اس تنخواہ میں گزارا کیسے ممکن ہے؟

جامعات میں کام کرنا بہت سے لوگوں کا خواب ہوتا ہے۔ بین الاقوامی معیار کے مطابق جامعات میں صرف پی ایچ ڈی ہی درس و تدریس کر سکتے ہیں۔ ایک پی ایچ ڈی ڈگری چار سے پانچ سال میں مکمل ہوتی ہے۔ اتنے سالوں کی محنت کے بعد جب پی ایچ ڈی ہولڈر جامعات میں ملازمت حاصل کرتے ہیں تو انہیں کتنی تنخواہ ملتی ہے؟ آپ یہ جان کر شاید حیران ہوں کہ ان کی تنخواہیں اتنی زیادہ نہیں ہوتیں۔ عموماً ان کے انڈر گریجویٹ کے ساتھی اس وقت ان سے کئی گنا زیادہ پیسے کما رہے ہوتے ہیں۔ پاکستان میں اعلیٰ تعلیمی ادارے ہائر ایجوکیشن کمیشن کی پالیسیوں کے تحت کام کرتے ہیں۔ ایچ ای سی ہی پروفیسروں کی کم از کم اور زیادہ سے زیادہ تنخواہ کا تعین کرتی ہے۔ جامعات اسی مقررہ معیار کے اندر رہتے ہوئے پروفیسروں کو تنخواہ کی پیشکش کرتی ہیں۔ ایچ ای سی کی 2021 کی نظرِثانی شدہ پالیسی کے مطابق ٹینیور ٹریک سسٹم کے تحت بھرتی ہونے والے اسسٹنٹ پروفیسر کے لیے کم از کم تنخواہ کا پیکج 175,500 روپے ہے، جو 356,475 روپے تک پہنچ سکتا ہے۔ یہ پیکج 15 مراحل میں تقسیم ہے۔ ایسوسی ایٹ پروفیسر کے لیے کم از کم پیکج 263,250 روپے سے شروع ہو کر زیادہ سے زیادہ 493,590 روپے تک جا سکتا ہے۔ پروفیسر کے معاملے میں کم از کم تنخواہ 394,875 روپے ہے جو بڑھتے ہوئے 684,450 روپے تک پہنچ سکتی ہے۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) اسی نوٹیفکیشن کے مطابق بی پی ایس سکیل کے تحت کام کرنے والی فیکلٹی کی تنخواہ اس ڈھانچے سے 35 فیصد کم ہونی چاہیے۔ اب آپ ان کی تنخواہوں کا حساب خود لگا لیں۔ یہ صورت حال صرف پاکستان تک محدود نہیں ہے، دنیا بھر میں اکیڈیمیا سے وابستہ افراد کی تنخواہیں عموماً اسی نوعیت کی ہیں۔ مجھے ایک بار میری پی ایچ ڈی سپروائزر نے اپنے گھر کھانے پر مدعو کیا۔ باتوں کے دوران انہوں نے بتایا کہ وہ صبح آٹھ بجے اپنا کام شروع کرتی ہے اور اکثر رات دو بجے تک مصروف رہتی ہیں۔ اس قدر کام کے بعد بھی وہ اپنی تنخواہ سے اپنے اخراجات پورے نہیں کر سکتیں۔ ان کے تین بچے تھے۔ ایک بیٹا جو تقریباً آٹھ سال کا تھا اور دو جڑواں بیٹیاں، جو اس وقت ایک سال کی تھیں۔ انہوں نے دونوں بیٹیوں کی دیکھ بھال کے لیے دو ملازمائیں رکھی ہوئی تھیں جبکہ گھر میں ایک باورچن بھی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ بیٹیوں کی دیکھ بھال پر مامور ہر ملازمہ کی تنخواہ ان کی اپنی تنخواہ کے برابر ہے اور باورچن کی تنخواہ ان کی تنخواہ سے چند ہزار یوآن کم ہے۔ ان کے شوہر کا لمبا چوڑا کاروبار تھا۔ گھر کے اخراجات اسی کاروبار سے نکلتے تھے کیونکہ پروفیسر کی اپنی تنخواہ تو ایک ملازمہ کی تنخواہ ادا کرتے ہی ختم ہو جاتی تھی۔ میری سپروائزر نے پی ایچ ڈی کے بعد برطانیہ سے پوسٹ ڈاکٹریٹ بھی کیا تھا اور وہ 90 کی دہائی کے آخر سے میری چینی جامعہ میں ملازمت کر رہی تھیں۔ وہ جامعہ میں یورپیئن ریسرچ سینٹر بھی چلا رہی تھیں اور متعدد میڈیا اداروں کے تعاون سے چینی ریڈیو پر تحقیق بھی کر رہی تھیں۔ اس کے باوجود وہ اپنے اخراجات کے لیے اپنے شوہر پر انحصار کرتی تھیں جن کے پاس صرف انڈرگریجویٹ ڈگری تھی۔ دنیا بھر میں پی ایچ ڈی فیکلٹی کی صورت حال کم و بیش ایسی ہی ہے۔ اکیڈیمیا میں تنخواہیں جتنی محدود ہیں، کام کا بوجھ اتنا ہی زیادہ ہے۔ ہفتے میں تین سے چار لیکچرز، درجنوں طلبہ سے ملاقاتیں، ڈیپارٹمنٹل میٹنگز اور مختلف انتظامی ذمہ داریوں کے بعد انہیں دفتری اوقات کے بعد اپنی تحقیق پر بھی کام کرنا پڑتا ہے۔ کبھی کبھار کسی تحقیق کے لیے مالی معاونت مل جاتی ہے، وہ بھی طویل خط و کتابت اور مہینوں کی کوشش کے بعد۔ اس تحقیق کی اشاعت ایک الگ مرحلہ ہے۔ اکثر جرنلز محققین کو معاوضہ نہیں دیتے بلکہ اشاعت کے لیے فیس طلب کرتے ہیں، جو بعض اوقات ہزاروں ڈالر تک ہوتی ہے۔ کچھ جامعات یہ فیس ادا کرتی ہیں جبکہ بعض صورتوں میں پروفیسروں کو اس کے لیے کسی اور ادارے سے مدد حاصل کرنا پڑتی ہے۔ جامعات فیکلٹی کو زیادہ تحقیق کرنے کی ترغیب کے لیے بعض اوقات مالی انعام بھی دیتی ہیں جو جرنل کیٹیگری اور تحقیق میں ان کے کردار پر منحصر ہوتا ہے۔ لیکن عمومًا یہ رقم چند ہزار تک محدود ہوتی ہے۔ کئی پروفیسر موسم گرما کی تعطیلات میں اضافی کورس پڑھا کر تھوڑے سے پیسے کماتے ہیں۔ کچھ جامعات اپنی فیکلٹی کو دیگر جامعات میں وزٹنگ لیکچر دینے کی اجازت دیتی ہیں۔ ان کی فیکلٹی دیگر جامعات میں بھی ایک سے دو کورس پڑھاتی ہیں۔ تاہم بہت سی جامعات اپنی فیکلٹی کو کہیں اور کام کرنے کی اجازت نہیں دیتیں کیونکہ اس سے فیکلٹی پڑھانے میں ہی اس قدر مصروف ہو جاتی ہے کہ تحقیق نہیں کر پاتی۔ ایچ ای سی اور جامعات کو فیکلٹی کی تنخواہوں پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔ موجودہ مہنگائی کے دور میں فیکلٹی پی ایچ ڈی اور وسیع تجربے کے باوجود محدود آمدن میں کیسے گزارا کرے؟ ان کی تعلیم اور تجربے کے مطابق تنخواہی ڈھانچہ بہتر بنایا جائے تاکہ وہ اپنے اہلِ خانہ کو ایک معقول اور آرام دہ زندگی فراہم کر سکیں اور اپنے اہلِ خانہ کے لیے وقت نکال سکیں نہ کہ جامعہ کے بعد کا زیادہ تر وقت لیپ ٹاپ کے سامنے تحقیق اور مقالے لکھنے میں صرف کریں۔ جامعات کو تحقیق کے لیے مناسب سہولیات فراہم کرنی چاہییں اور تحقیق چھپوانے پر فیکلٹی کو بھاری انعام دینا چاہیے۔ ساتھ ہی اکیڈیمک دنیا کو جرنلز پر دباؤ ڈالنا چاہیے کہ وہ مفت تحقیق لے کر منافع کمانے کے بجائے فیکلٹی کو بھی اس معاوضے میں حصہ دار بنائیں۔ پروفیسروں کو مناسب معاوضہ ملنے سے وہ اپنے کام پر بہتر توجہ دے سکیں گے اور اپنی صلاحیتیں ملک کی علمی ترقی اور تحقیقاتی معیار کو بلند کرنے میں مؤثر طریقے سے استعمال کر سکیں گے۔ نوٹ: یہ تحریر بلاگر کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ جامعات استاد تنخواہیں اکیڈیمیا میں تنخواہیں جتنی محدود ہیں، کام کا بوجھ اتنا ہی زیادہ ہے۔ ہفتے میں تین سے چار لیکچرز، درجنوں طلبہ سے ملاقاتیں، ڈیپارٹمنٹل میٹنگز اور مختلف انتظامی ذمہ داریوں کے بعد دفتری اوقات کے بعد اپنی تحقیق پر بھی کام کرنا پڑتا ہے۔ تحریم عظیم بدھ, مارچ 4, 2026 - 08:45 Main image:

4 ستمبر 2013 کو لی گئی اس تصویر میں پاکستانی طلبہ اسلام آباد میں واقع قائداعظم یونیورسٹی میں ایک استاد سے لیکچر لینے میں مصروف ہیں (عامر قریشی / اے ایف پی)

بلاگ type: news related nodes: جامعات جین زی کے لیے اپنے معیارات کم کر رہی ہیں جامعات میں اساتذہ کی کارکردگی کیسے جانچی جائے؟ جامعات اکیڈیمیا اور انڈسٹری کے درمیان خلیج کیسے کم کر سکتی ہیں؟ جامعات میں استاد اور طالب علم کا رشتہ کیوں بگڑ رہا ہے؟ SEO Title: اس تنخواہ میں گزارا کیسے ممکن ہے؟ copyright: show related homepage: Show on Homepage