’بی کوئین آف کشمیر‘ سری نگر میں شہد کی مکھیوں کا کاروبار کرنے والی لڑکی

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی وادیوں میں گونجتی ہوئی شہد کی مکھیوں کی بھنبھناہٹ نے ایک نوجوان لڑکی کو نہ صرف ایک کامیاب کاروباری شخصیت بنایا بلکہ خواتین کی خود مختاری اور دیہی ترقی کی ایک زندہ مثال بھی بنا دیا ہے۔ یہ کہانی ہے ثانیہ زہرہ کی، جو آج ’بی کوئین آف کشمیر‘ کے نام سے جانی جاتی ہے۔ ثانیہ زہرہ کی عمر محض 20 سال ہے اور انہوں نے کم عمر میں ہی اپنے عزم، حوصلے اور وژن کے ذریعے اس بات کا ثبوت پیش کیا ہے کہ خواب اگر سچے ہوں اور ارادہ مضبوط ہو تو عمر کی کمی، ماحول کی رکاوٹیں اور معاشرتی تنگ نظری کوئی معنی نہیں رکھتی۔ ثانیہ زہرہ کا تعلق کشمیر کے علاقے بالہامہ سے ہے، جو دارالحکومت سرینگر کے مضافات میں واقع ہے۔ یہاں کے سرسبز باغات، پہاڑ اور ٹھنڈی ہوائیں فطرت کی خوبصورتی کو بیان کرتی ہیں۔ اس حسین فضا میں پلنے بڑھنے والی ثانیہ کا دل بھی ابتدا ہی سے فطرت اور اس کی نعمتوں سے جُڑا ہوا تھا۔ وہ ایک ایسے گھرانے میں پیدا ہوئیں جہاں شہد کی مکھیوں کی گونج، چھتّوں کی قطاریں اور شہد کی خوشبو روزمرہ زندگی کا حصہ تھی۔ ان کے والد پہلے سے شہد کی مکھیوں کی پرورش اور شہد کے کاروبار سے وابستہ تھے، اسی لیے ثانیہ نے بچپن سے ہی شہد کی مکھیوں کو قریب سے دیکھا، سمجھا اور دھیرے دھیرے ان سے مانوس ہوتی چلی گئیں۔ وہ کبھی والد کے ساتھ مکھیوں کو خوراک دیتے ہوئے نظر آتیں، تو کبھی شہد نکالتے وقت خاموشی سے مشاہدہ کرتی رہتیں۔ ثانیہ نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شروع میں انہیں مکھیوں سے ڈر بھی لگتا تھا، ڈنک کا خوف بھی تھا، لیکن آہستہ آہستہ یہی خوف شوق اور پھر جذبۂ خدمت میں بدل گیا۔ یہاں تک کہ وہ ان چھوٹی چھوٹی مکھیوں کو اپنا ساتھی سمجھنے لگی۔ ثانیہ زہرہ شہر کی مکھیوں کے چھتوں پر کام کر رہی ہیں (انڈپینڈنٹ اردو) یہی ابتدا آگے چل کر ان کی شخصیت اور مستقبل کی کامیابیوں کی مضبوط بنیاد بنی۔ کشمیر جیسے روایتی اور قدامت پسند سماج میں، خاص طور پر دیہی علاقوں میں، زیادہ تر خواتین کو گھر تک محدود سمجھا جاتا ہے، ایسے ماحول میں ثانیہ زہرہ کا شہد کی مکھیوں کی پرورش جیسے تکنیکی اور جسمانی محنت والے پیشے کو اختیار کرنا کسی انقلاب سے کم نہیں۔ وہ کہتی ہے کہ انہیں محض 20 سال کی عمر میں ’بی کوئین آف کشمیر‘ کا خطاب ملا، جو اپنے آپ میں ایک سنگِ میل ہے۔ یہ خطاب برسوں کی محنت، ہمت اور کامیابی کا نتیجہ ہے۔ جب لوگ انہیں اس نام سے پکارنے لگے تو انہیں اُس وقت بے حد خوشی اور فخر محسوس ہوا، کیونکہ یہ لقب صرف ان کی ذات کے لیے نہیں بلکہ ان کے خاندان اور پورے علاقے کے لیے باعثِ عزت بن گیا۔ اس لقب نے مجھ پر ایک خاموش اخلاقی ذمہ داری بھی ڈال دی ہے کہ میں نہ صرف اپنا کام ایمانداری اور لگن سے جاری رکھوں بلکہ ان نوجوانوں کی بھی رہنمائی کروں جو اُن کے نقشِ قدم پر چلنا چاہتے ہیں۔ ثانیہ کے بقول یہ صرف ایک پیشہ ورانہ شناخت نہیں بلکہ سماجی بندھنوں کو توڑنے، ذہنی رکاوٹوں کو چیلنج کرنے اور خواتین کی صلاحیتوں پر یقین کو عملی صورت دینا ہے۔ ثانیہ نے 2022 میں باقاعدہ طور پر شہد کی مکھیوں کی پرورش کو اپنا ذاتی و پیشہ ورانہ سفر بنانے کا فیصلہ کیا۔ ابتدا میں انہوں نے تقریباً 35 چھتّوں سے کام شروع کیا۔ اس کے لیے نہ صرف گھر کی پونجی بلکہ سرکاری سکیم سے ملنے والی سبسڈی سے بھی فائدہ اٹھایا۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) وہ کہتی ہیں کہ انہوں نے جموں و کشمیر کی ہولسٹک ایگریکلچر ڈیولپمنٹ پروگرام یعنی ایچ اے ڈی پی سکیم کے تحت درخواست دی، جس سے انہیں مزید چھتّے خریدنے اور کاروبار بڑھانے میں مدد ملی۔ چند ہی سالوں میں وہ تقریباً 600 سے زائد شہد کی مکھیوں کی کالونیز کی مالک بن گئیں، جو کشمیر، پنجاب اور راجستھان جیسے علاقوں میں موسمی پھولوں کے مطابق منتقل کی جاتی ہیں۔ انہیں نہ صرف مکھیوں کی نازک دیکھ بھال سیکھنی پڑی بلکہ منڈی، گاہک، برانڈنگ اور مارکیٹنگ جیسے پیچیدہ مراحل بھی سمجھنے پڑے۔ چند برس تک انہیں خاطر خواہ منافع نہیں ہوا، مگر انہوں نے ہمت نہ ہاری اور بہتر حکمتِ عملی اپناتے ہوئے سیدھا صارف سے رابطہ بنانے کا فیصلہ کیا۔ مسلسل محنت، بڑھتی ہوئی کالونیز اور شہد کی اعلیٰ کوالٹی نے جلد ہی ثانیہ زہرہ کو عوام اور میڈیا کی توجہ کا مرکز بنا دیا۔ مختلف قومی اور بین الاقوامی چینلز نے ان پر رپورٹیں تیار کیں، جن میں انہیں ’بی کوئین آف کشمیر‘ یعنی کشمیر کی شہد کی ملکہ کے لقب سے پکارا گیا۔ وہ اپنی وادی میں پہلی نمایاں نوجوان خاتون شہد پرورش کار کے طور پر سامنے آئیں، جس نے اس روایتی طور پر مردوں سے منسوب پیشے میں خواتین کی راہ ہموار کی۔ ان کی کہانیاں ٹی وی پروگراموں، آن لائن پلیٹ فارمز اور سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں، جہاں لوگ انہیں محض ایک کاروباری نہیں بلکہ ایک رول ماڈل کے طور پر دیکھنے لگے۔ (انڈپینڈنٹ اردو) ثانیہ زہرہ کا سفر ابھی رُکا نہیں بلکہ مسلسل آگے بڑھ رہا ہے۔ وہ اپنی برانڈ کو نہ صرف بھارت کے مختلف شہروں بلکہ خلیجی ممالک، جنوبی افریقہ اور دیگر ممالک تک پہنچا رہی ہیں، جہاں سے انہیں آرڈرز موصول ہو رہے ہیں۔ وہ چاہتی ہیں کہ کشمیر کے شہد کو عالمی سطح پر ایک معتبر نام ملے، جس کے ساتھ خالصت، فطری ذائقہ اور اخلاقی کاروباری معیار وابستہ ہوں۔ ساتھ ہی ان کا ارادہ ہے کہ آنے والے برسوں میں ایک باقاعدہ ٹریننگ سینٹر قائم کریں، جہاں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں شہد کی مکھیوں کی پرورش، کاروبار، برانڈنگ اور ماحولیاتی تحفظ جیسے موضوعات پر تربیت حاصل کر سکیں۔ وہ سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کے ساتھ مل کر ایسی سکیمیں متعارف کرانا چاہتی ہیں جو دیہی نوجوانوں کو کم سرمائے میں زیادہ منافع دینے والے منصوبوں کی طرف راغب کریں۔ شہد انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کاروبار ثانیہ نے 2022 میں باقاعدہ طور پر شہد کی مکھیوں کی پرورش کو اپنا ذاتی و پیشہ ورانہ سفر بنانے کا فیصلہ کیا۔ ابتدا میں انہوں نے تقریباً 35 چھتّوں سے کام شروع کیا۔ انشا نبی سوموار, جنوری 19, 2026 - 07:00 Main image: ملٹی میڈیا jw id: 1nFUMCtS type: news related nodes: انڈین کشمیر کے گاؤں میں شہد کی مکھیوں سے خوشحالی سعودی عرب کے علاقے میسان میں ہزار سال پرانے شہد کے چھتے تیر کر تائیوان پہنچنے والا چینی شخص شہد کی مکھی کے ہاتھوں پریشان یمن: شہد کا کاروبار جو اب مندی کا شکار ہے SEO Title: ’بی کوئین آف کشمیر‘ سری نگر میں شہد کی مکھیوں کا کاروبار کرنے والی لڑکی copyright: show related homepage: Hide from Homepage