وزیر مملکت برائے داخلہ نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے انتشار پھیلایا تو 26 نومبر سے بھی زیادہ سخت کارروائی ہو گی۔ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے جمعرات کو انڈپینڈنٹ اردو کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں پی ٹی آئی کی 28 فروری کے لیے سٹریٹ موومنٹ کی کال پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’جلاؤ گھیراؤ کرنے یا انتشار پھیلانے کی کوشش کی تو 26 نومبر سے بھی زیادہ سخت ایکشن کا سامنا کرنا پڑے گا۔ کوئی یہ سوچے بھی نہ کہ وہ ایسا کر سکتے ہیں۔‘ پاکستان تحریک انصاف نے اگست 2023 سے پابند سلاسل بانی چئیرمین عمران خان کی ہدایت پر 28 فروری سے ملک میں سٹریٹ موومنٹ شروع کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ پی ٹی آئی کے ہزارو حامیوں نے عمران خان کی رہائی کے لیے نومبر 2024 میں اسلام آباد کی طرف مارچ کیا تھا اور اور ڈی چوک اور اس کے ارد گرد کے علاقوں میں پولیس سے جھڑپیں کیں۔ پی ٹی آئی نے الزام لگایا تھا کہ 26 نومبر 2024 کو پولیس کی فائرنگ سے اس کے کئی کارکن جان سے گئے جبکہ حکومت نے سرکاری اہلکاروں کی اموات کا دعویٰ کیا۔ وزیر مملکت برائے داخلہ نے کہا ’قانون کے مطابق آتے ہیں تو 100 مرتبہ احتجاج کریں، لیکن اگر انہوں نے نظام زندگی کو مفلوج کرنے، جلاؤ گھیراؤ کرنے یا انتشار پھیلانے کی کوشش کی تو 26 نومبر سے بھی زیادہ سخت ایکشن کا سامنا کرنا پڑے گا۔ کوئی یہ سوچے بھی نا کہ وہ ایسا کر سکتے ہیں۔‘ ان سے دریافت کیا گیا کہ پی ٹی آئی کے دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں رکاوٹ بننے کی صورت میں خیبر پختونخوا میں گورنر راج کا نفاذ ہو سکتا ہے؟ طلال چوہدری نے جواب میں کہا کہ ’گورنر راج ایک آئینی آپشن ضرور ہے، لیکن حکومت اس اختیار کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہتی۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ صوبہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی، صحت اور تعلیم جیسے سنگین مسائل موجود ہیں، مگر صوبائی قیادت اپنی ذمہ داریوں سے غفلت برت رہی ہے۔‘ پی ٹی آئی پر پابندی سے متعلق سوال پر وزیر مملکت نے کہا ’26 نومبر، 9 مئی، اس کے بعد آئی ایم ایف کو خط لکھنا، پھر مسلسل پاکستان کو غیر مستحکم کرنے والا بیانیہ، چاہے وہ انڈیا کا ہو یا اسرائیل کا، یا الفاظ کے فرق کے ساتھ بانی پی ٹی آئی کے ٹوئٹر (ایکس) اکاؤنٹ سے ہو، یہ سب انتہائی نامناسب اور دل دکھانے والی باتیں ہیں۔‘ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری 15 جنوری 2026 کو اسلام آباد میں انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کر رہے ہیں (انڈپینڈنٹ اردو) انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا ’ایک سیاسی جماعت کو یہ زیب نہیں دیتا۔ اس سب کے باوجود ہم تحمل سے کام لے رہے ہیں۔‘ طلال چوہدری نے کہا سابق وزیر اعظم مسلسل اپنے ٹوئٹر (ایکس) سے ’ایسے مؤقف کا اظہار کرتے ہیں جو الفاظ کے ہیر پھیر کے ساتھ پاکستان مخالف بیانیے جیسا ہوتا ہے، جو انڈیا اور اسرائیل سے ملتا جلتا ہے۔‘ کچھ روز قبل سوشل میڈیا پر عمران خان کی صحت سے متعلق سامنے آنے والی خبروں پر ردعمل دیتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ ’یہ صوبائی معاملہ ہے، جیل حکام ہی بہتر بتا سکتے ہیں، لیکن جتنی افواہیں اڑائی گئیں وہ سب غلط ثابت ہوئیں۔ جو بھی ان سے ملتا ہے وہ کہتا ہے کہ ان کی صحت پہلے سے بہتر ہے۔‘ وزیر مملکت برائے داخلہ نے کہا کہ ’جتنی سہولتیں انہیں دی گئی ہیں، پاکستان کی تاریخ میں شاید ہی کسی قیدی کو ملی ہوں۔ یہ سب بیانیہ ہمدردی حاصل کرنے کے لیے گھڑا جاتا ہے۔‘ عمران خان کی صحت اور روزمرہ سرگرمیوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ ’ان سے جو بھی ملتا ہے، وہ کہتا ہے کہ وہ ہٹے کٹے ہیں، ورزش کر رہے ہیں، اچھا کھانا کھا رہے ہیں۔ ڈاکٹر 24 گھنٹے موجود ہے، خدمت گار دن رات ساتھ ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’یہ واحد لوگ ہیں جو اپنے لیڈر کے لیے افواہیں پھیلاتے ہیں۔ کبھی کہتے ہیں وہ فوت ہو گئے، کبھی کہتے ہیں جیل میں ہیں ہی نہیں۔ ہر چند ماہ بعد یہ افواہیں اڑاتے ہیں اور پھر غلط ثابت ہوتی ہیں۔‘ اس سوال پر کہ کیا کیا کسی صوبے کے وزیر اعلی کو اعتماد میں لیے بغیر فوجی آپریشن شروع کیا جا سکتا ہے؟ کے جواب میں وزیر مملکت کا کہنا تھا کہ ’جو کارروائی جاری ہے وہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت ہے۔ نیشنل ایکشن پلان پہلی بار نواز شریف کے دور میں اور دوسری مرتبہ عمران خان کے دور میں بنا اور تمام صوبے اور سیاسی جماعتیں اس پر متفق تھیں۔ آج بھی اسی کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔‘ انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا ’آن بورڈ ہوتے ہوئے بھی ابہام پیدا کرنا، قومی بیانیے میں تفریق ڈالنا دانستہ کیا جاتا ہے، یہ محض سیاسی فائدے کے لیے ہے۔‘ وزیر مملکت برائے داخلہ نے کہا کہ ’جب وہ وزیر اعلی بنے تو وزیر اعظم نے انہیں مبارک باد دی، پھر اجلاس میں بلایا گیا۔ تمام وزرائے اعلی، سکیورٹی فورسز کے سربراہان اور چیف آف ڈیفنس فورسز موجود تھے۔ اگر کوئی غیر حاضر تھا تو وہ وزیر اعظم نہیں، بلکہ یہی تھے۔‘ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) طلال چوہدری نے عمران خان کے صاحبزادوں کو پاکستان کا ویزا دینے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا ’سوال یہ ہے کہ نادرا کارڈ کیوں رینیو نہیں کروایا جا رہا؟ نائیکوپ پاکستانی ہونے کی نشانی ہے۔ برطانیہ میں رہنے والے زیادہ تر پاکستانی نائیکوپ رکھتے ہیں۔ پھر یہ کیوں نہیں رکھتے؟ کیا پاکستان اتنا برا ہے کہ اس کی شناخت بھی نہیں رکھنا چاہتے، مگر اپنے والد کو یہاں وزیر اعظم بنوانا چاہتے ہیں؟‘ وزیر مملکت نے کہا ’اگر عمران خان کے صاحبزادے ویزوں کے لیے درخواست دیں گے تو انہیں ویزہ کیوں نہیں دیے جائیں گے؟‘ ان سے دریافت کیا گیا کہ ’عمران خان کی ملاقاتوں پر پابندی کب تک رہے گی؟ جس پر طلال چوہدری نے کہا کہ ’یہ جیل حکام کا اختیار ہے۔ ملاقات جیل مینوئل کے مطابق ہو گی۔ ملاقات ایسی نہیں ہو سکتی کہ اس کے ذریعے امن و امان خراب کیا جائے یا اداروں کے خلاف بیانیہ بنایا جائے۔‘ ایران پر ممکنہ حملے کی خبروں پر پاکستان کے مؤقف سے متعلق طلال نے کہا ’یہ وزارت خارجہ کا معاملہ ہے، لیکن ایران ہمارا برادر اسلامی ملک ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ خطے میں امن رہے اور مسائل بات چیت سے حل ہوں۔‘ ایران میں ممکنہ جنگ کی صورت میں پاکستان پر اثرات سے متعلق طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ ’اس کے اثرات ضرور ہوں گے، کیونکہ ہماری طویل سرحد اور پرانے تعلقات ہیں۔ ابھی تک ایران سے کم و بیش 70 افراد واپس آ چکے ہیں۔‘ امریکہ کی جانب سے پاکستان سمیت دیگر ممالک کی ویزوں کی پراسیسنگ روکنے پر طلال چوہدری نے کہا ’پاکستان اور امریکا کے تعلقات ہر سطح پر بہتر ہوئے ہیں، خاص طور پر ملٹری ٹو ملٹری۔ یہ فیصلہ صرف پاکستان کے لیے نہیں، کئی ممالک اس میں شامل ہیں، اس میں سٹوڈنٹ، بزنس یا وزیٹر ویزے شامل نہیں۔ یہ امیگریشن سے متعلق کچھ امور ہیں۔ پاکستان نے امیگریشن اور بارڈر سکیورٹی مزید بہتر کی ہے۔‘ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کے فرار کے بعد ذمہ داروں کو سزا سے متعلق سوال پر وزیر مملکت برائے داخلہ نے کہا ’ایسے واقعات کے بعد ادارے تحقیقات کرتے ہیں، سزا و جزا کا نظام موجود ہے۔ ایک آدھ واقعہ ہو جانا پورے نظام کو مشکوک نہیں بناتا۔‘ طلال چوہدری نے بتایا تقریباً 14 لاکھ افغان باشندے مختلف مراحل میں واپس افغانستان بھیجے جا چکے ہیں جبکہ 15 لاکھ اب بھی پاکستان میں موجود ہیں۔ پاکستان میں زیر تعلیم افغان طلبہ کو ان کے ملک واپس بھیجے جانے سے متعلق سوال پر طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ ’جن طلبہ کے میڈیکل یا آخری سمسٹر کے مسائل تھے، ان کے ویزے میں توسیع کی گئی ہے۔ ویزا ایکسٹینشن قانونی طریقے سے ممکن ہے، لیکن طلبہ کو بھی قانونی طور پر پاکستان میں رہنا چاہیے۔‘ پی ٹی آئی نو مئی احتجاجی مظاہرے عمران خان اڈیالہ جیل وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ ’قانون کے مطابق 100 مرتبہ احتجاج کریں۔ لیکن جلاؤ گھیراؤ یا انتشار کی کوشش کی تو 26 نومبر سے زیادہ سخت ایکشن ہو گا۔‘ قرۃ العین شیرازی جمعہ, جنوری 16, 2026 - 07:30 Main image:
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری 15 جنوری 2026 کو اسلام آباد میں انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کر رہے ہیں (انڈپینڈنٹ اردو)
سیاست jw id: YcFzGkIh type: video related nodes: اسلام آباد کے داخلی راستے 26 نومبر کو بند کیے جا سکتے ہیں: پولیس عمران خان کا 26 نومبر کو راولپنڈی پہنچنے کا اعلان 9 مئی کی فرانزک ویڈیو رپورٹ، کیا سہیل آفریدی کو خطرہ ہے؟ ریڈیو پاکستان پر 9 مئی حملے کا تحقیقاتی کمیشن بنانے کا فیصلہ SEO Title: انتشار پھیلایا تو 26 نومبر سے زیادہ سخت ایکشن ہوگا: وزیر داخلہ کی پی ٹی آئی کو تنبیہہ copyright: show related homepage: Show on Homepage