ایک سینیئر ایرانی عہدیدار نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کا نیا دور مارچ کے اوائل میں متوقع ہے۔ عہدیدار کے مطابق دونوں فریقوں کے درمیان ایک عبوری معاہدے تک پہنچنے کا امکان بھی موجود ہے۔ ادھر ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات میں پابندیوں میں نرمی کے معاملے پر دونوں ممالک کے مؤقف میں اختلاف برقرار ہے۔ روئٹرز کے مطابق ایرانی عہدیدار نے کہا کہ مذاکرات کے آخری مرحلے میں یہ واضح ہوا کہ پابندیوں میں نرمی کے طریقہ کار اور دائرہ کار سے متعلق امریکی تجاویز ایران کے مطالبات سے مختلف ہیں، اس لیے دونوں فریقوں کو پابندیاں اٹھانے کے لیے ایک قابل عمل اور باہمی مفادات پر مبنی ٹائم لائن پر اتفاق کرنا ہوگا۔ رپورٹ کے مطابق ایران اور امریکہ نے رواں ماہ کے آغاز میں تہران کے جوہری پروگرام پر دہائیوں پر محیط تنازع حل کرنے کے لیے مذاکرات دوبارہ شروع کیے، جبکہ مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی سرگرمیوں میں اضافے نے ممکنہ فوجی تصادم کے خدشات کو بھی بڑھا دیا ہے۔ ایرانی حکام پہلے خبردار کر چکے ہیں کہ حملے کی صورت میں خطے میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ ایرانی عہدیدار کے مطابق تہران ماضی کی طرح ’صفر افزودگی‘ کے امریکی مطالبے کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں، تاہم جوہری سرگرمیوں میں لچک دکھانے پر آمادگی ظاہر کی گئی ہے بشرطیکہ یورینیم افزودگی کے پرامن حق کو تسلیم کیا جائے۔ ایرانی عہدیدار نے کہا: ’مذاکرات کے آخری دور سے واضح ہوا کہ پابندیوں میں نرمی کے دائرہ کار اور طریقہ کار سے متعلق امریکی تصورات ایران کے مطالبات سے مختلف ہیں۔ دونوں فریقوں کو پابندیاں ختم کرنے کے لیے ایک منطقی ٹائم ٹیبل پر متفق ہونا ہوگا۔‘ انہوں نے مزید کہا: ’یہ روڈ میپ معقول ہونا چاہیے اور باہمی مفادات پر مبنی ہونا چاہیے۔‘ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جمعے کو کہا تھا کہ وہ چند دنوں میں جوابی تجاویز کا مسودہ تیار ہونے کی توقع رکھتے ہیں جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے محدود فوجی کارروائی پر غور کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ امریکہ ایران کے اندر افزودگی کو ممکنہ طور پر جوہری ہتھیاروں کی راہ سمجھتا ہے جبکہ ایران اس الزام کی تردید کرتا ہے۔ عہدیدار نے کہا کہ ممکنہ سمجھوتے کے تحت ایران اعلیٰ سطح پر افزودہ یورینیم کے ذخیرے کے ایک حصے کو بیرون ملک منتقل کرنے، اس کی افزودگی کی سطح کم کرنے یا علاقائی افزودگی کنسورشیم کے قیام جیسے اقدامات پر غور کر سکتا ہے، اگر اس کے بدلے ایران کے پرامن جوہری حق کو تسلیم کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مذاکرات جاری ہیں اور عبوری معاہدے تک پہنچنے کا امکان موجود ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق سفارتی حل دونوں ممالک کے لیے اقتصادی فوائد کا باعث بن سکتا ہے جبکہ امریکہ کو ایران کے تیل کے شعبے میں سرمایہ کاری کے مواقع بھی دیے جا سکتے ہیں۔ تاہم تہران اپنے تیل اور معدنی وسائل پر کنٹرول کسی صورت ترک نہیں کرے گا، البتہ امریکی کمپنیاں کنٹریکٹر کے طور پر منصوبوں میں حصہ لے سکتی ہیں۔ یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب خطے میں کشیدگی برقرار ہے اور فریقین سفارتی راستہ اختیار کرتے ہوئے تنازع کے حل کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایران امریکہ کشیدگی جوہری مذاکرات صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک سینیئر ایرانی عہدیدار کے مطابق دونوں فریقوں کے درمیان ایک عبوری معاہدے تک پہنچنے کا امکان بھی موجود ہے۔ روئٹرز اتوار, فروری 22, 2026 - 16:45 Main image:
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی 17 فروری 2026 کو جنیوا میں سوئٹزرلینڈ اور ایران کے درمیان دوطرفہ ملاقات کے دوران گفتگو کر رہے ہیں (اے ایف پی)
دنیا type: news related nodes: ایران جوابی مسودے کی تیاری میں مصروف، ٹرمپ کا ایران پر محدود حملوں پر غور ایران کو جوہری معاہدے پر مجبور کرنے کے لیے ٹرمپ کا محدود کارروائی پر غور: امریکی اخبار ایران کا امریکہ سے معاہدہ کرنا ’دانش مندی‘ ہو گی: وائٹ ہاؤس ایران سے مذاکرات میں بالواسطہ شامل رہوں گا: ٹرمپ SEO Title: ایران اور امریکہ کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کا نیا دور مارچ میں متوقع: روئٹرز copyright: Translator name: عبدالقیوم show related homepage: Hide from Homepage