ایرانی حکام نے اتوار کو انکشاف کیا ہے کہ ایران میں حالیہ احتجاجی مظاہروں کے دوران اموات کی تعداد پانچ ہزار تک پہنچ چکی ہے جن میں تقریباً تقریباً پانچ سو سکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔ سینیئر ایرانی اہلکار نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ’دہشت گردوں اور مسلح فسادیوں‘ نے معصوم ایرانیوں کو قتل کیا۔ اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر روئٹرز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ سب سے شدید جھڑپیں اور سب سے زیادہ اموات ایران کے شمال مغربی کرد علاقوں میں ہوئیں جو پہلے ہی بدامنی اور تشدد کا شکار رہا ہے جہاں علیحدگی پسند بھی سرگرم ہیں۔ انہوں نے اسرائیل اور بیرون ملک مسلح گروہ پر مظاہرین کی مدد اور پشت پناہی کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ’اموات کی حتمی تعداد میں اب نمایاں اضافہ متوقع نہیں۔‘ اسلامی ملیشیا کے ارکان 14 جنوری 2026 کو تہران میں برطانوی سفارت خانے کے سامنے احتجاج کے دوران امریکی اور اسرائیلی پرچم جلا رہے ہیں (اے ایف پی) ایرانی حکام اکثر احتجاج کو ’غیر ملکی سازش‘ کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ اس بار بھی اہلکاروں نے زور دیا کہ ’ایران کے دشمن‘ کشیدگی کو ہوا دے رہے ہیں جبکہ اسرائیل رواں سال جون میں ایران پر حملے بھی کر چکا ہے۔ ادھر امریکی میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم ’ہرانا‘ کے مطابق حالیہ واقعات میں اموات کی مصدقہ تعداد 3,308 ہے جب کہ 4,382 کیسز کا اب بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ گروپ نے 24,000 سے زیادہ گرفتاریوں کا دعویٰ بھی کیا ہے۔ ناروے میں قائم ایرانی کرد گروپ ہنگاو کا کہنا ہے کہ بدترین جھڑپیں کرد اکثریتی خطے میں ہوئیں۔ ٹرمپ بدامنی کے ذمہ دار ہیں: خامنہ ای ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مظاہروں کے دوران ہونے والی اموات کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) اپنے ایک حالیہ بیان میں انہوں نے کہا: ’امریکی صدر نے ایرانی قوم کو نقصان پہنچایا، اموات کی ذمہ داری انہی پر ہے۔‘ مظاہرے 28 دسمبر کو مہنگائی اور معاشی مشکلات کے خلاف شروع ہوئے تھے اور رفتہ رفتہ ایران میں مذہبی حکمرانی کے خاتمے کے مطالبات میں تبدیل ہو گئے۔ ٹرمپ نے متعدد مواقع پر ایران کے خلاف ’سخت کارروائی‘ کی دھمکیاں دیں مگر ایک موقع پر تہران کی جانب سے مبینہ پھانسیوں کا منصوبہ ترک کرنے پر ’شکریہ‘ بھی ادا کیا۔ دوسری جانب ایران نے ٹرمپ کے اس بیان کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ’ایسی کوئی منصوبہ بندی نہیں تھی۔‘ ایران احتجاج تشدد مظاہرین اموات آیت اللہ خامنہ ای صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایرانی حکام کے مطابق سب سے شدید جھڑپیں اور سب سے زیادہ اموات ایران کے شمال مغربی کرد علاقوں میں ہوئیں جو پہلے ہی بدامنی اور تشدد کا شکار رہا ہے جہاں علیحدگی پسند بھی سرگرم ہیں۔ روئٹرز اتوار, جنوری 18, 2026 - 15:45 Main image:
بغداد میں ایرانی سفارت خانے کے باہر احتجاج کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ اور بن یامین نتن یاہو کی کراس کی ہوئی تصویریں اٹھا رکھی ہیں۔ یہ احتجاج اسرائیل اور ایران کے خلاف تازہ امریکی دھمکیوں کی مخالفت اور ایرانی حکومت کی حمایت میں کیا گیا (اے ایف پی)
دنیا type: news related nodes: 800 سے زائد پھانسیاں منسوخ کرنے پر ایران کا شکریہ: ٹرمپ اسحاق ڈار کا ایرانی وزیر خارجہ کو فون، امن کے لیے امید کا اظہار ایران کے ساتھ سرحدی اضلاع میں سکیورٹی بڑھا دی: پاکستانی حکام ’تمام آپشنز موجود‘: امریکہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں ایران کو دھمکی SEO Title: احتجاج میں اموات کی تعداد 5 ہزار سے تجاوز کر گئیں: ایرانی اہلکار copyright: Translator name: عبدالقیوم show related homepage: Hide from Homepage