انتخابات اور جمہوری عمل کی نگرانی کرنے والی ایک پاکستانی تنظیم کا کہنا ہے کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پانچ برس کے دوران بلدیاتی انتخابات کا چھ مرتبہ التوا جمہوری عمل پر سنگین سوال بن کر ابھرا ہے۔ پٹن-کولیشن 38 کی تازہ سروے رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں نچلی سطح کی جمہوریت کو پنپنے سے منظم انداز میں روکا گیا، جس سے نہ صرف امیدواروں کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا بلکہ عوام کے حقِ نمائندگی کو بھی دھچکا لگا۔ رپورٹ میں اس امر پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے کہ یہ صورتِ حال الیکشن کمیشن آف پاکستان کی خودمختاری پر سوالات اٹھاتی ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ ادارہ انتظامیہ کے دباؤ میں ہے۔ سروے کے مطابق دو منسوخ شدہ انتخابات میں مجموعی طور پر 7 ہزار 866 امیدواروں نے کاغذاتِ نامزدگی کی مد میں 3 کروڑ 77 لاکھ 40 ہزار روپے جمع کرائے۔ اس کے علاوہ قانونی مشاورت اور انتخابی مہم پر بھی خطیر اخراجات ہوئے۔ Screenshot 2026-02-27 150128.jpg اندازوں کے مطابق ان دونوں منسوخ انتخابات پر امیدواروں کے مجموعی اخراجات 54 کروڑ 43 لاکھ روپے تک جا پہنچے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ محض مالی نقصان نہیں بلکہ شہریوں کے آئینی حقِ نمائندگی کی پامالی بھی ہے۔ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ انتظامی ترامیم کو عوام اور امیدواروں کی اکثریت نے مسترد کیا۔ 70 فیصد امیدواروں اور 61 فیصد ووٹروں نے لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2015 میں صدارتی آرڈیننس کے ذریعے کی گئی ترامیم کی مخالفت کی، حالانکہ اس وقت قومی اسمبلی کا اجلاس جاری تھا۔ چھیاسٹھ فیصد امیدواروں اور 49 فیصد ووٹروں نے میٹروپولیٹن کارپوریشن کے خاتمے کو رد کیا۔ نصف سے زائد شرکا نے ٹاؤن کارپوریشنوں میں بالواسطہ انتخابات کی تجویز کی مخالفت کی جبکہ 90 فیصد امیدواروں اور 60 فیصد ووٹروں نے مزدور اور کسان نشستوں پر تاجروں اور ٹیکنوکریٹس کی شمولیت کو نامنظور قرار دیا۔ Screenshot 2026-02-27 150238.jpg سروے کے مطابق 40 فیصد مخالف امیدواروں کا تعلق حکمران جماعتوں سے تھا، جو اس بات کی علامت ہے کہ اختلاف صرف حزبِ اختلاف تک محدود نہیں۔ انتخابات کے بار بار التوا کی وجوہات پر بھی سروے میں نمایاں رجحانات سامنے آئے۔ ایک تہائی سے زائد افراد کا خیال ہے کہ حکمران جماعتوں کو ممکنہ شکست کا اندیشہ تھا۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) تقریباً 40 فیصد نے بیوروکریسی کو ذمہ دار ٹھہرایا اور مؤقف اختیار کیا کہ سرکاری اہلکار منتخب نمائندوں کے ماتحت کام کرنے سے گریزاں ہیں۔ دس فیصد سے زائد شرکا نے کہا کہ قومی اسمبلی کے اراکین ترقیاتی فنڈز اور سیاسی اثرورسوخ پر اپنی اجارہ داری برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ یوں سیاسی اور انتظامی مفادات کے گٹھ جوڑ کا تاثر ابھرتا ہے۔ سروے نے سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوری کمزوریوں کی بھی نشاندہی کی۔ 71 فیصد پارٹی عہدیدار براہِ راست قیادت کی جانب سے مقرر کیے گئے جبکہ صرف 29 فیصد اندرونی انتخابات کے ذریعے سامنے آئے۔ رپورٹ کے مطابق یہ صورتِ حال بلدیاتی سطح پر جمہوری خلا کی عکاسی کرتی ہے۔ رپورٹ میں چند سفارشات بھی پیش کی گئی ہیں۔ مطالبہ کیا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان فوری طور پر منسوخ شدہ انتخابات کے امیدواروں کو کاغذاتِ نامزدگی کی فیس واپس کرے اور حکومت مالی نقصانات کا ازالہ کرے۔ تجویز دی گئی ہے کہ تمام یونین کونسلوں میں ایک ہی دن انتخابات کرانے کے بجائے مرحلہ وار طریقہ اپنایا جائے، یعنی ہر دو سال بعد 20 فیصد نشستوں پر انتخابات ہوں تاکہ نظام میں تسلسل برقرار رہے۔ مزید برآں، متنازع ترامیم پر عوامی رائے جاننے کے لیے ریفرنڈم کرانے، ’تاجر‘ جیسی اصطلاحات کی واضح تعریف دینے اور بلدیاتی اداروں کو آئینی تحفظ، مالی و انتظامی خودمختاری فراہم کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق اسلام آباد میں مقا می حکومت کی معیاد 14 فروری 2021ء کو مکمل ہوئی تھی۔ اسلام آباد بلدیاتی انتخابات دو منسوخ شدہ انتخابات میں مجموعی طور پر 7 ہزار 866 امیدواروں نے کاغذاتِ نامزدگی کی مد میں 3 کروڑ 77 لاکھ 40 ہزار روپے جمع کرائے اور واپس نہیں دیے۔ انڈپینڈنٹ اردو جمعہ, فروری 27, 2026 - 14:45 Main image:
اسلام آباد کے سیکٹر جی سکس میں قائم ایک پولنگ سٹیشن میں 8 فروری 2024 کو پاکستانی شہری اپنا ووٹ ڈال رہا ہے (انڈپینڈنٹ اردو / سہیل اختر)
سیاست type: news related nodes: داعش کے کابل اور اسلام آباد میں حملے، تنظیمی مایوسی؟ داعش اسلام آباد تک کیسے پہنچ گئی؟ کوئی حکومت بلدیاتی انتخابات بروقت نہیں چاہتی: الیکشن کمیشن وفاقی کابینہ اجلاس: اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات دوبارہ ملتوی SEO Title: اسلام آباد: پانچ برسوں میں بلدیاتی انتخاب کا چھ مرتبہ التوا، جمہوری عمل پر سوال؟ copyright: show related homepage: Hide from Homepage