خونچکاں ایران!!! سہیل وڑائچ

شاعرِ انقلاب جوش ملیح آبادی نے ایران کے حالات پر جو کہا تھا وہ آج وہاں ہو رہا ہے۔ یہی ایران ہے جو خونچکاں ہے جہاں تھا کبھی اک جہانِ آفرین مشرق اور مغرب کی ہزاروں سالہ آویزش میں ایران مشرق کی علامت اور یونان اور اس کے اتحادی مغرب کی علامت تھے۔ سکندر اعظم 326 ق م میں ایران پر اسلئے حملہ آور ہوا تھا کہ وُہ یونان کی ماضی کی شکستوں کا ایران سے بدلہ لینا چاہتا تھا۔ پاکستان اور افغانستان کے جس حصّے کو سکندراعظم نے فتح کیا تو وُہ رجواڑوں پر مشتمل تھا مگر سکندراعظم دریائے آمو،... ​ Read more