بالکل بھارت کے خلاف میچ کی طرح، سلمان آغا کی کپتانی کمزور رہی۔ ان کا سب سے بڑا ہتھیار عثمان طارق تھا، جس نے آٹھواں اوور کرایا، ایک وکٹ لی اور کوئی رن نہیں دیے، لیکن کپتان صاحب نے اسے ہٹا دیا اور تب واپس لائے جب اگلے تین اوورز میں دوسرے باؤلرز 36 رنز دے چکے تھے — یعنی عملاً اس وقت جب میچ ہاتھ سے نکل چکا تھا۔ انتہائی ناقص کپتانی۔ اگر اتنے زیادہ رنز کے باوجود وہ یہ میچ نہیں جتوا سکتے تو شاید وہ کوئی میچ بھی نہیں جتوا سکتے۔ https://twitter.com/x/status/2026341703196749840