ہے کہ ایران میں پھانسیاں روک دی گئی ہیں، تاہم انہوں نے اس بارے میں زیادہ تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ اس سے ایک دن قبل ٹرمپ نے ایران میں مظاہرین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’مدد آ رہی ہے‘ اور ان کی انتظامیہ اسلامی جمہوریہ کی مہلک کارروائیوں کے جواب میں ’اسی کے مطابق عمل کرے گی۔‘ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی بیانیے میں نرمی لانے کی کوشش کی اور امریکہ پر زور دیا کہ وہ مذاکرات کے ذریعے حل تلاش کرے۔ فاکس نیوز کی جانب سے پوچھے گئے سوال پر کہ وہ ٹرمپ کو کیا پیغام دینا چاہیں گے، عباس عراقچی نے کہا: ’میرا پیغام یہ ہے کہ جنگ اور سفارت کاری کے درمیان، سفارت کاری بہتر راستہ ہے، اگرچہ ہمیں امریکہ کے ساتھ کوئی مثبت تجربہ حاصل نہیں ہوا۔ اس کے باوجود سفارت کاری، جنگ کے مقابلے میں کہیں بہتر ہے۔‘ اس سے قبل بدھ کو ایران کے پاسداران انقلاب کی ایئرو سپیس فورس کے کمانڈر میجر جنرل ماجد موسوی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مداخلت کی دھمکیوں پر کہا تھا کہ وہ کسی بھی قسم کی ’جارحیت‘ کا جواب دینے کے لیے ’مکمل تیار‘ ہیں۔ امریکہ اور ایران کی جانب سے لہجے میں یہ تبدیلی اس بیان کے چند گھنٹے بعد سامنے آئی جب ایران کے چیف جسٹس نے کہا کہ حکومت کو حراست میں لیے گئے ہزاروں افراد کو سزا دینے کے لیے تیزی سے کارروائی کرنی چاہیے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں نے خبردار کیا کہ زیر حراست افراد کو جلد پھانسی دی جا سکتی ہے۔ امریکی ریاست میں قائم ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس نیوز ایجنسی کے مطابق سکیورٹی فورسز کے کریک ڈاؤن میں کم از کم 2,615 افراد جان سے جا چکے ہیں۔ اموات کی یہ تعداد گذشتہ کئی دہائیوں میں ایران میں ہونے والے کسی بھی احتجاج یا بدامنی سے زیادہ ہے اور یہ 1979 کے اسلامی انقلاب کے دوران پھیلنے والے انتشار کی یاد دلاتی ہے۔ امریکہ ایران فضائی حدود اس بندش کے اثرات فوری طور پر عالمی ہوا بازی پر پڑے کیونکہ ایران مشرق اور مغرب کے درمیان پروازوں کے ایک اہم راستے پر واقع ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس جمعرات, جنوری 15, 2026 - 08:00 Main image:
ایک ایئربس اے 321 طیارہ 12 جنوری 2017 کو دارالحکومت تہران میں ایرانی سرکاری ایئرلائن ایران ایئر کو طیاروں کی پہلی کھیپ کی ترسیل کے موقع پر مہرآباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر لینڈ کرتے ہوئے (عطا کنارے / اے ایف پی)
ایشیا type: news related nodes: ایران کسی بھی جارحیت کے خلاف مکمل تیار ہے: پاسداران انقلاب ایران میں مظاہرین کو پھانسی دی گئی تو’سخت کارروائی‘ ہو گی: ٹرمپ ایرانی سرکاری عہدیدار کی احتجاج میں 2000 اموات کی تصدیق: روئٹرز ایران پر ممکنہ امریکی حملے کے لیے سرزمین کے استعمال کا دعویٰ بے بنیاد: پاکستان SEO Title: امریکہ سے کشیدگی برقرار: ایران نے تجارتی پروازوں کے لیے فضائی حدود بند کر دی copyright: show related homepage: Show on Homepage