یوٹیوب ویڈیوز دیکھ کر ہونٹوں کی حرکت میں مہارت حاصل کرنے والا روبوٹ

روبوٹس نے اب انسانی انداز و اطوار کے سب سے پیچیدہ پہلوؤں میں سے ایک یعنی ہونٹوں کی حرکات پر مہارت حاصل کر لی ہے، جو ٹیکنالوجی میں بڑی پیش رفت ہے۔ چوں کہ روبرو گفتگو کے دوران ہماری توجہ کا تقریباً نصف حصہ ہونٹوں کی حرکت پر مرکوز ہوتا ہے، اس لیے یہ حیرت کی بات نہیں کہ ہم چہرے کے تاثرات میں معمولی سے معمولی تبدیلی کو بھی فوراً محسوس کر لیتے ہیں۔ اب تک روبوٹس انسانی ہونٹوں کی حرکات کی نقل کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہے تھے اور اکثر وہ تھوڑے غیر فطری لگتے تھے۔ اس طرح ’غیر فطری ہونے کے احساس‘ کا سبب بنتے تھے یعنی ایک عجیب سا احساس کہ آپ کسی ایسی چیز سے روبرو ہیں جو تقریباً انسان لگتی ہے مگر ٹھیک طرح سے نہیں۔ لیکن اب یہ کیفیت تبدیل ہونے والی ہے کیوں کہ ایسے روبوٹس جنہیں انسان سے الگ کرنا ممکن نہ ہو، قریب آ رہے ہیں۔ کولمبیا یونیورسٹی کے انجینیئرز نے بدھ کو اعلان کیا کہ انہوں نے پہلی بار ایک ایسا روبوٹ ایجاد کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے جو گفتگو اور گانے میں چہرے اور ہونٹوں کی حرکات سیکھ کر ان کی نقل کر سکتا ہے۔ روبوٹ نے گھنٹوں یوٹیوب ویڈیوز اور آئینے میں اپنا عکس دیکھ کر انسانی ہونٹوں کی جنبش کی نقل اتارنے کی مشق کر کے اپنے چہرے کے 26 موٹرز استعمال کرنے کی صلاحیت سیکھی۔ محققین نے ’سائنس روبوٹکس‘ نامی جریدے میں دکھایا کہ کس طرح ان کا روبوٹ متعدد زبانوں میں الفاظ کی ادائیگی کے قابل ہے اور یہاں تک کہ اپنی اے آئی سے تیار کردہ پہلی البم ’ہیلو ورلڈ‘ کا ایک گانا بھی گا سکتا ہے۔ کولمبیا کی کری ایٹیو مشینز لیب جہاں یہ کام کیا گیا، کے انجینیئرز ہڈ لپسن، جیمز اور سیلی سکاپا نے یقین دلایا کہ ’یہ جتنا زیادہ انسانوں کے ساتھ میل جول رکھے گا، اتنا ہی بہتر ہوتا جائے گا۔‘ محققین نے اعتراف کیا کہ ہونٹوں کی حرکت ابھی تکمیل سے بہت دور ہے۔ ہڈ لپسن نے کہا: ’ہمیں ’بی‘ جیسی سخت آوازوں اور ایسی آوازوں کے ساتھ خاصی مشکلات پیش آئیں جن میں ہونٹ گول کرنے پڑتے ہیں، جیسے کہ ’ڈبلیو‘ لیکن وقت اور مشق کے ساتھ ان صلاحیتوں میں بہتری آنے کا امکان ہے۔‘ ہڈ لپسن کا کہنا تھا کہ ’آج کل انسان نما روبوٹکس میں زیادہ تر توجہ ٹانگوں اور ہاتھوں کی حرکت پر مرکوز ہے، تاکہ چلنے اور پکڑنے جیسی سرگرمیاں انجام دی جا سکیں، لیکن انسانوں کے ساتھ میل جول پر مبنی کسی بھی روبوٹک استعمال کے لیے چہرے کے تاثرات اتنے ہی اہم ہیں۔‘ اپنی پی ایچ ڈی کے لیے اس تحقیق کی قیادت کرنے والے یوہانگ ہو نے وضاحت کی کہ ’جب لبوں کو ہم آہنگ کرنے کی صلاحیت کو ’چیٹ جی پی ٹی‘ یا ’جیمینائی‘ جیسی بات چیت کرنے والی اے آئی کے ساتھ ملایا جاتا ہے، تو یہ اثر روبوٹ کے انسان کے ساتھ بننے والے تعلق میں ایک بالکل نئی گہرائی پیدا کر دیتا ہے۔‘ ہڈ لپسن اوریوہانگ ہو نے پیش گوئی کی ہے کہ روبوٹس کے دوستانہ اور جیتے جاگتے چہرے تفریح، تعلیم، طب اور یہاں تک کہ بوڑھوں کی دیکھ بھال میں کام آئیں گے۔ بعض ماہرین معیشت نے پیش گوئی کی ہے کہ اگلی دہائی میں ایک ارب سے زیادہ انسان نما روبوٹ تیار کیے جائیں گے۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) ہڈ لپسن کا اندازہ ہے کہ ’ایسا کوئی مستقبل نہیں ہے جہاں ان تمام انسان نما روبوٹس کے چہرے نہ ہوں۔ اور جب بالآخر ان کے چہرے ہوں گے تو انہیں اپنی آنکھوں اور لبوں کو درست طریقے سے حرکت دینے کی ضرورت ہو گی، ورنہ وہ ہمیشہ کے لیے غیر فطری ہی رہیں گے۔‘ یہ کام روبوٹس کو انسانوں کے ساتھ زیادہ مؤثر طریقے سے جوڑنے کی ہڈ لپسن کی دہائیوں پر محیط جدوجہد کا حصہ ہے۔ ان کا اصرار ہے کہ یہ صلاحیتیں سخت اصولوں کے تحت پروگرامنگ کرنے کے بجائے سیکھنے کے عمل سے حاصل ہونی چاہییں۔ انہوں نے کہا کہ ’جب کوئی روبوٹ صرف انسانوں کو دیکھنے اور سننے سے مسکرانا یا بولنا سیکھتا ہے، تو کچھ جادوئی سا ہوتا ہے۔ میں ایک بیزار ماہر روبوٹکس ہوں، لیکن میں کسی ایسے روبوٹ کو دیکھ کر مسکرائے بغیر نہیں رہ سکتا جو خود بخود مجھے دیکھ کر مسکراتا ہے۔‘ بونے روبوٹس روبوٹکس سائنس و ٹیکنالوجی سائنسی تحقیق روبوٹ نے آئینے کے سامنے انسانی لبوں کی جنبش کی نقل اتارنے کی مشق میں اپنے چہرے کی 26 موٹرز کو استعمال کرنے کی صلاحیت حاصل کی۔ شاہینہ الدین ہفتہ, جنوری 17, 2026 - 13:30 Main image:

روبوٹ نے گھنٹوں یوٹیوب ویڈیوز اور آئینے میں اپنا عکس دیکھ کر انسانی ہونٹوں کی جنبش کی نقل اتارنے کی مشق کر کے اپنے چہرے کے 26 موٹرز استعمال کرنے کی صلاحیت سیکھی (سکرین گریب/ کولمبیا انجینیئرنگ یوٹیوب چینل)

 

سائنس type: news related nodes: چین میں دنیا کے پہلے ہیومنائیڈ روبوٹ گیمز ایمازون کا نیا روبوٹ جو پیکنگ کے دوران اشیا کو محسوس کر سکتا ہے چین میں پہلی بار روبوٹس اور انسانوں کی میراتھن ریس چیونٹیوں کے جبڑے کی نقل روبوٹس کی گرفت بہتر بنا سکتی ہے: تحقیق SEO Title: یوٹیوب ویڈیوز دیکھ کر ہونٹوں کی حرکت میں مہارت حاصل کرنے والا روبوٹ copyright: IndependentEnglish origin url: https://www.independent.co.uk/news/science/robot-lip-sync-watching-hours-youtube-b2901969.html show related homepage: Hide from Homepage