ادھر دوڑ لگی ہوئی ہے :خالد مسعود خان

کبھی کبھی وہ کالم لکھنا پڑتا ہے جس کو لکھنے پر دل راضی نہیں ہوتا مگر پھر بھی لکھنا پڑتا ہے۔ محض دل کی بھڑاس نکالنے کے لیے‘ خود کو تسلی دینے کے لیے اور اپنی بے بسی کو راستہ دینے کے لیے۔ تاہم اس قسم کا کالم لکھتے ہوئے جن پابندیوں اور ضابطوں کا خیال رکھنا پڑتا ہے ان کے باعث دل کی بھڑاس بھی پوری طرح نہیں نکل پاتی۔ امریکی کاسہ لیسی میں مبتلا امت مسلمہ کے حکمرانوں‘ تیل کی دولت سے لدے پھندے برادر اسلامی ممالک اور مقدس عماموں والے بادشاہوں کو جو کچھ کہنے کو دل کرتا ہے وہ سب کچھ سوشل میڈیا... ​ Read more