ایران کی 75 سالہ پاپ سٹار فائقہ آتشین جو ’گوگوش‘ کے نام سے جانی جاتی ہیں، 1970 کی دہائی کے دوران شہرت کی بلندیوں پر پہنچیں۔ 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد اقتدار سنبھالنے والی اسلامی حکومت نے انہیں خاموش کروا دیا تاہم 2000 میں بالآخر انہیں جلاوطنی کی زندگی گزارنے کے لیے ایران چھوڑنے کی اجازت دے دی گئی۔ ایرانیوں کے لیے، خاص طور پر بیرون ملک مقیم ایرانیوں کے لیے، گوگوش پہلوی دور کے ایران میں جدیدیت اور کھلے ذہن کے دور کی علامت ہیں۔ یہ 1950 کی دہائی کے وسط سے لے کر 1979 تک کا وہ دور تھا جب ایران کی مقبول موسیقی، سینیما، ٹیلی ویژن اور فیشن میں جدیدیت کو اپنایا گیا اور سماجی اصولوں پر سوال اٹھائے گئے۔ جیسے جیسے احتجاج کے سلسلے نے ایران کو ہلا رکھا ہے اور ملک کے مذہبی رہنماؤں کو اپنی اقتدار پر گرفت کمزور ہوتی محسوس ہو رہی ہے، ایران کی آواز گوگوش نے اپنی آواز بلند نہیں کی۔ اس کی بجائے انہیں اپنا الوداعی دورہ روکنا پڑ گیا۔ گوگوش نے دسمبر 2025 میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ ’ہر کوئی لاس اینجلس میں میرے آخری کنسرٹ کا انتظار کر رہا ہے، لیکن میں اس وقت تک نہیں گاؤں گی جب تک میرا ملک آزاد نہیں ہو جاتا۔‘ گوگوش کا گانے سے انکار ہچکچاہٹ کی علامت نہیں بلکہ ایک شعوری سیاسی اشارہ ہے۔ ایک ایسا اشارہ جو ایران کی ثقافتی تاریخ میں ان کے منفرد مقام سے طاقت حاصل کرتا ہے۔ ملک کے اندر اور باہر ایرانیوں کے لیے وہ ایک کینوس کی طرح رہی ہیں جس پر انہوں نے انقلاب سے پہلے کے ایران کی یادیں، ٹوٹ پھوٹ اور نقصان کے غم اور مزاحمت کے تصورات کو اجاگر کیا ہے۔ سٹار کا جنم 1950 میں فائقہ آتشین کے نام سے پیدا ہونے والی گوگوش کی پرورش تہران میں مسلمان آذری والدین نے کی، جو سوویت آذربائیجان سے بھاگ کر آئے تھے۔ اگرچہ سول حکام نے انہیں فارسی عربی نام فائقہ کے تحت رجسٹر کیا تھا، لیکن ان کا سٹیج کا نام ’گوگوش‘ جو دراصل ایک مردانہ آرمینیائی نام ہے، برقرار رہا۔ وہ سٹیج اور سکرین پر پلی بڑھیں۔ ان کے والد نے، جو ایک بازی گر تھے، انہیں اپنے ایکٹ میں شامل کر لیا۔ تب ان کی عمر صرف تین سال تھی جب کہ چار سال کی عمر تک وہ خاندان کی کفالت کرنے والی بنیادی فرد بن چکی تھیں۔ جیسے جیسے وہ بڑی ہوئیں، گوگوش موسیقی، سینیما، فیشن اور رقص کے میدان میں چھا گئیں اور مغربی اثرات اور ریاست کے جدیدیت پسند عزائم سے ہم آہنگ ثقافتی منظرنامے میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ 1970 کی دہائی کے وسط تک وہ ایران کی انقلاب سے پہلے کی مقبول ثقافت کی سب سے زیادہ پہچانی جانے والی شخصیت بن چکی تھیں۔ ایرانی علوم کے سکالر عباس میلانی کے مطابق گوگوش ’معمولی خوشیوں، بے پروا آزادی، سماجی تجربات کے پرجوش دور، روایت اور اس کے ممنوعات کو رد کرنے کی سرکش خواہش اور جوانی کے جوش و خروش کی مجسم تصویر تھیں۔‘ سکرین پر وہ جدید ترین سٹائل اور تراش خراش والے لباس پہنتی تھیں۔ نوجوان ایرانیوں نے ان کے بالوں کے سٹائل اور لباس کی نقالی کی۔ وہ ایک عالمی سٹار کی طرح رقص کرتی تھیں، پوز دیتی تھیں اور گاتی تھیں۔ فارسی کے ساتھ ساتھ انہوں نے انگریزی، فرانسیسی، اطالوی، ہسپانوی، عربی اور ترکی زبان میں ریکارڈنگ کرائی اور اس عمل میں انہوں نے اس تصور کو نئی شکل دی کہ ایران میں ایک خاتون پاپ سٹار کیسی نظر آ سکتی ہے۔ Favorite album art from Iranian singer Googoosh pic.twitter.com/ciRWHSIz2D — chillin’ in the name of (@forcesfromabove) May 18, 2024 سٹیج سے دوری پہلوی نظام کے کچھ اسلامی ناقدین کے لیے گوگوش ’مغرب زدگی‘ کی علامت تھیں، جسے مغرب کا زہر بھی کہا جاتا ہے یعنی یہ عقیدہ کہ مغرب کو اپنا کر ایرانی اپنے لوگوں کی روایات سے غداری کر رہے ہیں اور اخلاقی زوال کا سبب بن رہے ہیں۔ 1979 کے اسلامی انقلاب سے پہلے کے سال میں گوگوش لاس اینجلس کے ایک کلب سے وابستہ تھیں، تاہم جب بہت سے فن کار انقلاب کے بعد اپنے کیریئر کو دوبارہ بنانے کے لیے ایران سے بھاگ گئے، گوگوش واپس آئیں، صرف اس لیے کہ انہیں ان کے ماضی کی فوری سزا دی جائے۔ حکام نے 1979 میں ان پر ’اخلاقی بدعنوانی‘ کا الزام لگایا۔ چند سال بعد نئی حکومت نے انہیں مختصر مدت کے لیے قید کر دیا، ان کا پاسپورٹ ضبط کر لیا اور انہیں عوامی طور پر پرفارم کرنے سے روک دیا۔ بس اسی طرح قوم کی ثقافتی زندگی کی ایک مرکزی شخصیت کو روشنیوں سے ہٹا دیا گیا۔ انہیں دوبارہ پرفارم کرنے میں 21 سال لگ گئے۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) گوگوش اکیلی نہیں تھیں۔ ملک بھر کے موسیقاروں اور فن کاروں کو اسی طرح کی قسمت کا سامنا کرنا پڑا: آیت اللہ روح اللہ خمینی، جو 1979 سے 1989 تک ایران کے سپریم لیڈر تھے، موسیقی کو ایک برائی کے طور پر دیکھتے تھے۔ حکومت نے خواتین کے عوامی مقامات پر اکیلے پرفارم کرنے پر بھی قطعی پابندی لگا دی تھی۔ دسمبر 2025 میں انہوں نے اپنی یادداشتوں پر مبنی کتاب ’گوگوش: اے سن فل وائس‘ شائع کی، جس میں انہوں نے اپنی زندگی کے اس دور کے بارے میں کھل کر بات کی اور ایران واپس آنے کے اپنے فیصلے پر بھی۔ اگرچہ وہ 1970 کی دہائی کے آخر میں اپنی شہرت کی بلندی پر تھیں، لیکن ان کا الزام ہے کہ ان کے مینیجرز نے ان کی کمائی میں خورد برد کی تھی۔ جیسے جیسے انقلابی بے چینی میں شدت آئی اور پہلوی حکومت نے قدامت پسندوں کو خوش کرنے کی کوشش میں مارشل لا نافذ کیا اور کیبرے اور تھیٹر بند کر دیے، ان کی آمدنی کے ذرائع ختم ہو گئے۔ اس صورت حال نے انہیں لاس اینجلس جانے کی ترغیب دی، لیکن بڑھتے ہوئے قرضوں اور نشہ آور اشیا کے استعمال کے مسائل نے ان کے گھر واپس آنے کے فیصلے پر اثر ڈالا۔ وہ لکھتی ہیں کہ انقلاب کی دشمنی صرف مقبول ثقافت کے خلاف نہیں تھی بلکہ یہ ذات کی خوشی کے خلاف تھی، خاص طور پر جب اسے خواتین اپنائیں، منائیں یا اس کا اظہار کریں۔ اسلامی ایران کے لیے موسیقی فن کی کوئی قسم یا پیشہ نہیں تھی بلکہ یہ ایک اشتعال انگیزی اور اخلاقی کراہت تھی۔ گوگوش، جو باعمل مسلمان تھیں اور نماز پڑھتی، روزہ رکھتی اور زیارت پر جاتی تھیں، اس صدمے کو بیان کرتی ہیں جو انہوں نے محسوس کیا کہ اسلامی انقلاب کے بعد تقوے کے دعوؤں کے ساتھ اتنا ظلم کیسے موجود ہو سکتا ہے؟ انقلاب سے پہلے کے ایران میں ذاتی عقیدے اور عوامی، سیکولر پرفارمنس کو تضاد کے طور پر نہیں دیکھا جاتا تھا۔ 1979 میں سب بدل گیا ایرانی انقلاب بڑے پیمانے پر ثقافتی انخلا کا سبب بنا۔ لاکھوں ایرانی ملک سے بھاگ گئے، جن میں سے بہت سے کیلی فورنیا میں آباد ہوئے، جہاں ہائدہ، مہستی اور حمیرا جیسی دیگر مقبول گلوکاروں نے جلاوطنی میں اپنے کیریئر دوبارہ بنائے۔ لاس اینجلس میں ایک متبادل ایرانی تفریحی صنعت ابھری، جس نے ایرانی مقبول ثقافت کو ایران سے باہر زندہ رہنے کا موقع دیا۔ ’تہرانجلس‘ جیسا کہ لاس اینجلس کہا جانے لگا، میں سٹوڈیوز نے فارسی زبان کی موسیقی اور ٹیلی ویژن پروگرام ریکارڈ کیے، جب کہ کاروباری افراد نے کیبرے سٹائل کے پرفارمنس کے مقامات کھولے۔ تہرانجلس میں تعمیر کیا گیا تفریحی ڈھانچہ بعد میں یورپ، کینیڈا اور خلیج فارس تک پھیل گیا۔ زیادہ تر پروگرامنگ یادوں، تجسس اور پرانی یادوں کے موضوعات سے بھری ہوئی تھی۔ گوگوش کی سٹیج سے دو دہائیوں کی دوری نے ان کے سحر میں مزید اضافہ کر دیا۔ جب انہیں بالآخر 2000 میں ایران چھوڑنے کی اجازت ملی، تو انہوں نے ٹورنٹو کے ایئر کینیڈا سینٹر میں اپنے پہلے کنسرٹ میں پرفارم کیا جہاں تمام ٹکٹیں فروخت ہو چکی تھیں۔ تب سے انہوں نے نو البمز ریکارڈ کروائے ہیں۔ اس کے باوجود ان کے زیادہ تر مداحوں نے ان نئی پیشکشوں میں محدود دلچسپی ظاہر کی ہے۔ جب وہ انہیں گاتی ہیں، تو اکثر مجمع سے ’قدیمی، قدیمی‘ کے نعرے بلند ہوتے ہیں۔ بیرون ملک مقیم بہت سے لوگوں کی طرح، وہ گوگوش کی طرف حال سے جڑنے کے لیے نہیں بلکہ خود کو ماضی کے دور میں لے جانے کے لیے رجوع کرتے ہیں، مؤثر طریقے سے انہیں، اور ایران کی اپنی یادوں کو، ماضی میں منجمد کرتے ہوئے۔ خاموشی کی واپسی کبھی ایران میں خاموش کروائی گئی گوگوش اب یکجہتی کے طور پر اپنی مرضی سے اپنی آواز کو روک رہی ہیں۔ اگر گوگوش طویل عرصے سے اجتماعی یادوں کے لیے ایک ذریعے کے طور پر کام کرتی رہی ہیں، تو وہ اب ایک یاد دہانی کے طور پر کھڑی ہیں کہ صرف یادیں کافی نہیں ہیں کہ پرانی یادیں سیاسی احتساب کا متبادل نہیں ہو سکتیں اور یہ کہ جلاوطنی میں ڈھلنے والی آوازیں وطن میں ادھوری جدوجہد سے جڑی رہتی ہیں۔ اس سے قبل یہ تحریر دا کنورسیشن میں شائع ہو چکی ہے۔ گلوکاری انقلاب ایران ایران پاپ موسیقی لاس اینجلس پاپ سٹار گوگوش کا کہنا ہے کہ ’میں اس وقت تک نہیں گاؤں گی جب تک میرا ملک آزاد نہیں ہو جاتا۔‘ انڈپینڈنٹ اردو اتوار, جنوری 18, 2026 - 09:30 Main image:
ایرانی پاپ سٹار گوگوش 19 اگست 2000 کو کیلی فورنیا میں پرفارم کر رہی ہیں (اے ایف پی)
بلاگ type: news related nodes: پاکستانی پاپ میوزک: نازیہ زوہیب سے اے آئی تک ویسٹ لائف سے متاثر پاکستانی نوجوان انگریزی سنگر کیسے بنے؟ کیا ایرانی انقلاب امریکہ کی مرضی سے آیا تھا؟ بگٹی برادرز: بلوچ لوک موسیقی کا نیا چہرہ SEO Title: ’ایران کی آواز‘ گوگوش کی خاموشی بذات خود ایک پیغام copyright: show related homepage: Hide from Homepage