ثالثوں نے بتایا ہے کہ ایران اور امریکہ نے جمعرات کو سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات میں ’نمایاں پیش رفت‘ کی ہے اور اگلے ہفتے آسٹریا میں مزید بات چیت پر اتفاق کیا گیا ہے۔ عمان کی ثالثی میں ہونے والے یہ مذاکرات ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر حملے کی بار بار دھمکیوں کے بعد ہو رہے ہیں۔ امریکی صدر نے گذشتہ جمعرات تہران کو معاہدے تک پہنچنے کے لیے 15 دن کی مہلت دی تھی۔ اگرچہ ایران کا اصرار ہے کہ بات چیت صرف اس کے جوہری پروگرام پر مرکوز رہے، امریکہ چاہتا ہے کہ تہران کے میزائل پروگرام اور خطے میں جنگجو گروہوں کی اس کی حمایت کو محدود کیا جائے۔ ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے سرکاری ٹی وی کو بتایا کہ مذاکرات میں ’بہت اچھی پیش رفت ہوئی اور ہم معاہدے کے نکات میں نہایت سنجیدگی سے داخل ہوئے، چاہے وہ جوہری شعبہ ہو یا پابندیوں کا معاملہ۔‘ انہوں نے کہا کہ اگلا دور ’شاید ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں‘ ہوگا جبکہ اقوامِ متحدہ کی جوہری ایجنسی میں تکنیکی مذاکرات پیر کے روز ویانا میں شروع ہوں گے۔ pic.twitter.com/TVtFE0H0hf — Seyed Abbas Araghchi (@araghchi) February 26, 2026 عمانی وزیرِ خارجہ بدر البوسعیدی نے بھی اعلان کیا کہ تکنیکی بات چیت ’اگلے ہفتے ویانا میں‘ منعقد ہوگی۔ انہوں نے ایکس پر ایک پیغام میں کہا: ’ہم نے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں نمایاں پیش رفت کے بعد آج کا دن مکمل کیا ہے۔‘ یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب امریکہ مشرقِ وسطیٰ میں گذشتہ دہائیوں کی اپنی سب سے بڑی فوجی تعیناتی جاری رکھے ہوئے ہے۔ امریکی اور ایرانی وفود نے سخت سکیورٹی کے حصار میں عمانی سفیر کی رہائش گاہ پر ایک اجلاس میں شرکت کی، جس کے بعد اپنی اپنی حکومتوں سے مشاورت کے لیے وقفہ لیا گیا۔ دوسرا اجلاس عالمی معیاری وقت کے مطابق تقریباً 17.00 بجے شروع ہوا۔ عباس عراقچی نے رات گئے ایکس پر اپنے پیغام میں تازہ مذاکرات کے دور کو ’اب تک کے سب سے شدید اور سنجیدہ‘ مذاکرات قرار دیا۔ انہوں نے ایکس پر لکھا: ’یہ اس باہمی مفاہمت کے ساتھ اختتام پذیر ہوا کہ ہم کسی بھی معاہدے کے لیے ناگزیر امور، بشمول پابندیوں کے خاتمے اور جوہری اقدامات پر مزید تفصیل سے بات چیت جاری رکھیں گے۔‘ مذاکرات سے قریبی ذریعے نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ اقوام متحدہ کے جوہری امور کے سربراہ رافیل گروسی بھی مذاکرات میں شامل ہوئے۔ ایران کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے 26 فروری 2026 کو جاری کی گئی اس ہینڈ آؤٹ تصویر میں ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی (بائیں) جنیوا میں ثالث عمان کے وزیرِ خارجہ بدر البوسعیدی سے گفتگو کر رہے ہیں (اے ایف پی) ڈرامائی فوجی تیاری اخبار دی وال سٹریٹ جرنل نے جمعرات کو رپورٹ کیا کہ ٹرمپ کی مذاکراتی ٹیم ایران سے مطالبہ کرے گی کہ وہ اپنی تین اہم جوہری تنصیبات ختم کرے اور باقی ماندہ افزودہ یورینیم امریکہ کے حوالے کرے۔ ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے مذاکرات سے قبل اصرار کیا تھا کہ اسلامی جمہوریہ ’ہرگز‘ جوہری ہتھیار کی خواہاں نہیں ہے۔ اے ایف پی کے ایک فوٹوگرافر نے بتایا کہ امریکی فوجی تیاری کے ڈرامائی حصے کے طور پر دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ، جسے اس ہفتے بحیرۂ روم بھیجا گیا تھا، جمعرات کو کریٹ میں واقع بحری اڈے سے روانہ ہوگیا۔ واشنگٹن کے پاس اس وقت مشرقِ وسطیٰ میں ایک درجن سے زائد جنگی جہاز موجود ہیں، جن میں ایک طیارہ بردار بحری جہاز ’یو ایس ایس ابراہم لنکن‘، 9 ڈسٹرائر اور تین دیگر جنگی جہاز شامل ہیں۔ خطے میں دو امریکی طیارہ بردار بحری جہازوں کی موجودگی غیر معمولی سمجھی جاتی ہے۔ مذموم جوہری عزائم منگل کو کانگریس میں اپنے سٹیٹ آف دی یونین خطاب میں ٹرمپ نے ایران پر ’مذموم جوہری عزائم کی پیروی‘ کا الزام عائد کیا، حالانکہ تہران ہمیشہ کہتا آیا ہے کہ اس کا پروگرام شہری مقاصد کے لیے ہے۔ ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ تہران نے ’ایسے میزائل پہلے ہی تیار کر لیے ہیں جو یورپ اور بیرونِ ملک ہمارے اڈوں کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔‘ تاہم ایرانی وزارتِ خارجہ نے ان دعوؤں کو ’بڑے جھوٹ‘ قرار دیا۔ تہران کی جانب سے عوامی طور پر ظاہر کردہ معلومات کے مطابق ایران کے میزائلوں کی زیادہ سے زیادہ مار کرنے کی صلاحیت 2,000 کلومیٹر ہے۔ تاہم امریکی کانگریس کی تحقیقی سروس کا اندازہ ہے کہ ان کی مار کرنے کی صلاحیت تقریباً 3,000 کلومیٹر تک ہے، جو براعظم امریکہ کے فاصلے کے ایک تہائی سے بھی کم ہے۔ کانگریس میں ٹرمپ کے سٹیٹ آف دی یونین خطاب میں لگائے گئے الزامات اسی فورم پر پیش کیے گئے جہاں اس وقت کے صدر جارج ڈبلیو بش نے 2003 میں عراق پر حملے کے لیے مقدمہ پیش کیا تھا۔ ’لوگ متاثر ہوں گے‘ مذاکرات میں امریکہ کی نمائندگی خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر نے کی۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) دونوں ممالک نے رواں ماہ کے اوائل میں عمان میں مذاکرات کیے تھے اور پھر گذشتہ ہفتے جنیوا میں دوسرے دور کے لیے جمع ہوئے۔ مذاکرات کی ایک سابقہ کوشش اس وقت ناکام ہوگئی تھی جب اسرائیل نے گذشتہ برس جون میں ایران پر اچانک حملے کیے، جس سے 12 روزہ جنگ شروع ہوئی اور واشنگٹن بھی مختصر طور پر ایرانی جوہری تنصیبات پر بمباری کے لیے شامل ہوا۔ جنوری میں تہران نے ملک گیر احتجاجی مظاہروں کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن شروع کیا، جو اسلامی جمہوریہ کے قیام کے بعد سے اس کے لیے سب سے بڑے چیلنجوں میں سے ایک تھے۔ اس کے بعد سے ایرانی جامعات کے اطراف دوبارہ احتجاج کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ تہران کے رہائشیوں نے اے ایف پی سے گفتگو میں اس بات پر مختلف آرا ظاہر کیں کہ نئے سرے سے تنازع ان کے لیے کیا معنی رکھے گا۔ 60 سالہ گھریلو خاتون طیبہ نے کہا کہ ’قحط ہوگا اور لوگ بہت زیادہ متاثر ہوں گے۔ لوگ اب بھی مشکلات کا شکار ہیں، لیکن کم از کم جنگ کی صورت میں شاید ہماری تقدیر واضح ہو جائے۔‘ امریکہ ایران جوہری مذاکرات ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے مطابق مذاکرات میں ’بہت اچھی پیش رفت ہوئی اور ہم معاہدے کے نکات میں نہایت سنجیدگی سے داخل ہوئے، چاہے وہ جوہری شعبہ ہو یا پابندیوں کا معاملہ۔‘ اے ایف پی جمعہ, فروری 27, 2026 - 09:45 Main image:
ایرانی وزارت خارجہ کی جانب سے 26 فروری 2026 کو جاری کردہ ایک ہینڈ آؤٹ تصویر میں جنیوا، سوئٹزرلینڈ میں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے دوران ایرانی سفارت کاروں کے وفد کو دیکھا جا سکتا ہے (اے ایف پی)
دنیا type: news related nodes: سفارتی حل کا آخری موقع: ایران اور امریکہ کے بالواسطہ مذاکرات جنیوا میں جاری جنیوا مذاکرات سے قبل ٹرمپ کے دباؤ کے خلاف ایران کا سخت ردِعمل ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت کبھی نہیں دوں گا: صدر ٹرمپ امریکی حملے کی صورت میں ’سخت جوابی کارروائی‘ کا ایرانی انتباہ SEO Title: امریکہ سے مذاکرات میں ’اچھی پیش رفت‘ ہوئی، آئندہ دور اگلے ہفتے ہوگا: ایران copyright: show related homepage: Show on Homepage