امریکہ اور ایران کے درمیان جو بھی اختلافات ہیں اور ان کے درمیان ایک بہت بڑی خلیج ہے، یہ صرف ڈونلڈ ٹرمپ نہیں ہیں جو حکومت کی تبدیلی کے لیے جنگ چھیڑ رہے ہیں اور میدان جنگ میں اپنی افواج کے لیے ’خدا کی مدد‘ مانگ رہے ہیں۔ آیت اللہ کی حکومت اپنے تمام اقدامات کو مذہبی دلائل سے درست قرار دیتی ہے لیکن واضح طور پر اس کی ایک سٹریٹجی ہے کہ مشرق وسطیٰ میں امریکی افواج کا جانی نقصان کیا جائے تاکہ امریکی عوام کی رائے کو صدر ٹرمپ کے خلاف کیا جا سکے۔ ایران کی سکیورٹی سروسز پر امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کا مقصد اس وسیع ملک میں معاشرے کو کنٹرول کرنے کی اس کی صلاحیت کو مفلوج کرنا ہے، جتنا کہ جوابی کارروائی کرنے کی ایرانی میزائلوں کی کسی بھی صلاحیت کو ’نیست و نابود‘ کرنا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ خود کو ’آزاد‘ کرانے کے لیے ایک ’آخری موقع‘ سے فائدہ اٹھائیں۔ یہ ہفتے کی صبح ڈونلڈ ٹرمپ کا پہلا اچانک حملہ تھا۔ لیکن ان کا دوسرا ہدف امریکی کانگریس اور عوام کی رائے تھی۔ اگرچہ امریکی صدر نے ایران کے خلاف بیان بازی تیز کر دی تھی اور ایران کی پہنچ کے اندر اپنی ’بڑی، خوبصورت‘ بحریہ اور فضائی طاقت کو مضبوط کر لیا تھا، ٹرمپ کے مذاکرات کار کل تک ایرانی سفارت کاروں اور عمانی ثالثوں سے بات چیت کر رہے تھے۔ عراق کے ساتھ جنگوں سے قبل 1991 اور 2003 میں صدر بش کے برعکس، صدر ٹرمپ نے، یہاں تک کہ اپنی سٹیٹ آف دی یونین تقریر میں بھی، اپنے ارادوں کا واضح بیان نہیں دیا اور نہ ہی کوئی الٹی میٹم بھیجا۔ کیا امریکی عوام ٹرمپ کے پیچھے متحد ہوں گے یا وہ انہیں صدر بش کے انداز کی ایک اور اپنی مرضی سے مسلط کردہ جنگ سمجھیں گے؟ 28 فروری 2026 کو مقبوضہ بیت المقدس کے آسمان پر اسرائیل کے آئرن ڈوم میزائل دفاعی نظام سے داغے گئے راکٹ کا نشان دیکھا جا رہا ہے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق اس نے یران کی جانب سے داغے گئے میزائلوں کو مار گرایا (اے ایف پی) مستقل مزاجی کبھی بھی ٹرمپ کی خصوصیت نہیں رہی۔ 1980 اور 1990 کی دہائیوں میں ایک انتہائی جنگجو سے لے کر ’امریکہ فرسٹ‘ کے امن پسندوں کی آواز بننے تک، ان کے خیالات میں بہت تنوع رہا ہے۔ جب انہوں نے ایک امیدوار کے طور پر سیاسی میدان میں قدم رکھا، تو براک اوباما پر ایران کے ساتھ جنگ کی سازش کا الزام لگایا۔ لوگوں نے جلد ہی 2013 سے ٹرمپ کی ایک ٹویٹ ڈھونڈ نکالی (ہمیشہ ایک ٹویٹ موجود ہوتی ہے) جس میں ٹرمپ نے سخت تنقید کرتے ہوئے پیش گوئی کی تھی کہ اوباما ’ایران پر حملہ کریں گے کیونکہ وہ مناسب طریقے سے بات چیت کرنے کے قابل نہیں ہیں، ان میں مہارت نہیں ہے۔‘ اوباما پر ایران سے بات نہ کرنے کی مذمت کرنے کے بعد، ٹرمپ نے 2015 میں ایران کے ساتھ اپنے پیشرو کے جوہری معاہدے (جے سی پی او اے) پر شدید غصے کا اظہار کیا۔ بطور صدر، ٹرمپ اس معاہدے سے دستبردار ہو گئے اور شرائط کی پابندی نہ کرنے پر ایران کی مذمت کی۔ لیکن صدر ٹرمپ دوم، صدر ٹرمپ اول سے بہت مختلف انسان ہیں۔ وہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی تقریباً بغیر خون بہائے گرفتاری کے بعد غرور کے ایک آمیزے، ان کا خیال ہے کہ امریکی افواج کچھ بھی کر سکتی ہیں اور اس یقین سے کارفرما ہیں کہ فتح ان کے ملکی ناقدین کو خاموش کر دے گی۔ مزید برآں، ٹرمپ کے قریبی حلقے میں اب اسرائیل کا اثر و رسوخ بہت وسیع ہے۔ لیکن جارج ایچ ڈبلیو بش کو 1991 میں عراق میں صدام حسین کو شکست دینے کا کوئی انتخابی فائدہ نہیں ملا تھا اور رپبلکنز کو 2003 کے برسوں بعد تک ان کے بیٹے کی عراق جنگ کھنچنے کی وجہ سے بھاری نقصان اٹھانا پڑا تھا۔ اب ایرانی حکومت کو یہ امید ہے کہ اگرچہ ڈونلڈ ٹرمپ نے بالآخر جنگ کا فیصلہ کر لیا ہے، ان کا اپنا ’ماگا بیس‘ یعنی میک امریکہ گریٹ اگین کا نعرہ ’اپنے لڑکوں‘ کو زمینی جنگ میں مرنے کے لیے بھیجنے کے سخت خلاف ہے اور اس میں کوئی غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے، امریکی فوج کے رضاکار بڑی تعداد میں ٹرمپ کے مضبوط گڑھ والے علاقوں سے آتے ہیں۔ اس کے علاوہ، ایران کو امید ہے کہ ایپسٹین سکینڈل، جس میں اس بچوں کے خلاف جرائم کرنے والے شخص کے ساتھ ٹرمپ کے ملوث ہونے کی افواہیں ہیں، ان کے اختیار کو کمزور کر دے گا اور ڈیموکریٹس ان کے خلاف متحد ہو جائیں گے، خاص طور پر اگر جنگ طویل ہو جاتی ہے۔ نومبر میں مڈ ٹرم انتخابات سر پر ہونے کے ساتھ، ٹرمپ کا ملکی اختیار داؤ پر لگا ہوا ہے۔ یہ واضح ہے کہ ایران میں بغاوت کے لیے امریکہ اور اسرائیل کی کالز سے یہ امیدیں ظاہر ہوتی ہیں کہ وہاں کے باغی زمینی فوج کی ضرورت سے بچا لیں گے۔ یہ اقدام عام ایرانیوں کے ہاتھ میں چھوڑ دیتا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈے (روئٹرز) اس سلسلے میں، یہ عجیب لگتا ہے کہ یہ اتنی تاخیر سے ہوا ہے۔ چھ ہفتے قبل، ان ہی ایرانیوں کو ٹرمپ نے بتایا تھا کہ ’مدد راستے میں ہے‘ جب وہ سڑکوں پر نکلے تھے۔ اس کے بعد ہونے والا کریک ڈاؤن ظالمانہ تھا، جس میں حکومت کے ہاتھوں کم از کم 6,000 (لیکن اندازاً 30,000 تک ہیں) لوگ مارے گئے۔ کیا اب وہ پورے ملک میں سرکاری عمارتوں پر قبضہ کرنے کے قابل ہیں جب کہ انٹرنیٹ کی تقریباً مکمل بندش نافذ ہے اور دباؤ اتنا مکمل رہا ہے؟ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان بھی ایک خلیج ہے۔ ٹرمپ ایرانیوں کو ایک واحد قوم کے طور پر مخاطب کرتے ہیں جب کہ نتن یاہو ایران کے اقلیتی نسلی گروہوں کے پورے سلسلے سے اپیل کرتے ہیں۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ اسرائیل کا ہدف ایران کو اس کے اجزا میں تقسیم کرنا ہے، جب کہ ٹرمپ کو امید ہے کہ وہ ایران کے حکمرانوں کو امریکہ کے مخالفین سے اس کے شراکت داروں میں بدل دیں گے، جیسا کہ جنوری میں وینزویلا میں ہوا تھا۔ ہو سکتا ہے کہ پینٹاگون اس بات پر نظر رکھے ہوئے ہو کہ موجودہ آپریشن کی مثال عراق سے کم اور 1999 کی کوسووو جنگ سے زیادہ ملتی جلتی ہے۔ اس وقت، سربیا کے صدر میلوسووچ نیٹو کی 78 روزہ فضائی بمباری میں بچ گئے تھے، لیکن اکتوبر 2000 میں سڑکوں پر ہونے والی بغاوت کے نتیجے میں اقتدار سے ہاتھ دھو بیٹھے، لیکن اس میں بھی 15 مہینے لگ گئے تھے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے پہل کی ہے اور ایک فوری جیت پر اپنی صدارت داؤ پر لگا دی ہے۔ ان کے فضائی حملوں پر ایرانیوں کا ردعمل امریکی صدر کے ساتھ ساتھ آیت اللہ کی حکومت کی قسمت کا فیصلہ کرے گا۔ نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایران امریکہ اسرائیل ایران اسرائیل کشیدگی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بن یامین نتن یاہو کیا امریکی عوام ٹرمپ کے پیچھے متحد ہوں گے یا وہ انہیں صدر بش کے انداز کی ایک اور اپنی مرضی سے مسلط کردہ جنگ سمجھیں گے؟ مارک آمنڈ اتوار, مارچ 1, 2026 - 07:45 Main image:
28 فروری 2025 کو واشنگٹن ڈی سی میں وائٹ ہاؤس کے قریب لی گئی اس تصویر میں ایک سمارٹ فون کی سکرین پر امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ٹروتھ سوشل پر کی گئی ایک پوسٹ نظر آ رہی ہے، جس میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت کا اعلان کیا گیا ہے (اے ایف پی)
نقطۂ نظر type: news related nodes: جنیوا مذاکرات سے قبل ٹرمپ کے دباؤ کے خلاف ایران کا سخت ردِعمل امریکہ، اسرائیل حملے کے بعد ایران کی جوابی کارروائی، آبنائے ہرمز میں جہازوں کا داخلہ بند ایران پر امریکی حملہ، اصل ہدف کیا ہے؟ ایران پر حملہ: پی آئی اے سمیت کئی ایئر لائنز کی مشرق وسطیٰ کے لیے پروازیں معطل SEO Title: ایک اور جنگ چھیڑنے پر امریکی ٹرمپ کو معاف نہیں کریں گے copyright: IndependentEnglish origin url: https://www.independent.co.uk/voices/donald-trump-iran-ayatollah-strikes-israel-b2929423.html show related homepage: Hide from Homepage