’ڈوگر دیش‘ کا مطالبہ اور کشمیریوں کی غیر متوقع حمایت

’بالکل، جموں کو کشمیر سے الگ کردو، ہم نے سو سال ڈوگرہ دور میں کیا کم سہا اور برداشت کیا ہے، اب ان کی سازشوں کو مزید برداشت کریں گے، ہمارا کشمیر الگ کردو، بس۔‘ یہ خیالات ہیں سری نگر لال چوک کے تاجر بلال احمد کے جو گذشتہ چالیس برسوں سے جموں اور سری نگر میں خشک میووں کا کاروبار کرتے ہیں اور اندرونی خودمختاری ختم ہونے کے بعد خسارہ اٹھا رہے ہیں۔ ’ڈوگر دیش‘ کے مطالبے سے وہ جذباتی طور پر مجروح نظر آرہے تھے۔ جموں کے ان گروہوں یا سیاست دانوں کو شاید اس کی توقع نہیں تھی کہ ان کے جموں کو الگ کرکے ڈوگر دیش بنانے کے مطالبے پر بیشتر کشمیری لبیک کہیں گے۔ کشمیر سے جموں کو الگ کرنے کا مطالبہ کوئی نیا نہیں ہے، گوکہ برصغیر کے بٹوارے کے بعد ہی ہندو انتہا پسندوں نے اس کا مطالبہ شروع کیا تھا لیکن 2006 کے بعد جب یہ آوازیں انتہا پسند سیاست دانوں نے اٹھائیں تو جموں کے عوام میں یہ بات کافی عرصے سے بیٹھ گئی کہ مسلم کشمیر نے جموں والوں کے ساتھ سوتیلی ماں والا سلوک روا رکھا ہے۔ پھر اس میں بعض مختلف غیر سرکاری اداروں کی آوازیں بھی شامل ہوتی گئیں، مگر جب 1990 میں پرتشدد حالات کی وجہ سے کشمیری پنڈت نقل مکانی پر مجبور ہوگئے، ان میں چند افراد پر مشتمل گروہ نے جموں کو الگ پردیش بنانے کے مطالبے کی حمایت کی۔ اب جب چند روز پہلے ہندوتوا جماعت بی جے پی کے سابق وزیر اور سرکردہ سیاست دان شام لال شرما نے الگ ڈوگر پردیش بنانے کا ایک بار پھر مطالبہ کیا ہے تو جموں و کشمیر میں اس پر کافی بحث و تمحیث شروع ہوگئی ہے۔ بی جے پی کے ایک اور رہنما اشوک کول نے اس کی نفی کرتے ہوئے کہا کہ یہ شرما کی ذاتی رائے ہوسکتی ہے کیونکہ انہیں پارٹی لیڈرشپ سے ایسا کوئی فرمان نہیں ملا ہے، مگر بی جے پی کے بعض دوسرے رہنماؤں اور اس سے منسلک درجنوں انتہا پسند تنظیموں نے شرما کے مطالبے کو جائز قرار دے کر وزیراعظم سے اس پر توجہ مرکوز کرنے کی اپیل کی۔ سیاسیات کے پروفیسر چندرا کانت کہتے ہیں کہ ’جموں و کشمیر میں حصول آزادی کے بیانیے کو ختم کرنے کے لیے آرٹیکل 370 اور 35 اے کی منسوخی سے متعلق جن تھنک ٹینکس، پالیسی سازوں اور سیاست دانوں نے مشورہ دیا تھا، انہوں نے ہی لداخ اور جموں کو الگ کرنے کی صلاح بھی دی ہے اور اس پر مرحلہ وار اطلاق کا مشورہ بھی دیا تھا۔‘ خیال ہے کہ لداخ کو الگ کرنے کے بعد شاید اب جموں کی باری ہے، جس کا اشارہ گذشتہ برسوں کی انتخابی حلقوں کی نئی حد بندیوں سے ملا، جب جموں اور کشمیر میں پارلیمانی اور اسمبلی انتخابات سے پہلے پرانے حلقوں میں ردوبدل کرکے نئی لکیریں کھنچی گئی تھیں۔ اس وقت بیشتر مبصرین نے کہا تھا کہ جموں اور کشمیر کے درمیان مذہبی بنیادوں پر حلقہ بندی کردی گئی ہے، جو ڈکسن پلان سے مطابقت رکھتا ہے، جب اقوام متحدہ کی نگرانی میں مسئلہ کشمیر کا حل تلاش کرنے کے لیے سر اوون ڈکسن نے چناب فارمولہ کے تحت اس خطے کو از سر نو ترتیب دینے کا مشورہ دیا تھا۔ چار جون 2012 کو جموں میں ہندو کارکن پرتشدد احتجاج کرتے ہوئے (اے ایف پی) ’ڈوگر دیش‘ بنانا اتنا آسان نہیں ہے کیونکہ جموں کے دس اضلاع میں محض چار اضلاع میں ہندو اکثریت ہے، جبکہ چناب اور پیر پنچال میں اکثریت مسلم آبادی کی ہے۔ سوال ہے کہ اگر ہندو مذہب کی بنیاد پر اپنی الگ ریاست بنانا چاہتے ہیں تو مسلمانوں کی اتنی بڑی آبادی جموں کے ساتھ کیسے رہے گی؟ ہوسکتا ہے کہ انتہا پسند ہندوؤں نے اس کا فارمولہ بھی تیار کر رکھا ہوگا۔ جموں کے ایک سرکردہ سماجی کارکن راجا بشارت کہتے ہیں کہ ’1947 میں جموں کے ان چار اضلاع میں بھی مسلمانوں کی اکثریت تھی، ہندو مسلم فسادات میں ساڑھے تین لاکھ مسلمانوں کا قتل عام کرکے ہمیں اقلیت میں تبدیل کردیا گیا، مگر شیخ عبداللہ سمیت بیشتر رہنماؤں نے اس وقت اُف تک نہیں کی کیونکہ وہ محمد علی جناح کے نظریے کو غلط قرار دینے کے چکر میں خاموش رہے، مگر وقت نے ثابت کردیا کہ سیکولرازم کا لبادہ اوڑھنے والے غلط ثابت ہوئے، اب ہم سے ہماری شناخت، ثقافت اور ہماری زمین چھینی جا رہی ہے، آج ان لیڈروں سے پوچھنا چاہیے کہ کیا مسلمانوں کو ہندوتوا کے رحم و کرم پر چھوڑا گیا تھا۔‘ ’ڈوگر دیش‘ کا مطالبہ کرنے والے انتہا پسند سمجھتے ہیں کہ کشمیر والے اس پر اپنا سخت ردعمل دیں گے جیسا کہ کشمیری اکثر کرتے آ رہے ہیں، مگر کشمیریوں کے بیانات سے بیشتر کی آنکھیں کھل گئیں جب انہوں نے الگ ریاست کے مطالبے کی حمایت کی۔ فوراً جموں کے بعض تاجروں نے میڈیا پر آ کر الگ وطن کے مطالبے کو رد کرتے ہوئے کہا کہ ’جموں کی آمدن کشمیر سے ہوتی ہے، کیا جموں کو فاقہ کشی کرنے پر مجبور کررہے ہو۔‘ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) واضح رہے کہ آرٹیکل 370 کے تحت نیم خودمختاری ختم کرنے کے بعد جموں کے بیشتر تاجروں نے الزام لگایا تھا کہ پنجاب کے بعض تاجر جموں میں آ کر تجارت اور زمینیں خرید رہے ہیں، دوسرا انڈیا کے ساتھ وادی کے براہ راست ریل رابطے کے بعد جموں میں سیاحوں کی تعداد صفر کے برابر پہنچی ہے اور پھر مرکزی سرکار کے حکم نامے کے تحت سرما میں انتظامیہ کو جموں منتقل کرنے کی روایات ختم کردی گئی تھیں۔ اب نیشنل کانفرنس کی موجودہ سرکار نے دربار موو کو بحال کردیا، جس کی بدولت جموں کی کچھ آمدن ہوتی ہے، امرناتھ یاترا کے یاتریوں کے براہ راست وادی میں وارد ہونے سے جموں کی ہوٹل انڈسٹری کافی متاثر ہوئی ہے۔ اب اگر الگ ریاست کا مطالبہ پورا ہوگا تو عین ممکن ہے کہ پنجاب کے بیشتر تاجران جموں کا رخ کریں گے، جس کا خدشہ یہاں کی تاجر برادری کو بخوبی ہے۔ گوکہ جموں کی بیشتر آبادی کو اس کا گہرا احساس ہے کہ مذہب کی بنیاد پر دوسرا بٹوارہ ان کے لیے مشکلات پیدا کرسکتا ہے، البتہ درجن بھر انتہا پسند تنظیموں پر مشتمل گروہ مذہبی تفرقہ ڈالنے پر بضد ہے، جو بی جے پی کی حمایت سے پارٹی کے لیے ووٹ بینک کی لاٹری جیسا ہے۔ کشمیری مسلمان اس وقت انتہائی برہم ہوگئے جب انتہا پسند ہندوؤں کے کہنے پر ماتا ویشنوی دیوی کے زیر کنٹرول ایک میڈیکل کالج کو ہی بند کیا گیا، جس میں 44 مسلم طلبہ نے داخلے کا امتحان پاس کرکے نشستیں حاصل کرلی تھیں اور مرکزی میڈیکل کونسل نے نہ صرف کالج کی رجسٹریشن منسوخ کردی بلکہ طلبہ کے کیریئر پر سوالیہ نشان لگا دیا۔ الگ ریاست کی مانگ اس فیصلے کے بعد مزید بڑھ گئی۔ حکمران جماعت نیشنل کانفرنس کے سربراہ اور وزیراعلیٰ سمیت دوسری سیاسی جماعتوں کے سربراہوں نے اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے تقریباً ایک ہی بیان دیا ہے کہ جموں والوں کے الگ وطن کے مطالبے کو مان لینا چاہیے (جو ویسے بھی بی جے پی کی حکومت کا ایجنڈا ہوسکتا ہے)، تاکہ وہ جو کشمیر پر جو رعایت دینے کا الزام عائد کرتے آئے ہیں اس سے کم از کم کشمیریوں کو چھٹکارا مل سکے۔ حالانکہ ایک سو سال کے ڈوگرہ دور اور اس کے بعد آزادی کے 70 برسوں میں جتنا استحصال کشمیریوں کا ہوا ہے اس سے تاریخ کے ہزاروں اوراق بھرے پڑے ہیں، مگر اس وقت چونکہ زمانہ انتہا پسند ہندوؤں کا ہے، لہذا انڈین مسلم سمیت کشمیری اپنی بے اختیاری قبول کرکے ہر سختی کو خاموشی سے سہہ رہے ہیں۔ نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ جموں و کشمیر انڈیا کے زیر انتظام کشمیر ریاست آرٹیکل 370 مودی حکومت ہندو انتہا پسند بی جے پی جموں کو الگ ریاست بنانے کا مطالبہ ایک بار پھر شدت اختیار کر گیا ہے اور حیران کن طور پر بعض کشمیری گروہ بھی اس کی حمایت کر رہے ہیں۔ نعیمہ احمد مہجور جمعہ, جنوری 16, 2026 - 07:00 Main image:

13 مئی 2012 کو ہندو انتہا پسند گروپ بجرنگ دل کے کارکن جموں کے قرب پرتشدد احتجاج کرتے ہوئے (اے ایف پی)

نقطۂ نظر type: news related nodes: جموں و کشمیر انڈیا کا حصہ ہے، نہ کبھی ہو گا: پاکستان ’تاریخ جموں و کشمیر و اقصہائے تبت‘: لکھنؤ سے بلتستان پہچنے کی داستان آرٹیکل 370 کی منسوخی کے خلاف لڑتے رہیں گے: التجا مفتی آرٹیکل 370 کے فیصلے کے بعد کشمیری وکیل پر غداری کے الزامات SEO Title: جموں میں ’ڈوگر دیش‘ کا مطالبہ اور کشمیریوں کی غیر متوقع حمایت copyright: show related homepage: Hide from Homepage