آسکر ایوارڈ یافتہ انڈین موسیقار اے آر رحمان نے انکشاف کیا ہے کہ گذشتہ آٹھ برسوں میں بالی وڈ میں ہونے والی ’طاقت کی تبدیلی‘ اور ممکنہ طور پر فرقہ وارانہ عوامل نے انڈین فلم انڈسٹری میں ان کے کام میں نمایاں کمی میں کردار ادا کیا ہے۔ ان کے اس بیان نے انڈین انٹرٹینمنٹ انڈسٹری میں مذہبی امتیاز، تخلیقی آزادی اور پولرائزیشن پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ بی بی سی ایشین نیٹ ورک کو حال ہی میں دیے گئے انٹرویو میں اے آر رحمان نے کہا کہ 1990 کی دہائی میں جب وہ بالی وڈ آئے تو انہیں کسی قسم کا امتیاز محسوس نہیں ہوا تاہم حالیہ برسوں میں صنعت کا ماحول واضح طور پر بدل چکا ہے۔ اے آر رحمان کے مطابق ’غیر تخلیقی لوگ اب فیصلے کر رہے ہیں اور فنکارانہ معاملات پر تخلیقی ماہرین کے بجائے دوسری قوتوں کا اثر بڑھ گیا ہے۔‘ انہوں نے مزید اشارہ دیا کہ اب بالی وڈ میں پیشہ ورانہ امور پر فرقہ وارانہ عوامل خاموشی سے اثرانداز ہو سکتے ہیں۔ اے آر رحمان نے کہا کہ اگرچہ انہیں کبھی براہ راست امتیازی سلوک کا سامنا نہیں ہوا لیکن اکثر انہیں باخبر ذرائع کے ذریعے معلوم ہوتا رہا کہ ان سے وابستہ پروجیکٹس کسی اور کو دے دیے گئے یا انہیں ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ ان کے بقول: ’یہ شاید فرقہ وارانہ معاملہ بھی ہو سکتا ہے، لیکن میرے سامنے کبھی نہیں ہوا۔‘ اے آر رحمان کے مطابق بعض اوقات میوزک کمپنیاں ایک ہی فلم میں متعدد کمپوزرز لانے کا فیصلہ کر لیتیں، جس سے ان کا حصہ کم ہوتا جاتا۔ بالی وڈ کی شبیہ پر سوالات اے آر رحمان کے اس بیان نے بالی وڈ کے اس دیرینہ تاثر کو چیلنج کر دیا ہے کہ یہ ایک کثیر الثقافتی اور میرٹ پر مبنی انڈسٹری ہے۔ ناقدین کے مطابق ان کے مشاہدات یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ آیا انڈیا کی فلمی صنعت ملک میں بڑھتی ہوئی مذہبی سیاست اور نظریاتی تقسیم کی عکاسی کر رہی ہے۔ 59 سالہ کمپوزر کہتے ہیں کہ ان کی ابتدائی کامیابی اس دور میں آئی جب تخلیقی معیار سب سے اہم تھا۔ ان کی فلمیں روجا، بمبئی، دل سے اور بعد میں تال نے بالی وڈ موسیقی کا رخ بدل دیا تھا۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) انہوں نے واضح کیا کہ وہ کام کے پیچھے نہیں بھاگتے اور سمجھتے ہیں کہ مواقع کا دارومدار تخلیقی میرٹ پر ہونا چاہیے، نہ کہ سیاسی یا فرقہ وارانہ وابستگی پر۔ ان کے مطابق پروجیکٹس میں کمی نے انہیں صنعت سے کچھ فاصلے پر جانے کا موقع دیا، جسے وہ اب پہلے جیسی تخلیقی جگہ تصور نہیں کرتے۔ اسی انٹرویو میں اے آر رحمان نے اپنی 2025 کی فلم چھاوا کے حوالے سے ہونے والی تنقید پر بھی بات کی، جس پر الزام تھا کہ فلم نے مسلمانوں کے خلاف معاشرتی تقسیم کو بڑھانے کی کوشش کی۔ اے آر رحمان نے تسلیم کیا کہ فلم نے اس تقسیم کو ’کیش‘ کیا۔ یہ بیان بالی وڈ کے کسی بڑے نام کی طرف سے ایسا اعتراف ہے جو کم ہی دیکھنے میں آیا ہے۔ اے آر رحمان کے ان بیانات نے انڈیا کی انٹرٹینمنٹ انڈسٹری میں ہلچل مچا دی ہے جہاں طاقت، تعصب اور اختلافی آوازوں کے سکڑتے ہوئے دائرے کے بارے میں دیرینہ سوالات ایک بار پھر اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ بالی وڈ اے آر رحمان موسیقی انڈیا مذہبی تعصب بی بی سی ایشین نیٹ ورک کو انٹرویو میں اے آر رحمان نے کہا کہ اب بالی وڈ میں پیشہ ورانہ امور پر فرقہ وارانہ عوامل خاموشی سے اثرانداز ہو سکتے ہیں۔ انڈپینڈنٹ اردو اتوار, جنوری 18, 2026 - 17:00 Main image:
اے آر رحمان 16 اگست 2024 کو میلبورن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے (اے ایف پی)
موسیقی type: news related nodes: اے آر رحمان، جنہوں نے فلمی قوالی میں دوبارہ جان ڈال دی ’چھیاں چھیاں‘: جب سکھویندر سنگھ کی دھن اے آر رحمان کو بھا گئی ’دل سے:‘ جب اے آر رحمان نے پہلی بار لتا اور گلزار کے ساتھ کام کیا اے آر رحمٰن کے مقبول گانے پر بنگلہ دیش میں شدید ردعمل SEO Title: اے آر رحمان کے بالی وڈ میں مذہبی تعصب اور تقسیم پر بیان پر نئی بحث copyright: Translator name: عبدالقیوم show related homepage: Hide from Homepage