پاکستان اور افغانستان ایک بار پھر جنگی میدان میں آمنے سامنے ہیں اور دونوں نے ایک دوسرے کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچانے کا دعویٰ کیا ہے۔ حالیہ جھڑپوں کے بعد کئی حلقوں میں یہ بات زیر بحث ہے کہ آخر دونوں برادر اسلامی ملک بار بار تصادم کا راستہ کیوں اختیار کرتے ہیں اور یہ کہ اس کو روکنے کے لیے کیا کرنا چاہیے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں ملک میں ہونے والے خود کش اور دوسرے حملوں کے جواب میں حکومت نے غضب للحق کے نام سے ایک ٹارگٹڈ آپریشن افغان طالبان کے خلاف شروع کیا، جس میں 250 سے زائد افغان طالبان مارے گئے جبکہ 400 سے زیادہ زخمی ہیں۔ پاکستانی فوج کے شعبہ اطلاعت کے سربراہ میجر جنرل احمد شریف کا کہنا ہے کہ پاکستانی آپریشن میں 73 چیک پوسٹوں کو تباہ کیا گیا اور 18 کو قبضے میں لیا گیا جبکہ اس آپریشن میں پاکستان کے 12 فوجی بھی جان سے گئے۔ دوسری طرف افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے جمعے کو ایک پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا کہ کابل نے پاکستان میں اہم عسکری مقاصد حاصل کر لیے ہیں اور خبردار کیا کہ اگر پاکستان نے مخاصمت جاری رکھی تو کابل فیصلہ کن اقدامات کے لیے تیار ہے۔ دونوں ملکوں میں جنگوں کے بعد عوام کے درمیان بھی سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا جنگ شروع ہو گئی ہے۔ 26 فروری 2026 کی جاری کی گئی ہینڈ آؤٹ ویڈیو سے اس سکرین گریب میں ننگرہار، افغانستان کے طور پر دیے گئے مقام پر ایک سڑک پر فوجی گاڑیاں چل رہی ہیں (افغان وزارت دفاع بذریعہ روئٹرز) اسلام آباد کا دعویٰ ہے کہ کابل دوحہ معاہدے کے وعدوں کے برعکس کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے دہشت گردوں کی سرپرستی کرتا ہے۔ واضح رہے کہ ٹی ٹی پی کی کاروائیوں میں 30 ہزار سے زیادہ پاکستانی مارے گئے ہیں جبکہ حکومتی دعوؤں کے مطابق ملک کو 100 ارب ڈالرز سے زیادہ کا نقصان بھی ہوا ہے۔ لیکن کیا وجہ صرف ٹی ٹی پی ہے؟ کچھ ناقدین کا خیال ہے کہ اسلام آباد کا زیادہ غصہ کابل اور نئی دہلی کے بڑھتے ہوئے قریبی تعلقات پر ہے، جو پاکستان کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے مترادف ہے۔ پاکستانیوں کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے افغانستان کے لیے ہمیشہ قربانی دی۔ پاکستان روسی مداخلت کے بعد دنیا کی دوسری سپر طاقت کے خلاف کھڑا ہوا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران بھی طالبان کی چھپ کر مدد کرتا رہا، جس کی وجہ سے نیٹو کی پسپائی ممکن ہوئی۔ پاکستان میں یہ تاثر ہے کہ چونکہ انڈیا کو پاکستان کے ساتھ حالیہ جنگ میں ہزیمت اٹھانی پڑی، اس لیے وہ اس شکست کا بدلہ افغان طالبان کی سرپرستی کر کے لے رہا ہے، جو پاکستانی طالبان کے سرپرست بنے ہوئے ہیں۔ تاہم ایک رائے یہ بھی ہے کہ پاکستان اپنی غلط خارجہ پالیسی کا خمیازہ بھگت رہا ہے۔ پہلے پاکستان نے قوم پرست پختونوں اور دیگر افغانوں کو 60 اور 70 کی دہائیوں میں ناراض کیا۔ افغان جہاد کے بعد گلبدین حکمت یار کی سرپرستی کر کے دوسرے مجاہدین گروپوں سے ناراضگی مول لی اور پھر 90 کی دہائی میں طالبان کی حمایت کر کے تاجک، ازبک، ہزاروں اور دوسری قومیتوں سے دشمنی پالی اور اب افغانستان میں آخری پاکستان کے حمایتی گروپ یعنی افغان طالبان سے بھی پاکستان نے دشمنی کر لی۔ ماہرین کا خیال ہے کہ پاکستان اور افغانستان دونوں کی معیشت زبوں حالی کا شکار ہے اوربھرپور جنگ کی صورت میں معیشت مزید تباہی سے دوچار ہوگی۔ افغانستان میں ایک کروڑ سے زیادہ لوگ بین الاقوامی برادری کی امداد پر انحصار کرتے ہیں جبکہ پاکستان کی معیشت بھی مسلسل گراوٹ کا شکار ہے۔ سرحد پر کشیدہ صورت حال کی وجہ سے سرحدی تجارت بری طرح متاثر ہوئی ہے جس سے دونوں ملکوں میں لاکھوں کی تعداد میں لوگ متاثر ہو رہے ہیں۔ دونوں ممالک میں لسانی اور فرقہ وارانہ کشیدگی کسی نہ کسی سطح پر موجود ہے۔ اس کشیدگی کی وجہ سے اگر افغانستان میں صورت حال بگڑتی ہے تو ہزارہ، تاجک، ازبک اور دوسرے غیر پشتون طالبان کی پشتون حکومت کے خلاف سر اٹھا سکتے ہیں۔ پاکستان کے دو صوبوں میں پہلے ہی عسکری تنظیمیں کاروائیاں کر رہی ہیں اورکشیدگی کی صورت میں بلوچستان میں کاروائیوں میں تیزی آ سکتی ہے۔ افغانستان سے کشیدگی کی صورت میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے حملے مزید سخت ہو سکتے ہیں اور اس بار خیبر پختونخوا کے علاوہ پنجاب اور سندھ کے علاقے بھی ٹارگٹ ہو سکتے ہیں۔ پاکستان کے مدارس نے ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ کو کھل کے سپورٹ کیا ہے۔ پاکستان انڈیا جنگ میں انہوں نے انڈیا کے خلاف غیر معمولی جوش و جذبہ دکھایا لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر افغانستان سے کوئی بڑی جنگ ہوتی ہے تو کیا یہ مدارس، جو افغان طالبان کی جنم بھوی ہیں، پاکستان کی ریاست کے ساتھ کھڑے ہوں گے؟ پاکستان کے 36 ہزار رجسٹرڈ مدارس میں 18 ہزار سے زیادہ دیوبندی مکتبہ فکر سے ہیں جبکہ ہزاروں کی تعداد میں غیر رجسٹرڈ مدارس بھی ہو سکتے ہیں۔ 1996 میں جب طالبان برسر اقتدار آئے تھے تو ان سارے مدارس نے ان کا خیر مقدم کیا تھا۔ اس کے علاوہ تبلیغی جماعت اور کئی دیوبندی تنظیموں کی ہمدردیاں بھی تاریخی طور پر افغان طالبان کے ساتھ رہی ہیں۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کسی بھرپور جنگ کی صورت میں ان کی یہ ہمدردیاں اب اسلام آباد کے ساتھ ہوں گی یا کابل کے ساتھ؟ دونوں ممالک میں کشیدگی کو جنگ کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکتا۔ ماضی میں امریکی حملے کے بعد پاکستان کے پاس یہ موقع تھا کہ وہ اپنے ملک اور افغانستان کے اندر انتہا پسندی کو بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر ختم کرے لیکن پاکستان کے ڈبل گیم نے اس موقعے کو ضائع کر دیا ہے۔ پاکستان کے امریکہ سے خوشگوار تعلقات ہیں، جو افغان طالبان کو 21 ارب ڈالرز سے زیادہ دے چکا ہے۔ اسلام آباد کو امریکہ اور بین الاقوامی برادری سے مل کر افغانستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف بھرپور مہم چلانی چاہیے اور وہاں منصفانہ الیکشن کا مطالبہ کرنا چاہیے۔ افغان طالبان کے دقیانوسی خیالات کے پیش نظر اس بات کو دعوے سے کہا جا سکتا ہے کہ کوئی بھی ذی شعور افغان ان کو ووٹ دینے کے لیے تیار نہیں ہوگا یا بہت محدود پیمانے پر ان کو ووٹ پڑیں گے۔ اگر افغان طالبان کے نظریاتی استاد پاکستان میں الیکشن لڑ سکتے ہیں تو وہ ایسا کیوں نہیں کر سکتے۔ پاکستان کے اس مطالبے کو پوری دنیا میں حمایت مل سکتی ہے۔ پاکستان کو سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ مل کر افغان طالبان پر دباؤ ڈالنا چاہیے کہ وہ اپنے قرون وسطی کی پالیسی کو خیرباد کہہ کر جدید دور میں داخل ہوں۔ سعودی عرب اس حوالے سے بہت معاونت کر سکتا ہے کیونکہ ریاض اب خود جدت پسندی کی طرف گامزن ہے اور انتہا پسندی کی ہر محاذ پر مخالفت کر رہا ہے۔ روس، چین اور وسطی ایشیا کو اس بات پر قائل کیا جانا چاہیے کہ ٹی ٹی پی کی سرپرستی پورے خطے میں عسکریت پسندوں کے لیے حوصلہ افزائی کا باعث ہوگی۔ اندرونی طور پر پاکستان کو جمعیت علما اسلام کے ذریعے حافظ گل بہادر اور دوسرے گروپس کو بات چیت کے ذریعے جمہوری سیاست پر قائل کرنا چاہیے۔ حافظ گل بہادر سے ماضی میں بھی پاکستان نے معاہدے کیے ہیں اور اب بھی پاکستان فضل الرحمٰن کی جماعت کے ذریعے ایسا کر سکتا ہے، جس سے گل بہادر کے قریبی تعلقات ہیں۔ ہتھیار ڈالنے والے عسکریت پسندوں کے لیے عام معافی کا اعلان کرنا چاہیے۔ بلوچستان میں بھی عسکریت پسندی کو ختم کرنے کے لیے مصالحت کا عمل شروع کیا جانا چاہیے تاکہ کابل اس کو استعمال نہ کر سکے۔ نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ پاکستان افغانستان سرحدی جھڑپیں پاک افغان تعلقات کشیدگی طالبان حالیہ جھڑپوں کے بعد کئی حلقوں میں یہ بات زیر بحث سے کہ آخر دونوں برادر اسلامی ملک بار بار تصادم کا راستہ کیوں اختیار کرتے ہیں اور یہ کہ اس کو روکنے کے لیے کیا کرنا چاہیے۔ آغا عبدالستار ہفتہ, فروری 28, 2026 - 08:15 Main image:
22 فروری 2026 کو افغان صوبہ ننگرہار میں رات گئے پاکستانی فضائی حملے کے بعد طالبان سکیورٹی اہلکار امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں (اے ایف پی)
نقطۂ نظر type: news related nodes: اب تک 274 افغان طالبان اہلکار، 12 پاکستانی فوجی جان سے گئے: ترجمان فوج پاکستان، افغانستان کشیدگی: اسحٰق ڈار کی سعودی ہم منصب سے گفتگو سرحد پر کشیدگی: طورخم بارڈر پر انڈپینڈنٹ اردو کے نامہ نگار نے کیا دیکھا؟ افغانستان سے خیبرپختونخوا کے مختلف شہروں پر ڈرون حملے ناکام: وزیر اطلاعات SEO Title: پاکستان افغان کشیدگی اور ماضی کی غلطیاں، اب کیا کرنا چاہیے؟ copyright: show related homepage: Hide from Homepage