اسلام آباد سے بمبئی تک: کچی آبادیوں کے خواب کیسے ڈمپ کیے جاتے ہیں؟

بالی وڈ کے تخیل میں کچی آبادیاں آئینے پر جمی گرد ہیں۔ سکرین چمکتی ہے تو گرد کے ذرے غائب ہو جاتے ہیں۔ شہر اپنی خوبصورتی دکھانا چاہتا ہے، پروڈیوسر فلم بیچنا چاہتا ہے، ایکٹر ہینڈسم نظر آنا چاہتا ہے۔ دکھ سہتے سہتے کچی آبادیوں کے مکین ملبے کا ڈھیر بنتے ہیں اور کرینیں کوڑے کو ایک جگہ سے اٹھا کر کہیں اور پھینک دیتی ہیں، ڈمپ کرنے کے لیے۔ اسلام آباد کی کچی آبادیوں اور بمبئی کے گلی بوائز میں کیا فرق ہے؟ میں نہیں جانتا۔ مگر بالی وڈ کی سکرین ہو یا سی ڈے اے کا آپریشن، کچرے کا ڈھیر ہی ڈمپ کیا جاتا ہے۔ کچی آبادیوں میں بڑے خاندان یا آسودہ حال لوگ تو رہتے نہیں، اس لیے یہاں کی زندگی گاؤں یا شہر کے گلی محلوں سے یکسر مختلف ہوتی ہے۔ چیچہ وطنی سے کسی کو اسلام آباد چھوٹی موٹی جاب ملی تو سستا ٹھکانہ ڈھونڈتا وہ کچی آبادی میں آ نکلے گا۔ جھنگ سے کوئی نائی دارلحکومت میں آن بھٹکا تو دن میں درخت کے نیچے کرسی لگائی، شام میں بری امام سے لنگر کیا، رات گندے مندے کمرے میں آٹھ دس پردیسوں کے اوپر نیچے سو رہا، صبح مسجد کے بیت الخلا سے ہو کر لنگر سے چار نوالہ لیے اور پھر درخت تلے جا کھڑا ہوا۔ رفیق روز صبح کسی محلے والے سے لفٹ لے کر بری امام پہنچتا ہے۔ چند سال پہلے اس نے اپنا بازو کٹوا دیا تھا۔ اب خوش ہے کہ مانگنے سے پہلے ہی ٹنڈ منڈ ہاتھ دیکھ کر لوگ جھولی میں کچھ نہ کچھ ڈال دیتے ہیں۔ روز کی بکواس نہیں سننا پڑتی کہ اچھے بھلے ہٹے کٹے ہو، کوئی کام کیوں نہیں کرتے۔ پتہ نہیں لوگ بھیک کو کام کیوں نہیں سمجھتے؟ رفیق کی سمجھ میں یہ بات نہیں آتی۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) نائلہ کی کہانی مجھے دلچسپ لگتی ہے۔ ایک خواجہ سرا محلے میں آتا ہے، رسمی سی کارروائی کرتے ہوئے دو چار لوگوں سے بسم اللہ، بھاگ لگے رہن، مولا رزق میں برکت دے، کہتا ہے، اس سے پہلے کہ آپ کوئی فیصلہ کریں، خود ہی آگے بڑھ جاتا ہے۔ دانی کہتا ہے بہت جلدی ہوتی ہے اسے نائلہ کے گھر جانے کی۔ کوئی کہتا ہے یہ نائلہ کا مجنوں ہے، کوئی کہتا ہے اس کے شوہر عاطف کی لیلیٰ ہے۔ بھید بھرا خواجہ سرا مجھے بہت پیارا لگتا ہے۔ ہم میں سے کوئی بھی یہ آئیڈیا آزما سکتا ہے۔ مگر کیا واقعی؟ بھئی کچی آبادی کی دنیا بہت تہہ دار ہے، کوئی کسی کے دادا پردادا کو نہیں جانتا، اس لیے ناک کٹ گئی جیسے روایتی مسائل نہیں ہوتے۔ جہاں پورے پورے خاندان آباد ہوں، وہاں دور پار کے رشتہ دار بھی آپ پر کیمرہ فٹ کیے بیٹھے ہوتے ہیں۔ یہاں ایسا کچھ نہیں، زیادہ آزادی، جبلت کا ہموار سفر۔ سب جانتے ہیں، سب چپ رہتے ہیں۔ مورل ججمنٹ ہو بھی تو بے ضرر سی۔ مگر بالی وڈ کچی آبادیوں کو کیسے پیش کرتا آیا؟ 1950 اور 1960 کی دہائی خواب کا وقت تھا، نہرو کا سوشلزم۔  تنگ کمرے، ٹپکتی چھتیں اور کچی گلیاں ’بوٹ پالش‘ (1954) یا ’دو بیگھہ زمین‘ (1953) جیسی فلموں میں نظر آتی ہیں، مگر سینیما میں یہ کوئی دیرپا اثر چھوڑے بغیر ہی نئے دور کی نذر ہو جاتی ہیں۔ ’بوٹ پالش‘ کے پروڈیوسر راج کپور نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا: ’میں نے ’آوارہ‘ میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ آوارہ گرد پیدا نہیں ہوتے بلکہ ہمارے جدید شہروں کی کچی آبادیوں میں، شدید غربت اور بگڑے ہوئے ماحول کے بیچ تشکیل پاتے ہیں۔ بوٹ پالش نادار بچوں کے مسئلے کو، ان کی بقا کی جدوجہد اور منظم بھیک مانگنے کے نظام کے خلاف ان کی لڑائی کو نہایت مؤثر انداز میں پیش کرتی ہے۔ اس فلم کا مقصد یہ احساس دلانا ہے کہ یتیم بچے صرف حکومت ہی نہیں بلکہ آپ کی بھی اتنی ہی ذمہ داری ہیں۔ انفرادی خیرات اس مسئلے کا حل نہیں، اس کا واحد حل قومی سطح پر اجتماعی تعاون کی کوشش ہے۔‘ راج کپور کی نائلہ نے پارلیمنٹ میں کھڑے ہو کر ستیہ جیت رے کے بارے میں کہا تھا کہ وہ غربت بیچ کر عالمی سطح پر مشہور ہوئے۔ 1954 کی بالی وڈ فلم ’بوٹ پالش‘ میں نادار بچوں کے مسئلے کو، ان کی بقا کی جدوجہد اور منظم بھیک مانگنے کے نظام کے خلاف ان کی لڑائی کو نہایت مؤثر انداز میں پیش کیا گیا (پبلک ڈومین) بالی وڈ نے غربت کے بجائے خواب بیچنے میں سرمایہ کاری کی۔ امیتابھ بچن کے کردار اکثر انتہائی غربت زدہ شہری جگہوں سے ابھرتے ہیں، ناانصافی اور دھوکہ اینگری ینگ مین کی تشکیل کرتے ہیں، مگر یہ غربت سے وابستہ اجتماعی کہانیاں نہیں، انفرادی خواب تھے جو سلیم جاوید نے بہت مہنگے میں بیچے۔ عورتوں کی ’محنت،‘ بچوں کی روزمرہ زندگی یا وہ سماجی رشتے کم ہی دکھائے گئے جو حقیقت میں ان بستیوں کو سنبھالے رکھتے ہیں۔ کچی آبادی ہیرو کے غصے کی توجیہہ تھی، اپنی کہانی سنانے والا کردار نہیں۔ کیا بالی وڈ کی ’عظمت‘کے لیے یہی کافی نہیں کہ وہ اپنے سنہرے دور میں بمبئی کی کچی آبادیوں کی ایک بھی موثر سینیمائی تشکیل نہیں کر سکا؟ ’پرندہ‘ (1989)، ’اگنی پت‘ (1990) اور بعد میں ’ستیہ‘ (1998) جیسی فلموں نے کچی آبادیوں کو جرم، تشدد اور انڈرورلڈ کے ساتھ مضبوطی سے جوڑ دیا۔ تنگ گلیاں، لوہے کی چادروں کی چھتیں اور گھٹن زدہ اندرونی مناظر کم از کم کیمرے کی حد تک ضرور حقیقی تھے۔ اس سلسلے میں رام گوپال ورما کی ’ستیہ‘ ایک اہم سنگ میل ہے۔ حقیقی مقامات پر ہینڈ ہیلڈ کیمروں کے ساتھ شوٹ کی گئی اس فلم نے جیسے ممبئی کی دستاویزی تصویر پیش کی ہو۔ ’ستیہ‘ میں کچی آبادی محض لوکیشن نہیں تھی بلکہ ایک زندہ، افراتفری سے بھرپور اور خوفناک حد تک حقیقی دنیا تھی۔ ’ستیہ‘ سمیت بعد میں بننے والی تمام ایسی فلمیں ’سلام بمبئے‘ (1988) کے کوٹ سے نکلی ہیں۔ ’سلام بمبئے‘ نے بمبئی کی کچی آبادی کو ایک زندہ، سانس لیتی دنیا کے طور پر پیش کیا، جہاں ہر گلی، چھت اور بازار اپنے درد اور خوشی کے قصے سناتے ہیں۔ بچے محض مظلوم یا مجرم نہیں، بلکہ چھوٹے چھوٹے خوابوں اور مزاحمت کے ساتھ اپنی چھوٹی چھوٹی بازیاں جیتتے ہیں، کھیلتے ہیں، دوستیاں کرتے اور دشمنیاں پالتے ہیں۔ بالی وڈ فلموں ’پرندہ‘ (1989)، ’اگنی پت‘ (1990) اور بعد میں ’ستیہ‘ (1998) جیسی فلموں نے کچی آبادیوں کو جرم، تشدد اور انڈرورلڈ کے ساتھ مضبوطی سے جوڑ دیا (یوٹیوب ویڈیو سکرین گریب) پہلے کی فلمیں کچی آبادی کو علامت یا پس منظر کے طور پر استعمال کرتی تھیں، مگر ’سلام بمبئے‘ نے اسے ایک خودمختار، جیتی جاگتی کمیونٹی کے طور پر دکھایا، جہاں نائلہ بھی ہے اور رفیق بھی۔ غربت کے پردے کے پیچھے زندگی کے تمام رنگ چھپے ہیں۔ دکھ، خوف اور جدوجہد کی برف میں ہنسی اور دوستی کے چشمے پھوٹتے ہیں، جو برسوں بالی وڈ کو سیراب کرتے ہیں۔ مگر اس حقیقت پسندی کی بھی ایک قیمت تھی۔ کچی آبادی آہستہ آہستہ سینیما کی پسندیدہ ’جرم فیکٹری‘ بن گئی۔ غربت اور اخلاقی زوال ایک ہی سکے کے دو رخ بن گئے۔ متوسط طبقہ یا اشرافیہ بھی بطور انسان اتنے ہی گھٹیا یا اچھے ہو سکتے ہیں جتنے گلی بوائز، مگر بندوق، چھری اور خون زیادہ کچی آبادیوں کے ماتھے کا نشان بن گئے۔ ایک خطرناک تاثر مضبوط ہوا کہ تشدد غربت کی کوکھ سے ہی جنم لیتا ہے، اسے معاشرے کی کھاد نہ بھی ملے تو خوب پھلتا پھولتا ہے۔ ’سلم ڈاگ ملینیئر‘ (2008) نے کچی آبادیوں کو رنگین، تیز رفتار اور جذبات سے لبریز امید گاہیں بنا دیا، جہاں مصیبت زدہ بچے، سفاک گینگسٹر اور ناقابلِ یقین امید ایک ساتھ نظر سوتے جاگتے ہیں۔ کچی آبادی اب محض غریب نہیں رہی، وہ ’سینیمائی غربت‘ بن گئی، جسے چونکانے، رلانے اور متاثر کرنے کے لیے فریم کیا گیا۔ ’گلی بوائے‘ (2019) بالی وڈ کا حقیقت کی طرف ایک اور قدم تھا۔ جرم یا محض مظلومیت کے بجائے اس فلم نے کچی آبادی سے ابھرنے والی تخلیقی اظہار کو مرکز بنایا۔ زیادہ تر کچی آبادی پر مبنی فلمیں ایسے لوگوں کی لکھی، بنائی اور پروڈیوس کی ہوئی ہیں جنہوں نے خود کبھی کچی آبادی میں زندگی نہیں گزاری۔ یوں کہیں ہمدردانہ اور کہیں تجسس بھری کہانی ملتی ہے۔ نائلہ اور رفیق کی اپنی دنیا ہے، اس کا ایک سماجی ڈھانچہ ہے، اس کی اپنی خوشیاں، اپنے غم، اپنی دوستیاں، اپنی دشمنیاں ہیں۔ زندگی اپنی تمام تر پیچیدگیوں کے ساتھ کچی آبادیوں میں بنتی، سانس لیتی، جوان ہوتی اور بچے پیدا کرتی ہے۔ سینیما ایدھی صاحب کا کردار ادا کرنے لگے تو نائلہ کا دل ٹوٹ جائے گا۔ سینیما دکھانے لگے کہ نائلہ کے بچوں کی شکلیں خواجہ سرا سے ملتی ہیں تو اس کے خاوند کا دل ٹوٹ جائے گا۔ سینیما اور سی ڈی اے کس کس کا دل رکھیں؟ نوٹ: یہ تحریر بلاگر کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ اسلام آباد ممبئی بالی وڈ فلم زیادہ تر کچی آبادی پر مبنی فلمیں ایسے لوگوں کی لکھی، بنائی اور پروڈیوس کی ہوئی ہیں جنہوں نے خود کبھی کچی آبادی میں زندگی نہیں گزاری۔ یوں کہیں ہمدردانہ اور کہیں تجسس بھری کہانی ملتی ہے۔ فاروق اعظم جمعرات, جنوری 15, 2026 - 10:00 Main image:

 

2008 میں ریلیز ہونے والی بالی وڈ فلم ’سلم ڈاگ ملینیئر‘ نے کچی آبادیوں کو رنگین، تیز رفتار اور جذبات سے لبریز امید گاہیں بنا دیا، جہاں مصیبت زدہ بچے، سفاک گینگسٹر اور ناقابلِ یقین امید ایک ساتھ نظر سوتے جاگتے ہیں (یوٹیوب ویڈیو سکرین گریب)

بلاگ type: news related nodes: سال 2026: بالی وڈ کی ہنڈیا میں کیا کچھ پک رہا ہے؟ ممبئی: ’کچی بستی کی شہزادی‘ جو سوشل میڈیا سٹار بن چکی ہیں بالی وڈ میں خاندانی سلطنت سنبھالتے ’سٹار کڈز‘ کراچی کی کچی بستی کی وہ بچیاں جنہوں نے بین الاقوامی مقابلہ جیتا SEO Title: اسلام آباد سے بمبئی تک: کچی آبادیوں کے خواب کیسے ڈمپ کیے جاتے ہیں؟ copyright: Display mode: meta header middle show related homepage: Show on Homepage