امریکہ اور ایران کے درمیان آج بروز جمعرات سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں بالواسطہ مذاکرات کا تازہ ترین دور ہو رہا ہے جس کا مقصد دیرینہ ایٹمی تنازعے کو حل کرنا اور بڑے پیمانے پر فوجی تیاریوں کے بعد ایران پر نئے امریکی حملوں کو روکنا ہے۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اپنے اعلیٰ سفارت کار کی قیادت میں ایک ایرانی وفد امریکہ کے ساتھ بات چیت کے لیے بدھ کو جنیوا پہنچا جب کہ ایران کے صدر نے نئے تنازعے سے بچنے کے لیے بات چیت کے ذریعے طے پانے والے معاہدے کے امکان پر پرامید لہجہ اختیار کیا۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بدھ کو کہا کہ وہ ’مذاکرات کے حوالے سے سازگار نقطہ نظر‘ رکھتے ہیں۔ مذاکرات بالآخر ’اس نہ جنگ نہ امن والی صورت حال سے آگے بڑھ سکتے ہیں۔‘ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی، جو مذاکرات میں ایرانی وفد کی قیادت کر رہے ہیں، نے اسے ’تاریخی موقع‘ قرار دیا۔ دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بدھ کو خبردار کیا کہ ایران کو اپنے میزائل پروگرام پر بات چیت کرنی چاہیے، یہ انتباہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس الزام کے ایک دن بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ تہران ایسے راکٹوں پر کام کر رہا ہے جو امریکہ کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ امریکہ اور ایران کے درمیان نئی بات چیت سے قبل روبیو نے صحافیوں کو بتایا، ’میں کہوں گا کہ بیلسٹک میزائلوں پر بات نہ کرنے پر ایران کا اصرار ایک بہت، بہت بڑا مسئلہ ہے۔‘ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق تہران کے ایٹمی پروگرام پر دہائیوں پر محیط تعطل ختم کرنے کی امید کے ساتھ دونوں ممالک نے اس ماہ مذاکرات دوبارہ شروع کیے ہیں، جس کے بارے میں واشنگٹن، دیگر مغربی ریاستوں اور اسرائیل کا خیال ہے کہ اس کا مقصد ایٹمی ہتھیار بنانا ہے۔ تہران اس کی تردید کرتا ہے۔ ایک امریکی اہلکار نے بتایا ہے کہ امریکی خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات میں شرکت کریں گے۔ یہ مذاکرات گذشتہ ہفتے جنیوا میں ہونے والی بات چیت کے بعد ہو رہے ہیں اور ان کی ثالثی عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی کریں گے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو کانگریس میں اپنی سٹیٹ آف دی یونین تقریر میں ایران پر ممکنہ حملے کے لیے مختصراً اپنا موقف پیش کیا، اور کہا کہ ان کی ترجیح اس مسئلے کو سفارت کاری کے ذریعے حل کرنا ہے، لیکن وہ تہران کو ایٹمی ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ ایران کے اندر اور باہر دباؤ بدھ کو امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ٹرمپ کے موقف پر زور دیا۔ وینس نے فاکس نیوز پر ایک انٹرویو میں کہا، ’ایران ایٹمی ہتھیار نہیں رکھ سکتا۔ اگر (ٹرمپ نے) یہ راستہ چنا تو یہ حتمی فوجی ہدف ہوگا۔‘ امریکہ مشرق وسطیٰ میں ایک بڑی فوجی طاقت جمع کر رہا ہے، جس سے ایک وسیع تر علاقائی تنازعے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔ گذشتہ سال جون میں امریکہ نے ایرانی ایٹمی تنصیبات پر حملوں میں اسرائیل کا ساتھ دیا تھا۔ ایران نے دھمکی دی ہے کہ اگر دوبارہ حملہ کیا گیا تو وہ سخت جوابی کارروائی کرے گا۔ ٹرمپ نے 19 فروری کو کہا تھا کہ ایران کو 10 سے 15 دنوں میں معاہدہ کر لینا چاہیے، اور خبردار کیا تھا کہ بصورت دیگر ’بہت بری چیزیں‘ ہوں گی۔ عباس عراقچی نے منگل کو کہا کہ ان کے ملک کا مقصد ایک منصفانہ اور فوری معاہدہ کرنا ہے، لیکن انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ وہ پرامن ایٹمی ٹیکنالوجی کے اپنے حق سے دستبردار نہیں ہوں گے۔ واشنگٹن ایران کے اندر ایٹمی افزودگی کو ایٹمی ہتھیاروں کے ممکنہ راستے کے طور پر دیکھتا ہے۔ عراقچی نے ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ ’معاہدہ پہنچ میں ہے، لیکن صرف اس صورت میں جب سفارت کاری کو ترجیح دی جائے۔‘ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) روئٹرز نے اتوار کو خبر دی تھی کہ تہران امریکی حملے سے بچنے کی کوشش میں، پابندیوں کے خاتمے اور یورینیم افزودہ کرنے کے اپنے حق کو تسلیم کرنے کے بدلے نئی مراعات کی پیشکش کر رہا ہے۔ تاہم، ایک اعلیٰ ایرانی اہلکار نے بتایا کہ دونوں فریقین کے درمیان شدید اختلافات برقرار ہیں، یہاں تک کہ تباہ کن امریکی پابندیوں سے ریلیف کے دائرہ کار اور ترتیب کے حوالے سے بھی۔ ایران کے اندر، سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو اپنے 36 سالہ دور کے سنگین ترین بحران کا سامنا ہے، جہاں معیشت سخت پابندیوں کے بوجھ تلے جدوجہد کر رہی ہے اور جنوری میں بڑے ہنگاموں اور خونی کریک ڈاؤن کے بعد نئے مظاہرے شروع ہو گئے ہیں۔ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے سربراہ رافیل گروسی کی بھی مذاکرات کے دوران جنیوا میں موجودگی متوقع ہے تاکہ وہ دونوں فریقین کے ساتھ بات چیت کر سکیں، جیسا کہ انہوں نے گذشتہ ہفتے کیا تھا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ ایران جوہری مذاکرات اس بات چیت کا مقصد دیرینہ ایٹمی تنازعے کو حل کرنا اور بڑے پیمانے پر فوجی تیاریوں کے بعد ایران پر نئے امریکی حملوں کو روکنا ہے۔ انڈپینڈنٹ اردو جمعرات, فروری 26, 2026 - 07:45 Main image:
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی 17 فروری 2026 کو جنیوا میں سوئٹزرلینڈ اور ایران کے درمیان دوطرفہ ملاقات کے دوران گفتگو کر رہے ہیں (اے ایف پی)
دنیا type: news related nodes: جنیوا مذاکرات سے قبل ٹرمپ کے دباؤ کے خلاف ایران کا سخت ردِعمل ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت کبھی نہیں دوں گا: صدر ٹرمپ امریکی حملے کی صورت میں ’سخت جوابی کارروائی‘ کا ایرانی انتباہ مختصر خبریں: ایران میں جاپانی چینل کے بیورو چیف گرفتار SEO Title: امریکہ اور ایران کے درمیان آج جنیوا میں دوبارہ مذاکرات ہوں گے copyright: show related homepage: Hide from Homepage