جیسا چولہا ویسی روٹی: سہیل وڑائچ

تضادستان ہمارا پیارا ملک ہے اور ہم اسی کے چولہے کی روٹی کھاتے ہیں یہ ہمارا اپنا ہی چولہا ہے اور اپنی ہی روٹی ہے۔ رومانوی اور حب الوطنی کے حساب سے اس روٹی پر صبروشکر کرنا واجب اور اس پر اعتراض کرنا گناہ ہے۔ بابا فرید الدین گنج شکر ؒنے تو روٹی" ٹک" یا "ٹکر" کو چھٹا رکن ِاسلام قرار دیا تھا اورظاہر ہے جس کا کھائیں اسی کا گائیں۔ اسے احترام دینا تو لازم ہے مگر چولہے کے معیار سے ہی روٹی کے معیار کا تعین ہوتا ہے جیسا چولہا ویسی روٹی کا یہی مطلب ہے۔ اسی طرح کا ملتا جلتا محاورہ "جیسا منہ... ​ Read more