"حافظ آباد جیل میں ایک بندہ ملا جس کی ڈیوٹی رانا ثناء اللہ کے ساتھ تھی۔ اس نے بتایا کہ رانا ثناء اللہ نے بہت دلیری سے جیل کاٹی۔ ان کے ساتھ کسی ملازم کو بھی بات کرنے کی اجازت نہیں ہوتی تھی۔ ان کی چکی بھی الگ تھی اور وہاں قریب کوئی انسان نہیں پھٹکتا تھا۔ وہ بنیان پہن کر نیچے لیٹ جاتے تھے، گرمی بہت زیادہ تھی، ان کا پسینہ بہہ کر چکی سے باہر آ جاتا تھا"۔ انجینئر مرزا https://twitter.com/x/status/2011891384152740094