کشمیری سیب پھر نشانے پر

جب سے انڈیا اور امریکہ کے مابین تجارتی معاہدہ طے پایا ہے جس میں امریکی زرعی مصنوعات پر صفر ٹیکس عائد کیے جانے کا اشارہ دیا گیا ہے، انڈیا کے کسان اور میوہ اُگانے والے کاشت کار انتہائی پریشان ہیں اور حکومت کی زرعی درآمدات کی اس پالیسی کو اندرونی میوہ صنعت کے لیے بڑا خطرہ تصور کررہے ہیں۔ کشمیری کسان اور باغ مالکان نے معاہدے پر اپنے خدشات ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ امریکی سیب کی درآمدات نے پہلے ہی کشمیری اور ہماچلی سیب کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور نئی صفر ٹیکس پالیسی سے یہ صنعت اپنی موت آپ مر جائے گی۔ انڈیا میں 2015 سے امریکی سیب درآمد کیا جاتا رہا ہے، جسے سابق امریکی صدر جو بائیڈن کے 2023 کے انڈیا کے دورے کے بعد کم کر دیا گیا تھا اور عام لوگوں کی قوت خرید کے باوجود کسانوں نے مقامی پیداوار کو متاثر کن بتایا تھا، تاہم انڈیا میں امریکی سیب کی خرید و فروخت بڑھ گئی تھی، حالانکہ اس کے مقابلے میں مقامی سیب کافی سستا پڑ جاتا ہے۔ دیکھا گیا ہے کہ عام لوگ کشمیری سیب کو پسند کرتے ہیں، جو ذائقے اور قیمت میں مناسب ہے البتہ ہوٹلوں اور شاپنگ مالز میں امریکی سیب نمایاں نظر آنے لگا تھا۔ چند برس قبل ایرانی سیب بھی جب انڈیا کے بازاروں میں بکنے لگا تھا تو اس وقت بھی سیب انڈسٹری سے وابستہ کسانوں نے حکومت پر درآمدات پر بھاری ٹیکسسز عائد کرنے کا مطالبہ کیا تھا تاکہ عام لوگ گھریلو سیب خریدنے پر مجبور ہو جائیں۔ کشمیری کاشت کار پریشانی میں مبتلا ہیں کہ امریکی سیب کی بھاری پیداوار اور درآمدات کے پیش نظر خطے کی معیشت پھر متاثر ہوگی۔ ان خدشات کو رد کرتے ہوئے انڈیا کے مرکزی وزیر پیوش گوئیل نے کہا کہ حکومت اپنی انڈسٹری کو فروغ دینے پر قائم ہے نہ کہ ختم کرنے پر بلکہ حکومت محدود تعداد میں ہی میووں کو درآمد کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ مودی سرکار کی ترجیح گھریلو صنعت کو بیرونی دنیا تک پہنچانا ہے اور ہم اپنی صنعت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کر سکتے۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) انڈیا عالمی سطح پر سیب اگانے والے ملکوں میں ساتویں نمبر پر ہے اور ملک میں سالانہ 25 لاکھ میٹرک ٹن سیبوں کی کھپت ہوتی ہے جس میں صرف 21 لاکھ میٹرک ٹن ملک میں اگایا جاتا ہے۔ پوری پیداوار کا 80 فیصد حصہ جموں و کشمیر کے باغات سے وصول کیا جاتا ہے جبکہ 20 فیصد میوے ہماچل پردیش اور اتراکھنڈ میں پیدا کیے جاتے ہیں۔ جموں و کشمیر میں سیب کے کاشت کاروں کی انجمن کے سربراہ بشیر احمد بشیر نے چند ہفتے پہلے وزیراعظم مودی کو ایک خط لکھ کر اپیل کی تھی کہ وہ امریکہ سے میوہ جات کی درآمدتی پالیسی پر نظر ثانی کرے، ورنہ جس تعداد میں امریکہ یہاں کے بازاروں پر ٹوٹ پڑے گا، وہاں کشمیری سیب نہ تو بک سکتا ہے اور نہ اس کی موجودگی کو محسوس کیا جاسکتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اپنی صنعت کو فروغ دینے کے لیے حکومت کو درآمد پر سو فیصد ٹیکس عائد کرنا چاہیے ورنہ ہماری معیشت بری طرح مجروح ہوجائے گی۔ بشیر احمد کے مطابق کشمیر کے سات لاکھ خاندان میوہ انڈسٹری سے جڑے ہوئے ہیں اور یہ لاکھوں لوگوں کی روزی روٹی کا ذریعہ بھی ہے۔ واضح رہے کہ جموں و کشمیر کی معیشت میں آٹھ فیصد حصہ میوہ صنعت سے آتا ہے اور پرتشدد حالات کے پیش نظر اس صنعت نے یہاں کے معاشی حالات کو ہمیشہ سہارا دیا ہے۔ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے شہر سری نگر میں 11 مارچ 2024 کو ایک بازار میں خاتون پھل خرید رہی ہے (فائل فوٹو/ اے ایف پی) باغ مالک رؤف بٹ کہتے ہیں کہ مرکزی سرکار نے ویسے بھی ہم سے سب کچھ چھین لیا ہے، زمین، شناخت، آئین، اختیارات اور روزگار، اب محنت مزدوری کر کے اپنا پیٹ پال رہے ہیں۔ ’شاید اب ہماری معیشت نشانے پر ہے جس پر ہر طرح سے حملے ہو رہے ہیں، فروٹ انڈسٹری ہمارا واحد سہارا ہے، اب اس پر پے در پے حملے جاری ہیں۔‘ دریں اثنا حزب اختلاف کی جماعت پی ڈی پی نے انڈیا امریکہ تجارتی معاہدے کو کشمیر کے خلاف معاشی دہشت گردی سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری معیشت کو ابتر کرنے کی یہ سوچی سمجھی چال ہے تاکہ کشمیر کو بے اختیار کر کے گھٹنوں پر لایا جا سکے۔ نیشنل کانفرنس کے سربراہ اور وزیراعلیٰ عمرعبد اللہ نے پہلے اس معاہدے کی تعریف کی مگر کسانوں اور حزب اختلاف کے اسمبلی میں ہنگاموں کے بعد کشمیری کسانوں سے ہمدردی جتا کر مرکزی حکومت کو اس معاہدے پر نظرثانی کی اپیل کی مگر ابھی تک انڈیا کی مرکزی سرکار سے اس پر ایسا کوئی بیان یا اشارہ نہیں ملا ہے کہ امریکی درآمدات پر کوئی ٹیکس لگایا جائے گا، جس سے مقامی صنعت انڈسٹری کو متاثر ہونے سے بچایا جا سکتا ہے۔ بقول ایک صحافی اندرونی خودمختاری ختم کرنے کے بعد بعض انتہا پسند ہندوؤں نے کشمیر کی خوبصورتی کو نشانہ بنایا تھا، اب خوبصورتی کے ساتھ ساتھ یہاں کے سیب کو نیست و نابود کرنے کی پالیسی صاف نظر آرہی ہے۔ گو کہ 80 فیصد سیب انڈین گھروں میں کشمیر سے ہی بھیجا جاتا ہے۔ نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ انڈیا جموں و کشمیر معیشت امریکہ ٹیرف عام لوگ کشمیری سیب کو پسند کرتے ہیں جو ذائقے اور قیمت میں مناسب ہے البتہ ہوٹلوں اور شاپنگ مالز میں امریکی سیب نمایاں نظر آنے لگا تھا۔ نعیمہ احمد مہجور جمعہ, فروری 27, 2026 - 07:30 Main image:

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے شہر سری نگر کے مضافات میں 24 اگست 2023 کو ایک شخص باغ سے سیب اتار رہا ہے (فائل فوٹو/ اے ایف پی)

نقطۂ نظر type: news related nodes: کشمیر پھر عالمی سودے بازی کی میز پر؟ کشمیر، منشیات کی زد میں انڈیا کے ’وائٹ کالر دہشت گرد‘ کشمیریت عروج پر SEO Title: کشمیری سیب پھر نشانے پر copyright: show related homepage: Hide from Homepage